119

شا م، یمن ،سوڈان کے بعد اب لیبیا میں خانہ جنگی کے آثار

شا م، یمن ،سوڈان کے بعد اب لیبیا میں خانہ جنگی کے آثار
لیبیا میں نیشنل کانفرنس کے انعقاد سے ایک ہفتہ قبل خلیفہ ہفتار کے تریپولی پر یلغار
دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد مسلم امہ کا شیرازہ ایسے بکھر رہا ہے جو سنبھل ہی نہیں رہا
یہ زیادہ دیر کی بات نہیں ستر اور اسی کی دہائی کی بات ہے کہ جب مسلم اور عرب ممالک بڑی تیزی سے ترقی کرتے نظر آرہے تھے اور اسلامی ممالک دنیا کی ایک طاقت بنتے نظر آ رہے تھے اور دنیا میں یورپی یونین سے بہت قبل اور سوویت یونین اور امریکی ریاستوں کے اتحاد کے بعد اسلامی اتحاد کو دنیا بہت خطرہ قرار دینے لگی تھی پھر دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس جو لاہور میں 22-24فروری 1974میں منعقد ہوئی ، اسوقت کے سیکریٹری جنرل تنکو عبدالرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو اس کے روح رواں تھے، کانفرنس میں1973کی عرب اسرائیل جنگ اور تیل برائے ہتھیار اور عرب ممالک کی تیل کی ترسیل بند کرنیکی دھمکی جیسے موضوع سرفہرست تھے،اسوقت حالانکہ مشرقی پاکستان کا سانحہ نیا نیا رونما ہوا تھا اور متعدد اسلامی ممالک نے پاکستان کی محبت میں بنگلہ دیش کو ایک علیحدہ ملک کی حیثیت میں تسلیم نہیں کیا تھا لیکن مسلم امہ کے اتحاد کی خاطر پاکستان نے ماضی کو بھلا کر شیخ مجیب الرحمان کو دعوت بھی دی اور بنگلہ دیش کو ایک ملک کی حیثیت سے تسلیم بھی کر لیا جس کے بعد باقی مسلم اور دوست ممالک نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا۔کانفرنس میں یاسر عرفات کی سربراہی میں( پی ایل او ) فلسطین لبریشن آرگنائزشن کو فلسطین کی نمائندگی کرنے والی جماعت تسلیم کیا۔اردن ،شام ،مصر اور فلسطین کی زمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ چھڑانے کا عزم کیا گیااور اسی کانفرنس میں اسلامی سالیڈیرٹی فنڈ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ کانفرنس میںسعودی عرب سے شاہ فیصل بن عبدلعزیز، فلسطین سے یاسر عرفات، عراق سے صدام حسین، مصر سے انور سادات، لیبیا سے معمر قذافی، شام سے حافظ االسد، متحدہ عرب امارات سے شیخ زید بن سلطان النہیان،ایران سے رضا شاہ پہلوی،ملایشیا سے عبدالرزاق حسین،سوڈان سے جعفر نمیری،افغانستان سے محمد داود خان جیسی قد آور لیڈرشخصیات نے شرکت کی ۔
لیکن عالمی طاقتوں کو یہ اتحاد ایک نظر نا بھایا اور پھر اسلام و مسلم دشمن اکٹھے ہو گئے پھر سب نے دیکھا کہ شاہ فیصل سے لے کر لیبیا کے صدر معمر قذافی تک کس طرح ان لیڈروں کو چن چن کر مروایا گیا اور پھر اس ابھرتی ہوئی طاقت کو آپس میں لڑوا کر اس طاقت کو ختم کر دیا گیا ، ایران عراق جنگ ، عراق کویت جنگ ، سعودی عرب یمن جنگ ، سعودی عرب قطر کشیدگی ، پاکستان میں دہشت گردی ، افغانستان میںپہلے روسی پھر امریکی چڑھائی سمیت ہر ملک میں خانہ جنگی اور تختے الٹنے شروع ہو گئے لیکن مسلم امہ کو ابھی تک اس بات کا ہوش نہیں آیا کہ ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے ، کس طرح ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، شاہ فیصل کا قتل کروایا گیا، ایران میں شاہ ایران کا تختہ الٹا گیا، یاسرعرفات کو زہر دے کر مروایا گیا، انور سادات کو کیسے گارڈ سے قتل کروایا گیا، افغانستان میں داود خان کے ساتھ کیا ہوا، معمر قذافی کو کیسے مارا گیا،صدام حسین کا کیا حال ہوالیکن ابھی تک کوئی نہیں جاگا سب سوئے ہوئے ہیں یا ڈرے ہوئے ہیں ۔
حال ہی میں ایسا ہی ایک اور ڈرامہ لیبیا میں رچایا گیا جہاں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک نیشنل کانفرنس جو کہ چودہ سے پندرہ اپریل 2019مقرر تھی جس ہر پارٹی اور سٹیک ہولڈرکے نمایندوںپر مشتمل ایک سو بیس رکنی شوری بیٹھ کر اگلے عام انتخابات کا فیصلہ کرنے جا رہی تھی لیکن پھر سات اپریل کو خلیفہ ہفتار نے اپنی ملیشیا کے ہمراہ تریپولی پر حملہ کر دیا اور پھر اقوام متحدہ کو یہ کانفرنس ملتوی کرنا پڑی کہتے ہیں کہ خلفہ ہفتار کے پیچھے بھی کچھ عرب ممالک ہیں لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ سب سوچ کیوں نہیں رہے کیوں ایک ایک کر کے دشمنوں کی سازشوں کا شکار بن رہے ہیں اور ہر اس ترقی یافتہ ملک کو جو بہت خوشحال تھا کو جنگ کے باعث کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا اب بھی اگر مسلم امہ نا جاگی تو پھر کب جاگے گی۔اب اگر لیبیا میں امن آہی رہا تھا پھر ایک دفعہ نئی سازش کا شکار ہو کر امن کا اور جمہوریت کے پھر سے موقع ضائع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ایک ایسی صورتھال میں جب شام ، صومایہ، الجزائیر، سوڈان، یمن سمیت کئی مسلم ممالک میں خانہ جنگی جاری ہے لیبیا میں بھی خانہ جنگی کے پودے کو ہوا دی جا رہی ہے لیکن بکھری ہوئی مسلم امہ کو کوئی نہیں سمجھا رہا سب اپنے اپنے اقتدار کو بچانے کی فکر میں عالمی طاقتوں کی سازشوں کا شکا رہو رہے اور ایک ایک کر کے شکار ہوئے جا رہے ہیں لیکن ایک سمجھ ہے کہ کسی کو آ ہی نہیں رہی اس جال میں سب پھنستے ہی جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں