29

ایرانی ‘دھمکیوں’ کے جواب میں مشرق وسطیٰ میں مزید امریکی فوج تعینات

واشنگٹن: امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے عالمی امن کو لاحق ‘قابل عمل خطرات’ کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار 5 سو فوجی تعینات کردیئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے حوالے سے مشرق وسطیٰ میں سامنے آنے والی اس حالیہ پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ملک کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کو بتایا تھا کہ ‘ہمارے خطے میں امریکا کی موجودگی انتہائی خطرناک ہے اور یہ بین الاقوامی امن اور سیکیورٹی کے لیے خطرہ بھی ہے اور اس کا سامنا کرنا پڑے گا’۔

خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات اس وقت مزید کشیدہ صورت حال اختیار کرگئے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید معاشی پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں ایک طیارہ بردار جہاز، بی 52 بمبار طیارے اور دیگر لڑاکا طیارے تعینات کیے تھے، جس کے حوالے سے واشنگٹن کے حکام کا کہنا تھا کہ ایران مبینہ طور پر خطے میں موجود امریکی اثاثوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔گذشتہ ہفتے امریکا کے قائم مقام سیکریٹری دفاع پیٹرک شاناہن کا کہنا تھا کہ ‘یہ اقدامات ایران کی جانب سے قابل عمل خطرات کے بروقت جواب کے لیے اٹھائے گئے’۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے حالیہ پیش رفت کی منظوری دی، نے اس اقدام کو ‘حفاظتی’ قرار دیا، امریکی صدر نے جاپان جانے سے قبل صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم مشرق وسطیٰ میں تحفظ چاہتے ہیں’۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہم علاقے میں کم تعداد میں مزید فوج تعینات کررہے ہیں جن کا مقصد تحفظ ہے، ان کی تعداد ایک ہزار 5 سو ہوگی’۔

یہ فوجی اہلکار طیارہ بردار جہاز، جنگی طیاروں اور ان کے انجینئرز کے طور پر تعینات ہوں گے، 6 سو اہلکار پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس بٹالین کے لیے بھی تعینات کیے جائیں گے، جو خطے میں اپنی مزید پیش رفت کے لیے کام کریں گے۔پینٹاگون کے حکام کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ضروری تھا کیونکہ متعدد دھمکیاں موصول ہورہی تھیں اور مئی میں ایرانی فورسز، ایران کی پاسداران انقلاب اور ان کی پراکسیز کی جانب سے چھوٹے حملے بھی کیے گئے۔

ان حملوں میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں راکٹ حملہ، مشرق وسطیٰ کے داخلے کے مقام فجیرہ میں 4 تیل بردار جہازوں پر حملہ اور یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملے شامل ہیں۔یاد رہے کہ ایران نے مذکورہ حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘امریکا کے یہ دعوے ان کی دشمن پالیسوں کو استحکام دینے اور خلیج فارس میں کشیدگی پیدا کرنے کے لیے ہیں’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں