37

قومی اسمبلی کاسات گھنٹے 13منٹ کا اجلاس

قومی اسمبلی کاسات گھنٹے 13منٹ کا اجلاس
شہباز شریف کی بجٹ پر بحث کے نام پر دو گھنٹے 29منٹ کی حکومت مخالف بھڑاس
بدھ کے روز 342کے ایوان میں دونوں جانب سے صرف 83ارکان کی شرکت
پتہ نہیں اسے سو پیاز اور سو جوتے کہا جائے لیکن جس ملک کے قانون بنانے والے عوام کے کروڑوں روپے صرف قانون سازی کی بجائے ضد بازی اور نعرے بازی پر خرچ کر دیں انکا خدا ہی حافظ ہے کیونکہ اس سے قبل جب ہم پارلیمنٹ کی کوریج کے لئے جایا کرتے تھے تو لاکھ اختلاف کے باوجود قوانین کے مطابق جب بھی وزیر اعظم یا قائد حزب اختلاف ایوان میں کھڑے ہوئے نہ کبھی کسی نے شور کیا اور نہ ہی ان کی تقریر کے دوران کسی خلل ڈالا اور نہ ہی ان پر وقت کی قید ہے لیکن پھر مشرف کے دور میں صدارتی تقریر کے دوران شوشرابے کی روایت بنی اس سے قبل بھٹو کے دور میں شور شرابہ کرنے پر مولانا مفتی محمود سمیت کئی ارکان کو سارجنٹ ایٹ آرمز کے ہاتھوں ہاوس سے باہر بھی نکالا جاتا رہا لیکن ماضی قریب میں یہ احتجاج بجٹ تقریر اور پھر وزیر اعظم کی تقریر کے دروان خلل سے لے کر مراد سعید اور پھر وہاں سے قائد حزب اختلاف کی تقریر کے دوران نعرے بازی پر پہنچا ا ور پھر کپتان نے بولڈ قدم اٹھایا کہ اب اگر وہ تقریر نہیں کر سکیں گے تو پھر اس ایوان میں کوئی اور لیڈر بھی نہیں بول سکے گا جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہوئے اور پھر سیز فائیر ہوا ، ہمارے لا میکر ز کو یہ سب کچھ بہت پہلے کر لینا چاہئے تھے جس سے نہ صرف جگ ہنسائی سے بچ جاتے بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے بارے میں منفی ریمارکس بھی دیکھنے کو نہ ملتے اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں پارلیمنٹ میں لڑائی مار کٹائی کی تاریخ بھری پری ہے لیکن اگر ہماری پارلیمنٹ اس سلسلہ میں نیٹ اینڈ کلین جاتی تو بہتر تھا اور پھر یہ واقعہ سیکڑوں بار ہوا جہاں اس قوم کا کروڑوں کا نقصان ہوا
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک دوسرے کے لیڈرز کی تقاریر کے دوران شور شرابہ نے کرنے کے سمجھوتہ کے بعد بدھ کے رو ز قومی اسمبلی کا اجلاس32منٹ تاخیر سے ضرور شروع ہوا لیکن ایک عرصہ کے بعدسات گھنٹے اور تیرہ منٹ جاری رہا جس میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی بجٹ 2019-20پر بجٹ کے نام پر دو گھنٹے 29منٹ کی حکومت مخالف تقریر بھی شامل تھی۔نماز کے وقفہ کے لئے بدھ کے روز سینتیس کا منٹ کا وقفہ بھی ہوا ،قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے اجلاس کی صدرات تین گھنٹے اور چار منٹ کی جبکہ باقی تمام وقت ڈپٹی سپیکر نے اجلاس کو چلایا۔اجلاس میں حسب معمول وزیر اعظم تو شریک نہ ہوئے لیکن میاں شہباز شریف نے تین گھنٹے اور سات منٹ اجلاس میں موجود رہے،جب تک سمجھوتہ نہیں ہوا تھا دونوں جانب سے سو کے قریب ارکان اجلاس میں شور شرابہ کے لئے شرکت کرتے تھے لیکن بدھ کے روز 342کے ایوان میں سے صرف 83ارکان نے اجلاس میں شرکت کی۔ گزشتہ روز حکمران جماعت کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ نوازاے این پی،ایم ایم اے،پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے ارکان نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ دس میں سے سات اقلیتی ارکان بھی اجلاس میں شریک ہوئے، وفاقی وزیر پاور اور پیٹرولیم عمر ایوب خان نے ایک گھنٹہ اور 28منٹ میں میاں شہباز شریف کی تقریر کا جواب دیا۔اجلاس میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور انکی تقریر کے جواب میں اجلاس کے سات میں سے چار گھنٹے صرف ہوئے جبکہ دس مزید ارکان قومی اسمبلی نے دو گھنٹے اور 35منٹ کی تقاریر کیں جبکہ چھ ارکان نے
پوائنٹ آف آرڈر پر تقاریر کر کے مزید دس منٹ لئے اجلاس آج دن ساڑے دس بجے دوبارہ ہو گا
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں