28

مساجد پر حملہ: پاکستان سمیت متعدد ممالک کا اظہارِ مذمت

اسلام آباد: پاکستان نے نیوزی لینڈ کی 2 مساجد پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے اسے 11 ستمبر کے حملے کے بعد دنیا بھر میں پھیلنے والے مسلمان مخالف جذبات (اسلامو فوبیا) کا شاخسانہ قرار دیا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ہمارے موقف کی تائید کرتا ہے کہ ’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘۔

اس کے ساتھ ان گھناؤنے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے معصوم جانوں کے زیاں پر تعزیت بھی کی اور اہلِ خانہ سے ہمدری کا اظہار کیا۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ حملے میں کوئی پاکستانی تو نشانہ نہیں بنا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے نیوزی لینڈ میں موجود پاکستانیوں کی خیریت کے بارے میں جاننے کے لیے اہلِ خانہ کو پاکستانی ہائی کمیشن میں سید معظم شاہ سے رابطہ نمبر +64 21 779 495 پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔

جبکہ اس حوالے سے میڈیا معلومات کے حصول کے لیے اسلام آباد میں موجود ترجمان سے رابطہ کرنے کا کہا, ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہمارا ہائی کمیشن مقامی انتظامیہ سے رابطے میں ہے۔

بین الاقوامی ردِ عمل

ترکی کے صدر طیب اردوان نے بھی اس حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’اللہ متاثرین پر رحم کرے اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے‘۔

صدر طیب اردوان نے اس افسوناک واقعے پر مسلم دنیا سے تعزیت کی اور اسے اسلاموفوبیا کا نتیجہ قرار دیا۔

نیوزی لینڈ کی مساجد پر ہونے والے حملے کی مذمت سامنے آرہی ہے جس میں دنیا کی سب سے زیادہ مسلمان آبادی والے ملک انڈونیشیا نے بھی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار افسوس کیا۔

انڈونیشیا کی وزیر خارجہ ’ریٹنو مرسودی‘ کے مطابق حملے کے وقت 6 انڈونیشی النور مسجد میں موجود تھے جن میں سے 3 افراد فائرنگ سے محفوظ رہے جبکہ ہم دیگر 3 افراد کو تلاش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ویلنگٹن میں موجود انڈونیشیئن سفارتخانہ مقامی حکام کے تعاون سے ایک ٹیم کرائسٹ چرچ روانہ کردی، انہوں نے بتایا کہ کرائسٹ چرچ شہر میں مجموعی طور پر 330 انڈونیشی شہری موجود ہیں جس میں 130 طالبعلم ہیں۔

آسڑیلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد نے کیا، اس کے ساتھ انہوں نے حملہ آور کی آسٹریلوی شہری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی حکام اس حوالے تحقیقات کررہے ہیں۔

برطانوی سیکریٹری خارجہ جرمی ہنٹ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے مساجد میں ہونے والے حملوں پر نیوزی لینڈ کی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

اس کے علاوہ ملائیشیا کی سب سے بڑی حکومتی اتحادی جماعت نے اس حملے میں ایک ملائیشین شہری کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے انسانیت اور عالمی امن کے لیے سیاہ سانحہ قرار دیا۔

دوسری جانب بھارت کے آل انڈیا مسلم کونسل کے بانی کمال فاروقی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمان مخالف رجحان قرار دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں