216

بستیاں الّو اجاڑتےہیں یا عدالتیں ؟

بستیاں الّو اجاڑتےہیں یا عدالتیں ؟
سب نے دیکھا کہ اس ملک میں منتخب وزیر اعظم عدالتی پھانسیاں ، نااہلیاں اور جلاوطنیاں کاٹتے رہے
ایک ہی بندے کو پانامہ کی بجائے اقامہ پر سزا ، سزا کے بعد ضمانت پر رہا ۔۔کیا اسے انصاف کہتے ہیں

کہتے ہیں کہ ایک طوطا طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ہوا ،ویرانی دیکھ کر طوطی نے طوطے سے پوچھاکس قدر ویران گاوں ہے؟طوطے نے کہا لگتا ہے یہاں کسی اُلو کا گزر ہوا ہے جس وقت طوطا طوطی باتیں کر رہے تھے ،عین اس وقت ایک الّو بھی وہاں سے گزر رہا تھا،اس نے طوطے کی بات سنی اور وہاں رک کر ان سے مخاطب ہوکر بولا،تم لوگ اس گاوں میں مسافرلگتے ہو،آج رات تم لوگ میرے مہمان بن جا،میرے ساتھ کھانا کھا،الّو کی محبت بھری دعوت سے طوطے کا جوڑا انکار نہ کرسکا اور انہوں نے الّو کی دعوت قبول کرلی،کھانا کھا کر جب انہوں نے رخصت ہونے کی اجازت چاہی،تو اُلو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا ..تم کہاں جا رہی ہوطوطی پریشان ہو کر بولی یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے ،میں اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا رہی ہوں۔۔۔، الّو یہ سن کر ہنسا..اور کہا ..یہ تم کیا کہ رہی ہوتم تو میری بیوی ہو.اس پہ طوطا طوطی الو پر جھپٹ پڑے اور گرما گرمی شروع ہو گئی،دونوں میں جب بحث و تکرار زیادہ بڑھی تو الّو نے طوطے کے کے سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہاایسا کرتے ہیں ہم تینوں عدالت چلتے ہیں اور اپنا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کرتے ہیں،قاضی جو فیصلہ کرے وہ ہمیں قبول ہوگا الّو کی تجویز پر طوطا اور طوطی مان گئے اور تینوں قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے ،قاضی نے دلائل کی روشنی میںالّو کے حق میں فیصلہ دے کر عدالت برخاست کردی،طوطا اس بے انصافی پر روتا ہوا چل دیا تو الّو نے اسے آواز دی ،بھائی اکیلئے کہاں جاتے ہواپنی بیوی کو تو ساتھ لیتے جاطوطے نے حیرانی سے الّو کی طرف دیکھا اور بولا اب کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہو،یہ اب میری بیوی کہاں ہے ،عدالت نے تو اسے تمہاری بیوی قرار دے دیا ہے الو نے طوطے کی بات سن کر نرمی سے بولا،نہیں دوست طوطی میری نہیں تمہاری ہی بیوی ہے-میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں اُلو ویران نہیں کرتے.بستیاں تب ویران ہوتی ہیں جب ان سے انصاف اٹھ جاتا ہے!
جس معاشرے میں منتخب امیر کے لئے اور غریب کے لئے اور قانون ہو ، جہاں پر دفعہ ایک سو نو پر منتخب وزیر اعظم کو پھانسی، تیس سیکنڈ کی سزااور پانامہ کی بجائے اقامہ پر ساری زندگی کے لئے نااہل قرار دیا جائے ، پھر جن کو سزا دی جائے انہیں چائے وہ دس سال ہو یا عمر قید کی سزا پھر انہیں ضمانتوں پر رہا کر دیا جائے ،جس ملک میں کروڑں کی بجائے اربوں کی کرپشن کرنے والے دنیا ئے کھیل کے سب سے کرپٹ

ڈی جی اختر نواز کو چند ماہ بعد ضمانت پر رہائی ملک جائے ، جس ملک میں عدالت چار حلقوں میں دھاندلی تسلیم کرے لیکن سارے الیکشن کو درست قرار دئے جس ملک میں ملک ریاض کو عدالت بلا کر پھر پلاٹ ھاصل کئے جائیں جس ملک کے قاضی کا بیٹا عدالت میںنہ آسکے جس ملک میں نظریہ ضرورت پر مارشل لا کو قانونی اور ایمرجنسی کو غداری قرار دیا جائے جس ملک کے قاضی ڈیم فنڈ بنائیں اور پھر افتتاح بھی کریں اس ملک میں پھر بدنام الّو ہوں تو سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ
جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی ۔۔اس عہدکے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے۔۔۔
جب لوگ لاہور ہائی کورٹ کو لوہار ہائی کورٹ کہنا شروع کر دیں تو قاضی وقت کو توہین عدالت کے نوٹس نہیں تمام قاضیوں کو اکٹھا کر کے فیصلہ
کرنا چاہے کہ بس اب بہت ہو گا اس ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گیا سب ملک کر ایک میثاق انصاف کریں کہ اب گناہ گار کو ہی سزا ملے گی بادی النظر کے مطابق نہیں قانون کے مطابق سزا ہو گی اور جو تفتیشی کیس کی تفتیش میں پیسے لے کر ڈنڈی مارے گا اسے وہ ہی سزا ملے گی جس سے اسے بچانے کی کوشش کی جیسے جھوٹے گواہ ، جھوٹی ایف آئی آر یا جھوٹی تفتیش پھر دیکھنا کہ ایف آئی اے والے نیب والے یا تفتیشی ادارے سیدھے ہوتے ہیں کہ نہیں پھر سب کے لئے ایک قانون ہوتا ہے کہ نہیں ابھی بھی اس ملک کو بچانا ہے تو بس ہر طرف انصاف کا بول بالا کرنا ہے کیونکہ یہ تحریک انصاف کی حکومت ہے اسے انصاف کی حکومت بس عدلیہ ہی بنا سکتی ہے اور تاکہ کسی الّو کو پھر سے یہ نہ کہنا پڑے کہ بستیاں الّو نہیں بے انصافی سے اجرتی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں