25

نیوزی لینڈ: 2 مساجد میں دہشت گرد حملے سے 49 افراد جاں بحق

نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں نماز جمعہ سے قبل مسلح حملوں میں 49 افراد جاں بحق جبکہ 39 زخمی ہوئے۔

دونوں حملے ملک کے تیسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ میں ہوئے، پولیس نے ایک خاتون سمیت 4 حملہ آوروں کو گرفتا کیا۔

نیوزی لینڈ کی پولیس کے سربراہ مائیک بش نے بتایا کہ ڈینز ایونیو میں واقع مسجد میں 41 افراد، لین وُڈ مسجد میں 7افراد جبکہ ہسپتال منتقل کیے گئے زخمیوں میں سے ایک شخص کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں مائیک بش نے مزید کہا کہ مسجد میں فائرنگ کی زد میں آنے والے 40 زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

خیال رہے کہ جزیرہ نما نیوزی لینڈ کی مجموعی آبادی 42 سے زائد ہے جبکہ اس میں ایک فیصد یعنی 40ہزار کے قریب افراد مسلمان ہیں۔

مساجد پر حملوں میں ملوث افراد کے حوالے سے نیوزی لینڈ کی پولیس کے سربراہ مائیک بش کا کہنا تھا کہ 4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں ایک شخص پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے، جس کی عمر 20 سال ہے، اس نوجوان کو 24 گھنٹوں میں کرائس چرچ کی عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پولیس نے فوری طور پر حراست میں لیے گئے افراد کے حوالے سے مزید کسی قسم کی تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ حملہ آوروں نے یہ دہشت گردی کیوں کی۔

خیال رہے کہ حملہ آوروں کی مساجد جاتے ہوئے ہی کیمرے سے مکمل ویڈیو بنائی، جس میں حملے سے قبل سے لے کر فائرنگ اور بعد کی تمام صورتحال ریکارڈ ہوتی رہی، اور سوشل میڈیا پر یہ ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں۔

حملہ دہشت گردی قرار

اس سے قبل نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حملے کو دہشت گردی قرار دیا اور بتایا کہ 10 افراد لین ووڈ مسجد جبکہ 30 افراد ہیگلے پارک کے نزدیک ڈینز ایو کی مسجد میں جاں بحق ہوئے۔

پولیس نے علاقے کا گھیراؤ کر کے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی—فوٹو: اے پی
پولیس نے علاقے کا گھیراؤ کر کے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی—فوٹو: اے پی

انہوں نے ہلاکتوں اور 4 گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آوروں کی گاڑیوں میں 2 بم بھی منسلک تھے جنہیں ناکارہ بنادیا گیا۔

آسٹریلیا کے شہری بھی حملے میں ملوث

دوسری جانب آسٹریلین وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے واقعے بعد یہ بیان جاری کیا کہ نیوزی لینڈ میں گرفتار افراد میں آسٹریلیا کے شہری بھی شامل ہے۔

اسکاٹ موریسن نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا تاہم یہ واضح نہ ہو سکا کہ 4 میں سے کتنے حملہ آور آسٹریلیا سے تھے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم نے مزید بتایا کہ گرفتار افراد کا تعلق دائیں بازو کے انتہا پسند طبقے سے ہے۔

حملہ نماز جمعہ سے قبل ہوا

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے رپورٹ کیا کہ فائرنگ کا واقعہ نماز جمعہ کے وقت پیش آیا۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بھی نظر آرہا ہے کہ خواتین اور مرد مسجد میں نماز کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔

پولیس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے افراد میں کتنی خواتین، بچے اور مرد شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کرفیو نافذ کردیا۔

زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا—فوٹو:اے پی
زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا—فوٹو:اے پی

فائرنگ کی اطلاع ملنے پر پولیس نے علاقہ مکینوں کو بھی گھروں سے نہ نکلنے جبکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً پولیس کو دینے کی ہدایت کی۔

اس کے علاوہ خطرے کے پیش نظر نماز کی ادائیگی کے لیے لوگوں کو مساجد نہ جانے کا بھی کہا گیا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ہم اپنی بھرپور صلاحیت کے ساتھ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔

شہر کے تمام اسکول بند

پولیس کمشنر مائیک بش نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد حالات کے پیش نظر شہر کے تمام اسکول بند کر دیئے گئے۔

خبررساں اداروں کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ کرتے ہوئے ویڈیو بھی بنائی جسے پولیس حکام کی جانب سے دل دہلا دینی والی قرار دینے کے بعد شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

عینی شاہدین

وقوعہ کے عینی شاہد نے نیوزی لینڈ ریڈیو کو واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ’انہوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں جس کے نتیجے میں 4 افراد زمین پر گرے ہوئے تھے جبکہ ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ایک بج کر 45 منٹ پر مسجد النور میں داخل ہوا جس کے بعد فائرنگ کی آواز سنی گئی، نمازِ جمعہ کے سبب مسجد میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے۔

حملے کے بعد لوگ خوفزہ ہو کر مسجد سے باہر نکلے، اس کے علاوہ ایک حملہ آور کو بھی ہتھیار پھینک کر فرار ہوتے ہوئے دیکھا گیا، فائرنگ کا دوسرا واقعہ لین ووڈ مسجد میں پیش آیا۔

ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ وہ ڈینز ایو مسجد میں نماز ادا کررہے تھے جب فائرنگ آواز سنی اور جب وہ باہر کی طرف بھاگے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی اہلیہ کی لاش فٹ پاتھ پر پڑی ہوئی ہے۔

ایک اور عینی شاہد کے مطابق فائرنگ سے بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد لاشیں دیکھی ہیں۔

کرکٹ میچ منسوخ

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق حملے کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی مسجد میں داخل ہونے والی تھی۔

حکام کے مطابق بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم مسجد میں فائرنگ سے محفوظ رہتے ہوئے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

جس کے بعد نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بورڈ کی جانب سے ٹوئٹ کر کے بتایا گیا کہ کرائسٹ چرچ میں کل ہونے والا ٹیسٹ میچ منسوخ کردیا گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں