53

‘شہباز شریف نے بیرون ملک جانے سے قبل عدالت سے اجازت نہیں لی’

لاہور کی احتساب عدالت نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی 14 روز تک حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر قومی احتساب بیورو (نیب) سے جواب طلب کرلیا۔

احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے رمضان شوگر مل اور آشیانہ ریفرنس کی سماعت کی۔پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز رمضان شوگر مل ریفرنس میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے لیکن ان کے والد اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف علاج کے لیے بیرون ملک مقیم ہونے کی وجہ سے پیش نہ ہوسکے۔

دوران سماعت شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 7 جون کو شہباز شریف کی ڈاکٹر کے ساتھ اپوائنٹمنٹ ہے، جس پر احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیئے کہ میرے سامنے کونسی ایسی دستاویز پیش کی گئی ہے جس سے معلوم ہوسکے کہ ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں؟شہباز شریف کے وکیل نے بتایا کہ ان کے مؤکل کی عدم موجودگی میں بھی ٹرائل رکا نہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو حتمی تاریخ بتائیں کہ کب شہباز شریف پاکستان واپس آئیں گے۔

شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان کے ڈاکٹرز نے برطانیہ میں علاج تجویز کیا ہے، وہ مستقل استثنیٰ نہیں مانگ رہے صرف 2 ہفتوں کی بات ہے۔اس موقع پر نیب کے وکیل وارث جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف نے ملک سے باہر جانے سے قبل عدالت سے اجازت نہیں لی، وہ عدالت کی اجازت کے بغیر کیسے ملک سے باہر جا سکتے ہیں؟

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ احتساب عدالت کے جج کی عدم تعنیاتی پر 200 کیسز کا ٹرائل رک چکا ہے۔نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ آشیانہ ریفرنس میں 10 ملزمان ہیں، سب عدالت کے سامنے موجود ہیں لیکن شہباز شریف کی عدم پیشی پر ٹرائل رک چکا ہے۔

بعد ازاں احتساب عدالت نے شہباز شریف کی آج (بروز ہفتہ) کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے نیب سے شہباز شریف کی 14 روز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

علاوہ ازیں احتساب عدالت نے شہباز شریف کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل سے ہدایت لے لیں کہ وہ کب پیش ہوں گے اور عدالت کو 28 مئی تک حتمی تاریخ سے آگاہ کریں۔کیس کی سماعت 28 مئی تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

عمران نیازی اور چیئرمین نیب قومی اسمبلی میں آکر وضاحت دیں، حمزہ شہباز

احتساب عدالت میں پیشی کے بعد حمزہ شہباز نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو کلین چٹ دینے کی باتیں کرکے نیب پارٹی بن چکا ہے۔

انہوں نے چیئرمین نیب کے حالیہ انٹرویو کے حوالے سے کہا کہ چیئرمین نیب کے انٹرویو سے پوری قوم ہیجان میں مبتلا ہے، اس انٹرویو سے لگتا ہے اپوزیشن کا احتساب ہو رہا ہے جبکہ حکومتی بینچوں سے پیار ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو بلایا جاتا ہے صاف پانی کی تحقیقات میں اور گرفتار آشیانہ میں کیا جاتا ہے جبکہ نکلتا کچھ نہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ نیب اور نیازی گھٹ جوڑ بن چکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ کسی کی ذاتیات پر بات نہیں کروں گا مگر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بننی چاہیے۔

حمزہ شہباز نے کہا کہ آئینی عہدے کا تقاضا ہے کہ عمران خان نیازی اور چیئرمین نیب قومی اسمبلی میں آئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائیں، ورنہ یہ احتساب نہیں، تماشا بن چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب لوگوں کی پگڑیاں اچھالتا ہے، اگر عمران خان کا نیب پر اتنا ہی دباؤ ہے تو عوام کو بتایا جائے اور عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کیا نیب احتساب کے نام پر سیاست کررہی ہے۔

حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت ڈوب رہی ہے نیب کاروباری افراد کو مزید ڈرا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں