77

سمجھوتہ ایکسپریس فیصلہ۔ ۔بھارتی ہائی کمشنرطلبی ۔۔سوال گند م جواب چنا

سمجھوتہ ایکسپریس فیصلہ۔ ۔بھارتی ہائی کمشنرطلبی ۔۔سوال گند م جواب چنا
سمجھوتہ ایکسپریس کے قاتلوں کو بری کر کے بھارت اور اسکے انصاف کا چہرہ بے نقاب
ابھی تو بابری مسجد کا فیصلہ ہونا باقی ہے اس کیس کے فیصلے سے ابھی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے
کہتے ہیں کہ ایک گاوں میں ایک کسان اپنے کھیت میں ہل چلا رہا تھا کہ گاوں کے چوہدری کا بھی ادھر سے گزر ہوا ۔گاوں کا چوہدری کسان سے پوچھتا ہے کہ تم پاڑے کیسے کر رہے ہو(ہل کیسے چلا رہے ہو)جس پر کسان نے جواب دیا چوہدری تم نے بھی تو اپنی بیٹی کی شادی کی تھی جس پر چوہدری نے کہا کہ میں آپ سے پاڑے پوچھ رہا ہوں آپ جواب کیا دے رہے ہو کسان کہتا ہے کہ چوہدری پھر اس طرح ہی باتوں سے باتیں نکلتی ہیں ۔۔۔۔


کچھ اس طرح کے حالات اس وقت پیدا ہوئے جب گزشتہ روز بھارتی فرسٹ سیکریٹری نے ہولی کے مقدس موقع پر ایف سیون میں موجود اپنے گھر پر دعوت کا اہتمام کیا تھا ساڑھے سات بجے کا وقت تھا لیکن جب ساڑے نو بجے کے قریب بھارتی ہائی کمیشن اجے بساریہ تشریف لائے تو ہم نے ان سے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے دفتر خارجہ کی جانب سے بلائے جانے کو جواز بنایا جس پر راقم نے یہ کسان اور چوہدری والا واقعہ تمام حاضرین کو سنایا جس پر ہر طرف سے طنزیہ قہقہے لگنے شروع ہوئے ۔ راقم نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ بھارت کے ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہم بہت باریک بینی سے پاکستان کے نیشنل ایکشن پروگرام کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ہمیں اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ جب تحریک لبیک کے خلاف ایکشن لیا گیا تو وہ غیر مسلح لوگ تھے اور اب جن کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے ان کے بارے میں بھی ہم جانتے ہیں جس پر راقم نے کہا کہ بھارت کے طول و عرض میں رہنے والے تو نہیں پاکستان کے اندرونی حالات کے بارے میں جانتے لیکن آپ تو بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان نے ایک لال مسجد کو خالی کروانے کے کیا نتائج بھگتے تھے یہاں تو ہزاروں کی تعداد میں مساجد اور مدرسے ہیں اس کا آپ کو ادراک ہونا چاہئے ۔ اس موقع پر ہونے والی بہت ساری گفتگو آف دی ریکارڈ تھی اور اس کا یہاں پر تذکرہ کرنا مناسب بھی نہیں اور صحافتی اصولوں کے بھی خلاف ہے وہ گفتگو ہم نہیں لکھ سکتے لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس کا جو فیصلہ دیا ہے وہ بھارت کے عدالتی نظام کا ضرور عکاس ہے جہاں ایک بندہ خود سے مانتا ہے کہ اس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے مسلمانوں کا قتل کیا تھا ۔


بھارت جو خود کو بہت بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے لیکن سب کو معلوم ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں بھی اتنے ہی مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا کہ جتنا نیوزی لینڈ کے مساجد میں ایک سفاک قاتل انتہا پسند نے کیا لیکن نیوزی لینْد کی وزیر اعظم کا کردار سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور پھر بھارت کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی جو اب اس وقت وزیر اعظم ہندوستان ہیں انکا اور انکی نام نہاد جمہوریت کا چہرہ ضرور بے نقاب کر دیا ہے اور جس طرح گجرات کے قصاب نے مسلمانوں کے پانی پت کے مقام قتل عام کیا اس ناحق خون کا انجام انکو بہت جلد عوام الیکشن میں ضرور دینگے کیونکہ خون کبھی بھی ناحق نہیں رہتا اور بھارتی وزیر اعظم بہت جلد دنیا کے سامنے عبرت کا نشان ضرور بن جائینگے کیونکہ ایک واقعہ ان کے گجرات والی حکومت کے دور میں ناحق قتل ہوا اور دوسرا ان کے ہی دور میں ناحق خون پر انصاف کا خون ہوا ۔ کہتے ہیں کہ
کفر کا نظام تو چل جاتا ہے اور صبر بھی ہو جاتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا اور اس نظام کو ایک نا ایک دن ضرور ختم ہونا ہے بھارتی الیکشن بھی بہت قریب ہیں اور عوام اس قصاب سے اوربھارت کے مسلمان اس فیصلے کے خلاف حرکت میں ضرور آینگے۔ ابھی تو بابری مسجد کے حوالے سے بھی فیصلہ آنے والا ہے جس کا اندازہ بھی سے لگایا جا سکتا ہے
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں