20

یورپ معاشی تعلقات بحال کرے یا کارروائی کیلئے تیار رہے، ایران

ایران کا کہنا ہے کہ یورپ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ تہران کی فوجی اہلیت پر تنقید کرے یا سوال اٹھائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے یورپی ممالک کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی پابندیوں کے باوجود تہران سے معاشی تعلقات بحال کریں یا قانونی کارروائی کے لیے تیار رہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال ایران سے کیے جانے والے جوہری معاہدے سے خود کو علیحدہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردی تھیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں ایران کے متنازع کردار کے حل کے بغیر 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے پر تنقید کی تھی، جس پر اس وقت کے امریکی صدر باراک اومابا نے دستخط کیے تھے ۔

اس معاہدے میں یورپی ممالک، فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے بھی دستخط کیے تھے، جنہوں نے بعد ازاں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں کارروائیوں کے حوالے سے امریکی خدشات کی حمایت کی تھی۔

تاہم یورپی ممالک نے ایران کے جوہری معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے ایران کے جوہری پروگرام کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور اس کے علاوہ یہ مستقبل کی بات چیت کے لیے بھی اہم ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ملک کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے حوالے سے بتایا کہ ‘یورپی ممالک جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کے علاوہ ایران پر تنقید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں’۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘یورپی ممالک اور جے سی پی او اے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک ایران سے اپنے معاشی تعلقات بحال کریں، ہم اپنے تمام وعدے پورے کریں گے یا پھر ہم اس حوالے سے کارروائی کریں گے’۔

گزشتہ ماہ ایران نے جوہری معاہدے کے تحت کیے گئے متعدد وعدوں پر عمل درآمد ترک کردیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر یورپ نے تہران کو حالیہ امریکی پابندیوں کے خلاف مدد فراہم نہ کی تو آئندہ 60 روز میں وہ تمام وعدوں پر عمل درآمد روک دے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں