82

آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض کا معاہدہ طے پاگیا، مشیر خزانہ

وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ و ریونیو ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرضے کے حصول کا معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے 3 سال کے دوران 6 ارب ڈالر ملیں گے۔

پی ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ‘آئی ایم ایف میں جانے سے پاکستان کو جو فائدے نظر آرہے ہیں اس میں 3 سال کے عرصے میں تقریباً 6 ارب ڈالر ملیں گے اور اس سے متعلق ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے مالیات اداروں سے ہمیں تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر کی اضافی رقم ملے گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اگر 6 ارب ڈالر اور یہ اضافی 2 سے 3 ارب ڈالر کم سود پر ملیں گے تو ہمارے قرضے کی صورت حال میں قدرے بہتری آئے گی اور جو پروگرام ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کریں گے اس سے دنیا میں ایک اچھا پیغام جائے گا اور سرمایہ کار سمجھیں گے کہ پاکستان میں اصلاحات کیے جارہے ہیں’۔

ایک سوال پر انہوں نے وضاحت کردی ہے کہ ‘یہ قرضہ 3 برسوں کے دوران 6 ارب ڈالر کا ہے’۔

آئی ایم ایف کے شرائط پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کچھ ایسی چیزیں تھیں جس کو ہمیں خود کرنا چاہیے جیسے کہ اگر آئی ایم ایف کہے کہ اپنے حیثیت کے مطابق اخراجات کریں تو یہ ہمارے بھی مفاد میں ہے، اگر سرکاری ادارے مسلسل خسارے میں جائیں تو ان کو ٹھیک کرنا ہمارے مفاد میں ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم امیر لوگوں کو سبسڈی دیں اور اس کو روکیں اور ان سے ٹیکس زیادہ لیں تاکہ پورے ملک کا فائدہ کریں تو ایسی باتیں آئی ایم ایف بھی کہہ رہا لیکن یہ ہمارے مفاد میں بھی ہیں’۔

مشیرخزانہ نے کہا کہ ‘کئی چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان کے اندر کافی عرصے سے نہیں ہوئیں اور یہ ایک موقع ہے کہ ہم آئی ایم ایف سے پروگرام کرنے جارہے ہیں اور ہم ان مسائل، جن کو اسٹرکچرل مسائل کہا جاتا ہے یعنی دیکھیں کہ پاکستان میں ہر دور میں مسلسل برآمدات نہیں بڑھ سکیں، بیرونی سرمایہ کاری نہیں آسکی، سرکاری ادارے ویسے ہی رہے، ریونیو کبھی بھی اچھے انداز میں نہیں بڑھا سکے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں یہ دیکھنا کہ آگے جاکر ہم اپنے لوگوں کو خوش حالی کی طرف لے کرجانا چاہتے ہیں یا ان کا معیار زندگی بہتر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ اسٹرکچرل تبدیلیاں ہماری مفاد میں بھی ہیں’۔

مہنگائی کے مزید بڑھنے کا اشارہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کئی ایسے پہلو ہیں جہاں ہم اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اور ہمیں دنیا کو مالی ڈسپلن کا پیغام دینا ہے اور ساتھ ساتھ ہماری مالی حیثیت بگڑی ہوئی ہے اس کو درست کرنا ہے تو لاگت کو برابر کرنے کے لیے ہمیں کچھ قیمتیں بڑھانی ہوں گی’۔

انہوں نے کہا کہ 300 یونٹ سے کم والے صارفین پر بجلی کی زائد قیمتوں کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا جس کے لیے بجلی کی مد میں سبسڈی کے لیے 216 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور احساس پروگرام کے لیے 280 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں جن میں بی ایس پی کے لیے 80 ارب روپے اضافی رکھے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی ایم ایف پروگرام کو اصلاحات کے نقطہ نظر سے لیا گیا تو یہ آخری پیکج ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں