16

منی لانڈرنگ کیس کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم

کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کرلی جبکہ ساتھ ہی آصف زرداری، فریال تالپور و دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت خارج کرنے کا حکم دے دیا۔

شہر قائد کی بینکنگ عدالت میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی، جہاں کیس میں نامزد انور مجید کے بیٹے نمر مجید، ذوالقرنین،علی کمال مجید عدالت میں پیش ہوئے۔

تاہم کیس کے ملزمان پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ، ان کی بہن فریال تالپور و دیگر ملزمان ابتدائی طور پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کی جانب سے وکیل فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت کی جانب سے 11 مارچ کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا اور قومی احتساب بیورو (نیب) کی مقدمہ منتقلی کی درخواست منظور کرلی۔

عدالت نے نیب کی درخواست پر کہا کہ منی لانڈرنگ کیس کو اسلام آباد منتقل کیا جائے۔

بینکنگ عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لے لی گئی جبکہ تمام ملزمان کی زر ضمانت بھی خارج کرنے کا حکم دے دیا۔

نیب کی درخواست پر عدالتی فیصلہ آتے ہی انور مجید کے صاحبزادے گرفتاری کے خوف سے عدالت سے روانہ ہوگئے۔

ادھرعدالتی فیصلے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری بینکنگ کورٹ پہنچے اور حاضری لگائی جبکہ احاطہ عدالت میں وکلا سے مشاورت بھی کی، تاہم اس دوران فریال تالپور پیش نہیں ہوئیں اور ان کے وکیل کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ بیمار ہیں اس لیے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی سے کیا فرق پڑے گا اور اس کا مقصد کیا ہے، اس بارے میں ججز اور ماہر وکلا ہی اپنی رائے دے سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ احتساب عدالت کو اختیار ہے کہ وہ ملزمان کے وارنٹ جاری کرے یا انہیں طلب (سمن) کرے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے پاس تفتیش کا اختیار موجود نہیں بلکہ گرفتاری کا اختیار ہے، اس صورتحال کے پیش نظر حکمت عملی طے کی جارہی ہے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا تھا کہ بینکنگ عدالت کی جانب سے مقدمہ منتقلی کی درخواست کے فیصلے کے خلاف ملزمان کے وکلا نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ملزمان کی عبوری ضمانتیں وہیں سے حاصل کی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں