372

مولانا مسعود اظہر۔۔سلامتی کونسل میں قرارد داد ۔۔ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ

سلامتی کونسل کی پابندی ۔۔مولانا سفر نہیںکر سکیں گے، اکاونٹ اور اسلحہ لائسنس نہیں رکھ سکیں گے۔۔مگر
ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ ۔۔ ڈالر ایک دن میں3 سو کا اور پھر مہنگائی کا طوفان اور مشکلات کا ہمالیہ
مولانا مسعود اظہر کی قربانی ۔۔ ایف اے ٹی ایف سے بلیک لسٹ کا خطرہ ٹل اور بھارت سے مذاکرات کا آغاز
جب سے چین نے مولانا مسعود اظہر کے حوالے سے قرارداد کو ویٹو کیا ہے امریکا اور اسکے اتحادی پاکستان پر ایران طرز کی پابندیاں اورپھر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی آڑ میں پاکستان پر صدام اور عراق طرز کی کاروائیو ں کے درپے ہے اور اب تو امریکا اور اس کے اتحادی اقوام متحدہ کے مکمل پندرہ ارکان کے اجلاس میں وہ قرارداد لے آیا ہے جس میں اگر ووٹنگ ہوئی تو مولانا مسعود اظہر کودہشت گرد قرار دینے کے حوالے سے پاکستان کے خلاف قرارداد چودہ ایک سے منظور ہونے کی توقع ہے لیکن بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی کیونکہ ساری دنیا کو علم ہے کہ سلامتی کونسل ہو یا ایف اے ٹی ایف پر امریکی کنٹرول ہے اور یہ سب کچھ پاکستان کو پریشر میں لانے اور قابو کرنے کے لیے سب کچھ ہو رہا ہے ، بھارتی جارحیت کے پیچھے بھی یہی پشت پناہی تھی لیکن پاکستان کے جوابی وار سے اور پلوامہ ڈرامہ بے نقاب ہونے سے بھارتی اور امریکی ایجنڈا ناکام ہوا ، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ملک بچانے کے لیے ڈاکٹر قدیر جیسی شخصیت کی قربانی دی جا سکتی ہے تو ایک ایسے شخص کے لئے جو بھارتی جیل میں رہا ہو اور وہ ایک ڈیل کے بعد رہا ہو کر پاکستان آیا ہو اور جو اس پر الزام ہے کہ اسکی بنائی گئی جماعت جیش محمد کی جانب سے ایک ایسے وقت پر پلوامہ کا ڈرامہ رچایا گیا جب پاکستان میں سعودی ولی عہد آ رہے تھے افغان طالبان مذاکرات ہو رہے تھے پاکستان میں پی ایس ایل ہونے جا رہا تھا ، پاکستان اقتصادی طور پر ترقی کر رہا تھا ، سی پیک ، گوادر تکمیل کو جا رہا تھا ایک ایسے وقت میں اسکی جماعت کی جانب سے پلوامہ کا الزام لگایا گیا لیکن پھر بھی سوچنے کی بات ہے کہ اگر سلامتی کونسل کی جانب سے مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار بھی دیا گیا تو ہو گا کیا اس قرارداد کی کامیابی کی صورت میںہو گا کیا صرف اتنا کہ مولانا مسعود اظہر پر سفری پابندی ہو گی کہ وہ کہیں بھی اپنے پاسپورٹ سے سفر نہیں کر سکیں گے ، وہ اور اسکی جماعت پاکستان میں کوئی بینک اکاونٹ نہیں کھول یا چلا سکیں گے اور تیسراوہ کوئی اسلحہ کا لائسنس نہیں رکھ سکیں گے اقوام متحدہ کی پابندی صرف اتنی ہو گی اگر دیکھا جائے تو مولانا مسعود اظہرکی سفری پابندی ،بینک اکاونٹ اور اسلحہ لائسنس کے بدلے کیا ایک چین جیسے دوست کو امتحان میں ڈالنا چاہئے جبکہ مولانا کی پاکستان سے وفاداری اس وقت مشکوک ہو جاتی ہے کہ وہ بھارتی قید میں رہا ہے ایک جہاز کے اغوکے ڈرامے کے بعد رہا ہو کر افغانستان پھر پاکستان آیا ۔ سب سے پہلے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ کون شخص ہے جس نے دو چار یا پانچ سال سے مولانا مسعود اظہر کو دیکھا ہو، اسکا کسی بینک میں اکاونٹ ہو یا پھر اسکے پاس حکومت پاکستان کا جاری کردہ کوئی اسلحہ لائسنس ہو تو پھر اگر ایسا نہیں ہے تو پاکستان مولانا مسعود اظہر کی خاطر اتنا بڑا رسک کیوں لے رہا ہے اور چین سمیت پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کو مہنگائی کے طوفان کے آگے کیوں دھکیل رہا ہے اگر سوچا جائے تو پاکستان مولانا مسعود اظہر کے بدلے ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ سے بچنے کا ایک اچھا سودا کر سکتا ہے کیونکہ مولانا مسعود اظہر کے دہشت گرد قرار دینے سے اتنا نقصان نہیں ہو گا جتنا پاکستان کو جون میں ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ قرار دیئے جانے کے بعد ڈالر کا فوری طور پر تین سو تک پہنچنے اور پیٹرول تین سو روپے فی لیٹر ہوجانے کا امکان ہے کیونکہ پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائیر جو اب 8ارب ڈالر ہیں وہ صرف تین ماہ میں ختم ہو جائینگے جب پاکستان پر ڈالر کے استعمال پر پابندی لگ جاے گی کیونکہ اب بھی پاکستان جو ایک ڈالر بھی ٹرانسفر کرتا ہے وہ پہلے نیویارک جاتا ہے پھر کسی دوسرے اکاونٹ میں جاتا ہے اس لئے اگر مہنگائی اور اپوزیشن کی بلیک میلنگ سے بچنا ہے تو مولانا مسعود اظہر کی قربانی دے کر جیسے ایک وقت میں ڈاکٹر قدیر کی قربانی دی تھی ویسے قربانی دے کر پاکستان کو پھر سے بچایا جا سکتا ہے ، کیونکہ عمران خان کی مخالفت کے باوجود این آر او ہوچکا ہے نواز شریف اپنے گھر جبکہ آصف زرداری اور انکی بہن ضمانت لے کر اپنے ٹرین مارچ کا فائدہ لے چکے ہیں اگر پاکستان نے مزید تباہی سے بچنا ہے اور بھارت سے مذاکرات چاہتا ہے تو امریکی ایک ضد مان لے اور بہت سے فائدے حاصل کر لے جیسے بھٹو شملہ جا کر بھی نوے ہزار قیدی واپس لے آئے تھے اور ایک حکمران نے ڈاکٹر قدیر کی قربانی دے کر پاکستان کو مزید پابندیوں سے بچایا تھا اس کے لئے سب کو اعتماد میں لینا ہو گا جس کا اغاز شہباز شریف کے خط لکھ کر حکومت آغاز کر چکی ہے ۔ اگر یہ آغاز پہلے ہو چکا ہوتا جب پارلیمنٹ میں آرمی چیف کی بریفنگ سے سرف نظر کر کے موقع ضائع کیا تھا اگر مشترکہ اجلاس میں ملک کے وسیع تر مفاد میں وزیر اعظم ساری اپوزیشن سے ہاتھ ملا لیتے تو آج انکا بھی قد بڑا ہوتا اور پاکستان کی مشکلات بھی کم ہوتیں ۔ کبھی کبھی ملک کے وسیع تر مفاد میں این آر او کرنے پڑتے ہیں ورنہ سو پیاز بھی ہوتے ہیں اور سو۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں