28

اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافے پر وزیر اعظم برہم

وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو بلا جواز قرار دے دیا۔

پنجاب اسمبلی میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اتحادی جماعتوں نے وزیراعلیٰ اور اسپیکر سمیت دیگر اراکین کی تنخواہوں میں دگنے اضافے کے لیے منگل کو ایک بل پیش کیا تھا جسے اگلے ہی دن بلا کسی تاخیر کے اپوزیشن کی غیرموجودگی میں منظور کرلیا گیا تھا۔

پنجاب اسمبلی میں بل کی منظوری کے بعد اب وزیراعلیٰ پنجاب کو 4 لاکھ 25 ہزار، صوبائی اسپیکر کو 2 لاکھ 60 ہزار اور اسمبلی کے اراکین کو فی کس ایک لاکھ 95 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اور مراعات کی مد میں ملیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی کے وزیر اعلیٰ سمیت اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ پنجاب اسمبلی کی جانب سے اراکین اسمبلی، وزرا خصوصاً وزیراعلیٰ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا فیصلہ سخت مایوس کن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خوشحال ہوجائے تو شاید یہ قابلِ فہم ہو مگر ایسے میں جب عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی وسائل دستیاب نہیں، یہ فیصلہ بالکل بلاجواز ہے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات و نشریات نے بھی پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ اس فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کی پالیسی سے متصادم قرار دیا۔

انہوں نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وزیر اعلیٰ اور پنجاب اسمبلی کے خود کو نوازنے کے اقدامات وزیر اعظم اور وفاقی حکومت کی پالیسیز سے متصادم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی پالیسی کا صریحاً مذاق اڑایا گیا ہے، اس پالیسی پر فوری نظرثانی کی جانی چاہیے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ ہاؤس وزیر اعظم اور وفاقی حکومت کی سادگی کی پالیسی کے حوالے سے اندھیرے میں ہیں، بصورت دیگر خود کو نوازنے کا ایسا شرمناک عمل کبھی نہ کیا جاتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں