93

چین آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے مسابقتی عوامل کیلئے پر عزم

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) چین کے رواں ماہ سے جاری ملکی ایڈوائزری باڈیز بشمول پیپلز نیشنل کانگریس اور چاینئز پیپلز پولیٹیکل مشاورتی کانفرنس کے حوالے سے پیش گورنمنٹ رپورٹ برائے 2019میں واضح کیا گیا ہے کہ چین رواں سال ریسرچ اینڈ ڈیویلپمینٹ کے شعبوں ، بگِ ڈیٹا ایپلیکیشنز، آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجیز، تیزی سے ابھرتی انڈسٹریز بشمول انفارمیشن ٹیکنالوجیز، اعلی کولٹی آلات اسیسیریز، بائیو میڈیسن، نیو انرجی آٹو موبائل ، نیو میٹیریلیز اور ڈیجیٹیل معیشت کے پھیلائو جیسے تمام عوامل پر کام کیا جائیگا، یہاں یہ امر اہم ہے ہے چین میں آرٹیفیشل انٹیلی جنسA!کے 2017میں پہلی مرتبہ گورنمنٹ رپورٹ میں آنے کے بعد سے گزشتہ تین سالوں سے اس شعبے میں خصوصی طور پر تحقیق اور پیش رفت پر تواطر سے کام جاری ہے،
جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبوں کی ترویج کے حوالے سے کس قدر کوشاں ہے۔ اس طرح سے دنیا بھر کے مقابلے میں A1ٹیکنالوجیز کے فروغ کے حوالے سے چین پہلے مرحلے سے آگے بڑھ چکا ہے۔ اس حوالے سے حالیہ ایک رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ چین نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبوں میں جس تیزی سے ترقی کی ہے اس کی وجہ سے تمام دنیا کی توجہ اب چین پر ہے۔ یوںA1ٹیکنالوجیز کی ڈیویلپمینٹ کے حوالے سے اور اس شعبے میں ممکنہ سرمایہ کاری کے حوالے سے چین دنیا بھر میں سرِ فہرست اور اہم ترین ملک ہے اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق بیشتر انٹر پرائسز جو چین میں ہیں اس وقت عالمی سطع پر اہم ترین مقام حاصل کر چکی ہے اور عالمی رینکنگ میں بھی سرِ فہرست ہیں ، 2017میں چین میں A1تیکنالوجیز سے متعلق مجموعی مارکیٹ حجم 23.45بلین یوآن تک ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔ اور اس حوالے سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ A1ٹیکنالوجیز کے سالانہ مجموعی حجم میں 67فیصد کے ساتھ ریکارڈ اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ چین میں A1ٹیکنالوجیز آج صرف سائنس اور ٹکنالوجیز سے متعلق محدود نہیں ہے بلکہ بیشتر شعبوں میں اس جدید ایپلیکیشنز کا کامیابی سے استعمال جاری ہے۔
اس ضمن میں روز مرہ زندگی میں A1ٹیکنالوجیز سے متعلق مختلف اشیاء کامیابی سے لانچنگ کی جا رہی ہے۔ اور روز مرہ زندگی کے بنیادی شعبوں بشمول کپڑوں ، فوڈ، ہائونسگ ٹرانسپورٹیشن جیسے شعبوں میں تیزی سے A1تیکنالوجیز کا استعمال کامیابی سے جاری ہے۔ اس ٹیکنالوجیز کے عملی استعمال کے حوالے سے شمالی چین کے صوبے ہیبی میں جیائوگن کے علاقوں میں ایسی مارکیٹس کا قیام عمل می ںلایا گیا ہے جہاں پر بیشتر دکانیں بغیر انسانوں کے خود کار انداز میں چلائی جا رہی ہے اور اس حوالے سے اس A1ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھر پور فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ کسٹمرز دکان میں داخل ہوتے ہیں اور ایک خودکار سسٹم کے تحت انکا چہرہ سکین کر لیا جاتا ہے۔ اور مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ایک الیکٹرونک چپِ کیساتھ انکے مطلوبہ اشیاء کی فہرست ان کے سامنے آ جاتی ہے۔ اور انکے موبائل فونز اور خودکار نظام کے تحت ان اشیاء کی فہرست ان تک پہنچا دیتے ہیں اس طرح سے چہرے کی اسکینگ ک مد د سے کسٹمرز با آسانی اپنی شناخت کیساتھ اشہائی کی خریدو فروخت کر سکتے ہیں ۔
اور باآسانی چیک آئوٹ کر سکتے یں ۔ اسی طرح سے بیجنگ انٹر نیشنل بک سٹی میں بغیر انسانوں کے سمارٹ بکُ اسٹور کا افتتاح بھی حال ہی میں کیا گیا ہے۔ یہ بکُ اسٹور چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے اور تیس مربع میٹر کے احاطے پر محیط یہ بکُ سٹورتمام تر عوامل کو ایک خود کار سسٹم کیساتھ چلایا جاتا ہے جس میں کسٹمرز کی اینٹری اور ایگزٹ کو انکے چہریکی اسکینگ سے یقیی بنائی جاتی ہے مطلوبہ کتب کی فہرست ایک خود کار نظام کے تحت ان کے سامنے آجاتی ہے۔ اور مطلوبہ کتب کی خریداری اور چیک آئوٹ اٹ ایک خود کار مکینکی انداز میں کی جاتی ہے۔ اسی طرح چینی شہر شنگھاہی کے سونگجیانگ میں ڈرایئور کے بنا ء ایک خود کار سوئپر گاڑی کو صفائی کے حوالے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ بظاہر دیکھنے میں یہ روبوٹک صفائی والے کی طرح ہی لگتے ہیں ، یہ خود کار مشین روزانہ پارکنگ پلیس سے ایک خود کار نظام کے تحت روزانہ صفائی سے متعلق تمام عوامل کو دیکھتا ہے اس صفائی گاڑی کے ہیڈ اور دیگر حصوں میں مختلف چپسِ لوڈ کی گئی ہیں جنہیں انسٹرکشنز دیکر انہں اس امر کے لیے ایک خود کار نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔
جدید حساس آلات نصب ہونے کی وجہ سے یہ نہ صرف اپنی لوکیشن سے واقف ہیں بلکہ ٹریفک سکنلز اور صفائی اور ڈرایوئنگ کے دوران ان سنسرز کی ساتھ تمام ممکنہ رکاوٹوں کو کامیابی سے حل کرتا ہے۔ ملک میں A1ٹیکنالوجیز کے ممکنہ فروغ اور عملی عوامل کے حوالے سے 13 ویں نیشنل پیپلز کانگریس اور چاینیز پیپلز پولیٹیکل مشاورتی کانفرنس کے ترجمان ژانگ ایسوئی کا کہنا ہے کہ چین تیزی سے ملک میں A1ٹیکنالوجیز کے فروغ کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔ اس ضمن میں ان جدید آلات اور روبوٹک مشینز کے استعمال کے حوالے سے تمام ضروری لوازمات اور قانون سازی سے متعق عوامل طے کیئے جا رہے ہیں ۔ اس حوالے سے نیشنل پیپلز کانگریس کے افتتاحی اجلاس میں A1ٹیکنالوجیز کے حوالے سے ممکنہ قانون سازی کے لیے مختلف تجاویز اور سفارشات بھی مرتب کی گئی ہیں، اس حوالے سے ڈیجیٹل اسکیوریٹی قوانین، پرسنل انفارمیشن پروٹیکٹو لاز، ور سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت پسندی کے حوالے سے ان قوانین کے مطلوبہ اہداف کا عملی ریویژن، شامل ہیں دوسری جانب A1ٹیکنالوجیز کے استعمال کے حوالے سے اس ضمن میں بھی موثڑ قانون سازی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبوں کو جدت پرازی کے حوالے سے ایک موثر میکنزیم کیساتھ منسلک کیا جا سکے
چین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں