28

’کرتارپور راہداری کے معاملے پر پاکستان، بھارت میں بعض امور پر اختلاف‘

کرتار پور راہداری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستانی وفد کے بھارتی حکام کے ساتھ اٹاری میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت سے مذاکرات بہت مثبت رہے، پاکستان اور بھارت کا 3 سال بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہونا ایک بڑی کامیابی ہے۔

بھارتی حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد واہگہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہدری کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان بعض امور پر اختلاف ہے تاہم 2 اپریل کو بھارت کے ساتھ دوبارہ مذاکرات ہوں گے، جس کے بعد معاملے کا حل نکل آئے گا۔

دوسری جانب مذاکرات کے حوالے سے پاک-بھارت مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ معاہدے کے ڈرافٹ پر ہونے والا پہلا اجلاس انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوا۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ بھارتی وفد کی قیادت بھارتی وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری ایس سی ایل داس نے کی جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف سے معاہدے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بحث ہوئی اور کرتارپور صاحب راہداری پر کام کا آغاز کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں اطراف سے راہداری کی تکنیکی اور دیگر تفصیلات پر ماہرانہ سطح پر بحث سامنے آئی۔

اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے حکام میں اگلی ملاقات واہگہ بارڈر پر 2 اپریل 2019 کو طے پائی ہے، جو 19 مارچ کو الائنمنٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے زیرو پوائنٹ پر تکنیکی ماہرین کے اجلاس کے بعد عمل میں آئے گی۔

قبل ازیں آج صبح مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد واہگہ کے راستے بھارت کے سرحدی علاقے اٹاری کے لیے روانہ ہوا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے واہگہ بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری یہ ملاقات کرتار پور سرحد کو کھولنے کے لیے ہے اور ہماری سوچ ہے کہ ایک شجر ایسا لگایا جائے کہ ہمسائے کے گھر پر بھی سایہ جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہم مذاکرات میں مثبت پیغام لے کر جارہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بھارت بھی قدم آگے بڑھائے گا‘۔

— فوٹو بشکریہ دفتر خارجہ ٹوئٹر اکاؤنٹ
— فوٹو بشکریہ دفتر خارجہ ٹوئٹر اکاؤنٹ

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بابا گرونانک دیو جی کا مزار سکھ برادری کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک-بھارت کشیدگی میں کمی خطے کے امن کے لیے ضروری ہے اور ساتھ ہی اُمید ظاہر کی کہ ’کرتارپور راہداری سے سکھ برادری کو سہولت اور دونوں ممالک کے درمیان امن قائم ہوگا‘۔

منصوبے کے آغاز اور تکمیل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کرتار پور منصوبے کا سنگ بنیاد 20 نومبر 2018 کو رکھا گیا تھا اور اس کی تکمیل نومبر 2019 میں ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بھارتی حکومت کی جانب سے کرتار پور معاہدے کی کوریج کے لیے پاکستانی صحافیوں کو ویزا نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ ’30 سے زائد بھارتی صحافیوں نے گزشتہ سال پاکستان میں کرتارپور کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کی تھی‘۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کرتارپور معاہدے کا پاکستان کی سرحد میں سنگ بنیاد 28 نومبر 2018 کو رکھا تھا جس میں دو بھارتی وزیر اور صوبائی وزیر نے بھی شرکت کی تھی۔

کرتارپور نارووال سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر پاک بھارت سرحد کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال گزارے تھے۔

21 جنوری 2019 کو پاکستان نے بھارت کو معاہدے کا حتمی ڈرافٹ پیش کیا تھا اور پاکستان کے وفد کی 14 مارچ کو بھارت دورہ اور اس کے بعد بھارتی وفد کے پاکستان کے دورے کی پیشکش کی تھی۔

6مارچ کو بھارت نے پاکستانی وفد کے 14 مارچ کو اٹاری دورے کی پیشکش کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں