12

سیاستدانوں،افسران کو سرکاری خزانے سے ‘چائے پینے سے’ بھی روک دیا گیا

لاہور ہائی کورٹ نے ‘وی آئی پی کلچر’ کے خاتمے کے لیے دائر درخواست پر عبوری فیصلہ جاری کرتے ہوئے سیاستدانوں اور افسران کو سرکاری خزانے سے ‘چائے کا ایک کپ’ بھی پینے سے روک دیا۔

جسٹس امین الدین خان نے لائرز فاؤنڈیشن کی درخواست پر عبوری فیصلہ سناتے ہوئے حکمرانوں اور افسران کو سرکاری خزانے کے ذاتی استعمال سے بھی روک دیا۔

لائرز فاؤنڈیشن کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سرکاری خزانہ عوام کی امانت ہوتا ہے جسے عوامی فلاح کے لیے ہی استعمال کیا جاسکتا ہے، حکمران اور افسران سرکاری خزانے کے امین ہوتے ہیں اور اسے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔

درخواست میں کہا گیا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے سرکاری اجلاسوں میں چائے فراہم نہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ حکمرانوں اور افسران کو سرکاری خزانے کے ذاتی استعمال سے روکنے کا حکم دے۔

جسٹس امین الدین خان نے درخواست پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کے لیے 23 مئی کی تاریخ مقرر کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں