27

’میشا شفیع نے منظم منصوبہ بندی سے ذاتی مفاد کیلئے مجھے ٹارگٹ کیا‘

گلوکار علی ظفر نے کہا ہے کہ گلوکارہ میشا شفیع نے انہیں منظم منصوبہ بندی کے تحت ذاتی مفاد کے لیے ٹارگٹ کیا۔

سیشن کورٹ لاہور میں ہتک عزت کیس کی سماعت میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے علی ظفر نے دعویٰ کیا کہ انہیں منظم منصوبہ بندی اور ذاتی مفاد کی خاطر سوچ سمجھ کر ہدف کا نشانہ بنایا گیا۔

گلوکار نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ انہیں کیوں ذاتی مفاد کے لیے ہدف بنایا گیا۔

علی ظفر کا سوالیہ انداز میں کہنا تھا کہ کیا انہیں اس لیے ہدف کا نشانہ بنایا گیا، کیوں کہ میشا شفیع کینیڈا منتقل ہوکر عالمی سطح پر اپنی پہنچان بناکر ملالہ یوسف زئی کی طرح بننا چاہتی تھیں؟

گلوکار کے مطابق انہیں میشا شفیع کی ایسی نیت کا علم نہیں، یہ صحافی ہی زیادہ پتہ لگا سکتے ہیں، تاہم وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں، اسی لیے عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

علی ظفر نے بتایا کہ انہیں عدالت نے آج نہیں بلایا تھا، وہ خود پیش ہوئے ہیں، کیوں کہ کیس کو ایک سال ہوچکا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے علی ظفر نے دعویٰ کیا کہ میشا شفیع کا کیس عدالت نے خارج کردیا ہے اور وہ قانون کی نظر میں بے گناہ ہیں، اب عدالت میں ان کی جانب سے میشا شفیع پر دائر کیا جانے والا کیس زیر سماعت ہے، جس میں گلوکارہ پیش نہیں ہوئیں۔

عدالت سے درخواست ہے کہ جلد فیصلہ سنا کر حقیقت سامنے لائی جائے، گلوکار—اسکرین شاٹ
عدالت سے درخواست ہے کہ جلد فیصلہ سنا کر حقیقت سامنے لائی جائے، گلوکار—اسکرین شاٹ

علی ظفر کے مطابق عدالت نے جنسی ہراساں سےمتعلق میشا شفیع کی درخواست بھی مسترد کردی تھی اور یہ کیس ان کی جانب سے کیے جانے والے ہرجانے کا کیس ہے، جس میں ان کے گواہان 8 بار پیش ہوچکےہیں۔

گلوکار نے میڈیا سے بات کے دوران عدالت سے درخواست کی کیس کا فیصلہ جلد سے جلد سنا کر دنیا کو سچائی سے آگاہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج سے عدالت میں گواہان کی جرح شروع ہوگئی۔

اس سے قبل سیشن کورٹ میں علی ظفر کی درخواست پر کیس کی سماعت ہوئی اور ایڈیشنل سیشن جج شکیل احمد نے سماعت کی۔

علی ظفر اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں از خود پیش ہوئے اور عدالت نے عینی گواہ باقر علی کی شہادت قلمبند کی۔

سماعت کے دوران گلوکارہ میشا شفیع حاضر نہیں ہوئیں اور علی ظفر کے وکلاء نے عدالت کو آگاہ کیا کہ گلوکارہ کے وکلاء جان بوجھ کر کیس کو التواء کا شکار کر رہے ہیں۔

عدالت نے مختصر سماعت اور ایک گواہ کے بیان کو قلم بند کرنے کے بعد باقی گواہان کو آئندہ ماہ 4 مئی تک طلب کرلیا۔

دوسری جانب میشا شفیع کے وکیل احمد پنسوتا نے ڈان امیجز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ علی ظفر کے دعوے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

احمد پنسوتا کے مطابق میشا شفیع کا جنسی ہراساں سے متعلق پنجاب کے محتسب اعلیٰ میں دائر کیا گیا کیس خارج نہیں ہوا بلکہ کچھ تکنیکی وجوہات کی بناء پر تاخیر کا شکار ہوا ہے۔

احمد پنسوتا کا کہنا تھا کہ اب میشا شفیع اور علی ظفر کا کیس لاہور ہائی کورٹ میں بھی چل رہا ہے، اس لیے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے کیس پر سماعت کے بعد ان کی مؤکل کے جنسی ہراساں سے متعلق دائر کیے گئے کیس کی سماعت بھی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں