40

شریف فیملی کو این آر او نہ ملتا تو منی لانڈرنگ ختم ہو جاتی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے حدیبیہ کیس میں شریف فیملی کو این آر او نہ ملتا تو پاکستان میں منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔

وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اہم ملاقات کی جس میں ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی جانب سے حدیبیہ کیس میں شریف فیملی کو این آر او نہ ملتا تو پاکستان میں منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے حدیبیہ کیس میں ملنے والے این آر او کو تمام منی لانڈرنگ کیسز میں ماڈل کے طور پر استعمال کیا گیا۔ فرنٹ مینوں کے ذریعے پیسہ ملک سے باہر بھیجا گیا اور پھر واپس منگوایا گیا۔ نواز شریف اور آصف زرداری کے پیسے میں یہی ماڈل سامنے آیا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت جاری کی کہ منی لانڈرنگ کی تمام تفصیلات میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچا کر انھیں گمراہ کرنے والوں کا اصل چہرہ دکھایا جائے تا کہ ملکی معیشت پر ان سیاہ کاریوں کے نقصانات سے عوام کو آگاہ کیا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 برسوں میں 60 ارب ڈالرز قرضوں کا حساب لیا جانا چاہیے کہ عوام کو مقروض بنا کر اس خطیر رقم سے کس نے اپنی ذاتی تجوریاں بھری ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بے نامی قانون کے تحت قواعد اور رولز بنائے ہیں۔ اس قانون سے منی لانڈرنگ پر قابو پانے اور بے نامی جائیدادیں رکھنے کی حوصلہ شکنی میں مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں