28

بھارتی ٹماٹر کی بندش اور ہمارے منافع خور تاجر

بھارتی ٹماٹر کی بندش اور ہمارے منافع خور تاجر
ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی لیکن ہمارے ناجائز منافع خور فو ج سے زیادہ حرکت میں ہیں
جنگ کے بادل چھٹ نہ چکے ہوتے تو اتنا نقصان بھارتی فوج نہ دیتی جتنا ہمارے تاجر دیتے
وطن کی محبت سے عاری تاجروں کا ایک ہی مقصد عوام کی چمڑی ادھیر کر بس جلدی سے عمرہ پر جانا
ہمیں کچھ کچھ یا دبھی ہے کچھ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا 71کی جنگ میں اور کچھ بزرگوں سے سنا ہم نے65کی جنگ کے حوالے سے کہ جب بھی دشمن نے ہمیں للکارہ ہماری پوری قوم تمام اختلافات بھلا کر سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی ساتھ ساتھ ہماری ماووں بہنوں اور بیٹیوں نے اپنے ہاتھوں سے کھانے پکا کر اپنے فوجی جوانوں کو دیئے 71کی جنگ میںمجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر سے تھوڑی دور باغ میں فوجی کیمپ تھے جہاں میں خود جا کر فوجی جوانوں کو اپنی والدہ کے ہاتھ کا پکا کھانا دیا کرتا تھا ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ پوری قوم ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ چلتی تھی ہمارے لکھاریوں نے تاریخی ملی نغمے لکھے جبکہ ملکہ ترنم نورجہاں سے سمیت تمام گلوکاروں نے فوجی جوانوں اور قوم کا جذبہ حب الوطنی بلند رکھنے کے لئے اپنے آواز کے جادو سے سب کو جگائے رکھا ۔ ہمارے صنعتکاروں تاجروں اور مخیر حضرات نے فلاح و بہبود کے وہ جذبے دکھائے کہ تواریخ رقم ہوئیں لیکن ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی بلکہ جنگ کے بادل کسی حد تک چھٹ چکے ہیں لیکن صرف بھارتی ٹماٹر مارکیٹ سے غائب ہوا ہے تو ہمارے تاجروں نے آج سے ایک ہفتہ قبل بیس روپے بکنے والے ٹماٹر کا ریٹ 180روپے کلو تک کر دیا ہے

اور ناجائیز منافع فروشوں نے چہ جائیکہ اس موقع پر اپنے ٹماٹر کو مارکیٹ میں سستا کرتے تاکہ بھارت کو یہ پیغام جاتا کہ آپ کے ٹماٹر کے نہ آنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ الٹا قوم کو یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ بھارتی ٹماٹر کی اہمیت کتنی ہے ۔ پاکستان میں چلنے والی کوئی ایسی گاڑی نہیں جس میں بھارتی میوزک نا چل رہا ہو ایک ایسے وقت میں جب بھارت نے اپنے میدانوں میں لگی پاکستانی ستاروں کی تصاویر بھی ہٹا دی ہیں لیکن ہمارے مزاجوں پر ابھی تک جزبہ حب الوطنی نہیں اتر سکا کیونکہ وطن کی محبت سے عاری اس قوم کے تاجروںکا بس ایک ہی مقصد ہے کہ عوام کی چمڑی ادھیڑ کی انہوں نے عمرے پر جانا ہے
دوسری طرف سوشل میڈیا پر بیٹھی نوجوان نسل ایسی ایسی پوسٹیں کر رہی ہے جیسے جنگ صرف لفظوں سے ہی لڑی جانی ہے اور پوسٹوں کے سہارے ہی بھارت کو اتنا مظبوط پیغام جانا ہے کہ سب ڈھیر ہو جائینگے اگر ہمارے تاجر جو ناجائز منافع خوری کا کوئی موقع ہاتھ نہیںجانے دیتے ان کے ہاں اگر خدا نہ کرے ایک طویل جنگ کا ہی سامنا کرنا پڑ جائے تو اتنا نقصان ہمیں بھارت نہیں پہنچائے گا جتنا ہمارے تاجر پہنچائیں گے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ جنگ ہو نہیں رہی لیکن ہمارے تاجروں نے اپنا اصل روپ ضرور دنیا کو بتا دیا ہے کہ ہمارے میں جذبہ حب الوطنی کتنا ہے اور ہمیں قومی ذمہ داریوں کا کتنا احساس ہے جنگ ہو یا امن قوم کے رویوں سے دشمن پر اثر ہوتا ہے اور انہی رویوں سے قومیں ترقی کرتی ہیں اور دنیا میں اپنا مقام حاصل کرتی ہیں ایسے میں اس میں کوئی شک نہیں ہمارے وزیر اعظم کی تقریر اور ڈی جی آئی ایس پر آر کی پریس کانفرنس جبکہ امریکی صدر کے بیان بھارتی وزیر اعظم کے یو ٹرن والے بیان کے بعد جنگ کے بادل کسی حد تک چھٹ چکے لیکن قوم اور خاص طور پر ہمارے ناجائز منافع خوروں نے اپنی وطن سے محبت اور پانی اصلیت ضرور دکھا دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں