118

پیلی ٹیکسی، ٹریکٹر ٹرالی، بھاگی،بے بی کے بعد صاحبہ

پیلی ٹیکسی، ٹریکٹر ٹرالی، بھاگی،بے بی کے بعد صاحبہ
کپتان کے لاڈلے وزیر مراد سعید پر نوبے بی نوکے نعرے لگیںتو پھربلاول کو صاحبہ کہنے پر سیخ پا کیوں
بلاول کو صاحبہ کہنے سے اگر خواتین کی توہین ہوئی ہے تو مراد سعید کو بے بی کہنے سے خواتین کی عزت ہوئی
نون لیگ بے نظیرکوییلو کیب ،شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہنے کے مزے نہ لیتی تویہ دن دیکھنے کو ناملتے
جب ساہیوال کا واقعہ جس میںنہتے خاندان کوکو بے دردی سے قتل کیا گیا پیش آیا اس وقت نواز لیگ کی جانب سے جو خود ماڈل ٹاون واقعہ میں ملوث رہی کی جانب سے اور خاص طور پر راناثنااللہ اور حمزہ شہباز سمیت پوری نون لیگ کی جانب سے مذمت کی گئی جب بہت ہنسی آتی تھی کہ چھج تو بولے چھاننی کیسے بول سکتی ہے ۔ماضی میں جب سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما محترمہ بے نظیر بھٹو جب ایوان میں آئیں تو انہوں نے زرد رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا جب اس وقت کی نون لیگ کے رہنما شیخ رشید نے محترمہ کو ییلو کیب اور پیلی ٹیکسی کہا تو اسوقت کی نون لیگ کی تمام لیڈر شپ اور ورکرز نے اس لفظ کے مزے لیے اور پھر محترمہ کی ایک قسم کی چھیڑ بھی بنا ڈالی اسی مسلم لیگ نواز نے ہیلی کاپٹر سے الیکشن کے دوران نازیبہ پرچیاں بھی گرائیں جس میں سابق خاتون اول محترمہ نصرت بھٹو کی بھی تضحیک کی گئی تھی محترمہ نسیم ولی خان کی بھی نواز لیگ نے وہ کی تھی شاپنگ کے حوالے سے اور انڈر گارمنٹس کے حوالے سے اس کی مثال نہیں ملتی جس کے بعد سوشل میڈیا پر محترمہ مریم نواز کے حوالے سے بھی نازیبہ کلمات باغی کی جگہ بھاگی لکھا جاتا رہا پھر اسی مسلم لیگ کے ایک اور اہم وزیر خواجہ آصف کی جانب سے جہاں مشہور جملے کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے کہے گئے ساتھ ہی محترمہ شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کہا گیا جس پر ایوان میں بھی اور ایوان کے باہر بھی نون لیگ والے سینہ تان کر اس لفظ کے مزے لیتے رہتے ہیں ۔اسی نون لیگ کے شیخوپورہ سے رکن اسمبلی میاں جاوید لطیف کی جانب سے جو مراد سعید اور اسکی بہنوں کے بارے میں کہا گیا وہ بھی کسی کو نہیں بھولا، اسی طرح خواجہ سعد رفیق نے اور رانا ثنااللہ نے بلاول بھٹو کے بارے میں جو کہا نون لیگ کو پہلے وہ سن لینا چاہئے تھا رانا ثنااللہ نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ بلاول کا ٹیسٹ کروا لیں یہ مرد ہے ہی نہیں
ابھی چند روز قبل جب بلاول بھٹو نے اسمبلی میں زور دار تقریر کی اور وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جرمنی جاپان کی سرحد کے حوالے سے تنقید کی تو اس وقت جب جواب دینے کے لئے وفاقی وزیر اور کپتان کے لاڈلے مراد سعید بھی ایوان میں کھڑے ہو گئے تو پیپلز پارٹی نے جو نعرے لگائے وہ نو بے بی نو کے نعرے تھے اور گو بے بی گو کے نعرے تھے اور جب تک اذان مغرب نہیں ہوئی اور سپیکر نے کاروائی ملتوی نہیں کی ایوان انہی نعروں سے گونجتا رہا اب پیپلز پارٹی جب عمران خان کے لاڈلے وزیر کے بارے میں بے بی کہے گی تو اسے پھر عمران خان کی جانب سے بلاول کو صاحبہ کہنے سے اتنا زیادہ اعتراض نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اگر صاحبہ کہنے سے پاکستان کی آدھی آبادی کی توہین ہوئی ہے تو بے بی کہنے سے خواتین کی عزت ہوئی تھی کہتے ہیں کہ کسی کے جھوٹے خدا کو برا کہو گے تو آپ کے سچے خدا کو بھی ویسے ہی جواب ملے گا ۔ جب نون لیگ والے ٹریکٹر ٹرالی کہیں گے تو پھر بھاگی پر بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور پھر اگر مراد سعید کو بے بی کہو گے تو بلاول کو صاحبہ کہنے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن اس ساری بحث کے بعد پاکستانی عوام کو اپنے تمام لیڈرز پر افسوس ضرور ہو رہا ہے کہ وہ قوم کی کس قسم کی تربیت کر رہے ہیں انہیں اپنا ماڈل نیوزی لینڈ سے لینا چاہئے جس قوم نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ انسانیت کیا ہوتی ہے جہاں پچاس مسلمانوں کے شہادت پر ہر آنکھ اشک بار ہے اور وہ اپنے کردار سے ثابت کر رہے ہیں کہ وہ ایک زندہ قوم ہیں یہاں پر جہاں مسلمان ۔۔مسلمان کی مساجد پر بلکہ جنازوں پر حملے کر رہے ہیں وہاں امام بارگاہوں ، گرجا گھروں پر اور ابھی حال ہی میں ایسٹر پر ہونے والی بربریت پر سب ایسے ہیں جیسے گونگے ہیں حالانکہ سب کو علم ہے کہ نیوزی لینڈ اور مہذب دنیا نے مسلمانوں کو کیسے جواب دیا ہے لیکن ہمارے ہا ں شاید حکمرانوں کے ساتھ عوام میں بھی انسانیت ختم ہو گئی ہے جب حکمران اور اپوزیشن ایک دوسرے کے مردو ں کو خواتین قرار دینے میں مصروف ہوں تو پھر ملک کا خدا ہی حافظ ہے بہتر ہے کہ اگر میثاق جمہوریت نہیں ہو سکتی میثاق معاشیعت نہیں ہو سکتی تو کم از کم میثاق اخلاقیت ہی کر لیں کیونکہ ابھی بھی ڈھلے بیراں دا کچھ نہیں وگڑا اپنی بھی عزت بچاو اورہجوم نما قوم کی بھی۔۔۔۔ شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں