22

نئے وزیر خزانہ کو بھی معاشی چیلنجز کا سامنا ہوگا، اسد عمر

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری کے لیے مشکل فیصلے کیے اور نئے وزیر خزانہ کو بھی معاشی چیلنجر کا سامنا ہوگا۔

وزارت خزانہ کے قلمدان سے استعفیٰ کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کرنے جارہے ہیں، مجھ سے پہلی مرتبہ وزارت سے متعلق بات کل رات ہوئی ہے، کابینہ میں مزید تبدیلیاں آج رات یا کل تک ہوں گی۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے مجھے توانائی کی وزارت کی پیش کش کی ہے، تاہم کابینہ سے الگ ہونے کا مقصد یہ بالکل نہیں کہ میں عمران خان کے ساتھ نہیں، میں ان کے نیا پاکستان کے وژن کو سپورٹ کرنے میں ہمیشہ ساتھ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 18 اپریل 2012 کو میں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی اور پی ٹی آئی کے ساتھ 7 سال کا یہ سفر بہت اچھا گزرا اور عمران خان نے مجھے کہا تھا کہ آپ ملک کی بہتری کےلیے ہمارے ساتھ آئیں، تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ میں پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہے اور عمران خان کے وژن کے ساتھ کھڑے ہیں۔اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان تحریک انصاف اور ان کے نوجوان کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان سب کے بغیر آج عمران خان وزیر اعظم اور اسد عمر وزیر خزانہ نہیں ہوسکتے تھے، ساتھ ہی انہوں نے این اے 48 اور 54 کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔

معیشت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت بننے کے وقت جہاں معیشت کھڑی کی تھی وہ پاکستان کی معیشت کی بدترین صورتحال تھی اور اس سے نکلنے کے لیے مشکل فیصلے کیے گئے، جس سے اعداد و شمار میں بہتریلیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب معیشت بہتر ہوگئی ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ نیا وزیر خزانہ جب آئے گا تو اس کو بھی معیشت کے مشکل حالات دیکھنے کو ملیں گے لیکن امید کرتا ہوں انہیں مکمل حمایت ملے گی، ہمیں تھوڑے مشکل فیصلے اور صبر کی ضرورت ہے، اگر ہم نے یہ نہ کیا تو دوبارہ اسی کھائی میں گرجائیں گے، جس میں ہم موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ میں مشکل فیصلوں سے گھبراتا نہیں ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم بہتری کی طرف جارہے ہیں، ملک کی معیشت میں جان ہے لیکن اس کے لیے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے اور مشکل فیصلے کرنے والے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل وزیر خزانہ اسد عمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا۔ایک ٹوئٹ میں اسد عمر نے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں چاہتے ہیں کہ میں وزارت خزانہ کی جگہ توانائی کا قلمدان سنبھال لوں لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہیں لوں گا۔

انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں اور انشااللہ نیا پاکستان ضرور بنے گا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسد عمر کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکج پر گفتگو کے لیے واشنگٹن گئے تھے اور ان کی وہاں عالمی بینک کے حکام سے بھی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

تاہم اسی دورے کے دوران ان کو عہدے سے ہٹائے جانے اور کابینہ میں اہم تبدیلیوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں جسے حکومت نے مسترد کردیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں