145

ولی عہد بھارت جا سکتے ہیں تو عمران ایران کیوں نہیں

ولی عہد بھارت جا سکتے ہیں تو عمران ایران کیوں نہیں
ازلی دشمن بھارت کے ساتھ پاکستان سے بھی تین گنا زیادہ تجارتی معاہدے اور او آئی سی میں بلانا
پاکستان کے ایران جانے پر بھارت یا یو اے ای ناراض نہیں ہو سکتے ، انکی اپنی خارجہ پالیسی ہماری اپنی
کہتے ہیں کہ جب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان ایران کے دورے کے پہلے مرحلے میں مشہد موجود تھے تو عین اسی وقت سعودی عرب کے وزیر خارجہ اور پاکستان کے سفیر کی ملاقات کی خبر اور تصویر جاری کی گئی اور الزام لگایا جاتا ہے کہ جیسے ہمارے دوست ملک کے سفارت کاروں نے زبردستی نہ صرف تصویر جاری کروائی بلکہ یہاں تک کہا گیا جیسے ہمارے دفتر خارجہ میں بھارت کے سفیر کو طلب کیا جا تا ہے شاید یہ کوئی ایسا ہی واقعہ ہے حالانکہ بھارتی سفیر کو جب ہی طلب کیا جا تا ہے یا یہ خبر اور واقعہ ایسے ہی وقت میں ہوتا ہے جب کوئی احتجاجی مراسلہ بھارت کے حوالے کرنا مقصود ہو لیکن اس کو ایک ایسے طور پر لینا کہ شاید سعودی عرب نے پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے دورہ ایران پر اپنا کوئی احتجاج ریکارڈ ہے یہ سب دشمنوں کی سازش ہے کیونکہ یہ خبر بھی اڑائی گئی کہ سعودی عرب نے بقیہ پے منٹ اور ڈیفر پے منٹ پر تیل روکنے کی بھی دھمکی دی ہے یہ سرا سر دشمنوں کی سازش ہے کیونکہ دشمن نہیں چاہتے کہ پاکستان کے ایران سے جو ہمارا ہمسایہ اسلامی دوست ملک ہے اور جو بوجوہ ہم سے ناراض تھا اور تعلقات بھی مثالی تھے وہ تعلقات بھی بہتر ہوں کیونکہ جب ایران پاکستان کے ساتھ قریب ہو گیا تو بھارت ایران سے دور ہو جائیگا اور اگر بھارت ایران اور افغانستا ن سے امریکی انخلا کے بعد دور ہو گیا تو اس کی ایران میں چاہ بہار میں اور افغانستان میں اربوں نے کھربوں کی سرمایہ کاری غارت چلی جاے گی۔
سب سے پہلے تو عقل کے اندھوں کو علم ہونا چاہئے کہ سعودی عرب ہمارا دوست مسلمان بھائی ملک ہے جس کے ہمارے دیرینہ تاریخی تعلقات ہیں اور ہر مشکل وقت میں سعودی عرب نے ہمارا ساتھ دیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے نہ صرف ہماری معاشی حالات کو سہارہ دینے کے لئے تین ارب ڈالر نقد جبکہ ادھار پر تیل بھی دیا یہی وجہ تھی کہ جب پاکستان کے دورے کے بعد جب سعودی ولی عہد ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ہاں گئے اور پاکستان سے کئی گنا زیادہ ارب ڈالر کے معاہدے کئے لیکن پاکستان نے تو اس پر اعتراض نہیں آٹھایا کہ ایک ایسے ملک جس سے ہماری تین جنگیں ہوئی ہیں جس نے ولی عہد کے پاکستان آنے سے قبل پلوامہ کا ڈرامہ کر کے دورے کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش کی اور اپنی فوجیں بارڈر پر کے آیا اور جیسے ہی سعودی ولی عہدواپس گئے اس نے ہمارے ملک پر حملہ کر دیا تو احمق دشمنوں اور افواہ ساز وں کو سوچنے چاہیے کہ جب ہم نے دل بڑا کیا تھا تو سعودی عرب کا دل تو اس سے بھی بڑا ہو گا وہ بھلا کیسے ناراض ہو گا
اور رہی بات متحدہ عرب امارات کی سب کو علم ہے کہ انکے بھی بادشاہ جب پاکستان آئے تو وہ پہلے تین دن شکار کرتے رہے اور پھر اسلام آباد آئے اور پاکستان کو تین ارب ڈالر بھی دیئے وہ تو ہمارا محسن ہے بھلا وہ کیوں ناراض ہو گا کیونکہ جب یو اے ای میں او آئی سی کا اجلاس ہوا تھا تو بھارتی وزیر خارجہ او آئی سی کی نہیں یو اے ای کی دعوت پر ادھر گئی تھیں اگر یو اے ای کی دعوت پر گئی تھیں اور ہم نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا تو جب سشما سوراج پھر بھی یو اے ای اجلاس میں آبزرور کے طور پر شریک ہوئی تھیں تو پاکستان نے بھی دل گردے کا مظاہرہ کیا تھا اس لیے جب پاکستان ایران خطے میں امن کے لیے اپنے ہمسائیوں سے بہتر تعلقات کی خاطر جائے گا تو بھلا کون پاگل سمجھ سکتا ہے کہ یو اے ای بھی وزیر اعظم کے دورہ ایران پر ناراض ہے اور شاید اس نے بھی کوئی مزید فنڈ روکنے کی دھمکی دی ہے یہ سب دشمنوں کی سازشیں ہیں جو پاکستان اور یو اے ای کے درمیان غلط فہمیوں کو جنم دے رہے ہیں
باقی رہا امریکا وہ کیوں ناراض ہو گا کہ شاید وہ ازلی دشمن ہے ایران کا تو سب کو علم ہو گا کہ جب وزیر اعظم ایران گئے تو صدر ٹرمپ نے ایران پر جو سب سے بڑی پابندی لگائی وہ ان ممالک پر تیل کی فروخت پر پابندی تھی جن کو امریکا کی اجازت سے تیل فروخت کیا جا رہا تھا اور سب کو علم ہے کہ بھارت ایران سے سب سے زیادہ تیل خرید رہا تھا تو پاگلوں کی جنت میں رہنے والوں کو سمجھنا چاہئے کہ نقصان بھارت کو ہوا جس کے ملک میں الیکشن کے دنوں میں تیل مزید مہنگا ہو رہا ہے ویسے اگر طالبان پاکستان کی نہیں مان رہے تھے تو اگر وہ ہماری اس کوشش سے ایران کی ہی مان جائیں تو وزیر اعظم اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں بار بار افغانستان میں امن کی جو بات کر رہے تھے وہ لالہ موسی یا پنڈی بھٹیاں کے لوگوں کوسنا رہے تھے سب کو علم ہے کہ وہ کس بہادر کو سنا رہے تھے اس لئے ہر ملک کی خارجہ پالیسی ہوتی ہے کوئی بھارت جائے یا کوئی ایران کوئی سشما سوراج کو بلائے یا جواد ظریفی کو یہ ہر ملک کی خارجہ پالیسی ہے جب ہم کسی کی خارجہ پالیسی پر اعتراض نہیں کرتے تو کسی کو بھی ہماری ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی کی خارجہ پالیسی پر تنقید نہیں کرنی چاہئے ۔۔چاہے ، مولانا فضل الرحمان ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔۔۔۔
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں