41

سانحہ نیوزی لینڈ ۔۔غیرمسلم اسلام کیوں قبول کر رہے ہیں

جن مساجد سے فرقہ ورانہ درس ہوں وہاں پر کوئی کیسے اسلام قبول کرے گا
جن مساجد سے صرف اسلام کا درس ملے وہاں لوگ آ کر مسلمان ہو رہے ہیں
جب سے کرائسٹ چرچ میں مسجد میں نماز پڑھتے مسلمان شہید ہوئے ہیں پوری دنیا سے غیر مسلموں کے اسلام قبول کرنے کی بڑی تعداد میں ویڈیو وائیرل ہو رہی ہیں جس سے دنیا بھر میں ہمارے مذہب کو تقویت ملی ہے اور اسلام کے بارے میں دنیا کا ذہن تبدیل ہوا ہے اور خاص طور پر اس مسلمان خاتون کا جس کا شوہر اور بیٹا اس سانحہ میں شہید ہوا اور اس کا صبر اور اللہ پر پختہ ایمان نے دنیا کے ذہن بدلنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔پوری دنیا میں مسلمانوں کے بارے میں مختلف قسم کے خیالات پائے جاتے تھے اور ہر اس شخص کو جس نے داڑھی رکھی ہوتی تھی اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا لیکن پچاس معصوم مسلمان وہ کا م کر گئے جو ہم دہشت کردی کی جنگ میں ستر ہزار سے زائدقربانیاں دے کے بھی نہیںکر سکے ۔ پاکستان میں چند سال قبل ایک ایک دن میں پانچ پانچ دس دس دھماکے ہوتے تھے جس میں سیکڑوں پاکستانی شہید ہوتے تھے لیکن دنیا میں اسلام اور مسلمان بدنام ہو رہا تھا لیکن کرائسٹ چرچ واقعہ نے سب مسلمانوں کی عزت بچائی اور خاص طور پر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈرا آرڈن نے جب انسانیت دکھائی تو دنیا کو بھی اسلام کے بارے میں علم ہوا اور بڑی تعداد میں غیر مسلم دائیرہ ایمان میں داخل ہوئے جو ہمارے لئے انتہائی سکون کا باعث ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے جس کا ملک دنیا کے پرسکون ممالک میں شامل ہے نے جب مساجد میںہونے والے مظالم کے خلاف سینہ سپر کیا تو اس کے پیچھے بھی ایک تاریخ تھی کیونکہ نیوزی لینڈ نے بھی ایک مہذب اور پرسکون ملک بننے کے پیچھے بھی ایک تاریخ چھوڑی ہے اور اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو نیوزی لینڈ میں قبائل اور تہذیبوں کی جنگ کے پیچھے بہت زیادہ خونریزی تھی اور یہاں پر چند صدیاں پہلے لوگ اتنے ظالم اور خونخوار تھے کہ اپنے دشمنوں کو پکا کر کھا جاتے تھے اور یہ سلسلہ برس ہا برس چلتا رہا پھر تہذیبوں اور قبائل کی جنگ نے جب امن کر طرف قدم بڑھایا تو وہی ظالم لوگ جو ایک دوسرے کو کھا جاتے تھے اور ایک دوسرے کے نازک عضا کاٹ کر چوکوں میں لٹکاتے اور دشمنوں کو بجھواتے تھے انہوں نے اپنی تاریخ سے اتنا سبق لیا کہ دنیا حیران رہ گئی جب انکی وزیر اعظم نے امن کی بات کی اور مسلمانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوئی تو وہ جسنڈرا آرڈن جس نے پبلک ریلیشن کی ڈگری حاصل کر ررکھی ہے نہ اپنی تاریخ بھی دیکھی ہو گی کہ اگر اس ملک میں دوبارہ تہذیبوں کی جنگ شروع ہو گئی تو ہم کہاں جائینگے ان کے اس امن کے پیغام کے پیچھے بہت بڑا المیہ تجربہ بھی تھا ۔
لیکن اب ہمیں بھی سوچنا ہو گا کہ دیار غیر میں رہنے والے مسلمان ایسے تھے کہ انہیں دیکھ کر اور انکے طرز زندگی کو دیکھ کر لوگ مسلمان ہو رہے ہیں اور کیا ہماری زندگیاں ایسی ہیں کہ ہمیں دیکھ کر ہمارے کردار کو دیکھ کر کوئی مسلمان وہ جائے ہمیں یہ سب کچھ سوچنا ہو گا کہ ہم نام کے مسلمان ہیں یا حقیقی مسلمان ہیں اتنی بڑی جنگ لڑ کر بھی اگر ہم اسلام کی تعلیمات پر عمل نہ کر سکیں اور ہمارے عمل دیکھ کر کوئی مسلمان نہ تو ہماری کیا زندگی ہے ۔ زندگی کا کوئی پتہ نہیں کہ کس لمحے حضرت عزائیل علیہ السلام تشریف لے آئیں تو کیا ہم اپنے آقا ۖ کو کون سے چہرہ دکھائیں گے
یہ ہی جھوٹ ، بے ایمانی ، الزام تراشیوں والا ، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے والا، کم تولنے والا ، ملاوٹ والا چہرہ یا پھر سرکارۖ کے دیئے ہوئے
سبق کے مطابق زندگی گزارنے والا چہرہ ہمیں سوچنا ہے کہ اگر ہم نے دنیا میں اسلام کا بول بالا کرنا ہے تو ہمیں وہ عمال کرنے ہونگے جنہیں دیکھ کر کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرے نہ کہ ہمارے اعمال دیکھ کر توبہ توبہ کرے
پاکستان بھر کی کتنی مساجد ہیں جہاں سے فرقہ ورانہ اختلافات کو ہوا دی جاتی ہے کیا ان مساجد کے علمائے کرام کو سن کر کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرے گا کہ نیوزی لینڈ کی مساجدجیسی مساجد جہاں سے صرف ایک اللہ اور ایک رسول ۖ کی بات اور انکی تعلیمات دی جاتی ہوں ان دیکھ کر کوئی مسلمان ہو گا ۔ ہمیں اور ہمارے علمائے کرام کو اب دیکھنا ہے کہ ہم کس قسم کے درس دے رہے ہیں اور کس قسم کے مسلمان ہیں واقعہ کرائسٹ چرچ ہمیں بہت سے پیغامات دے کر گیا ہے بس ہمیں غور کرنا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں