78

مودی کی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں، نئے وزرا نے قلمدان سنبھال لیے

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے عام انتخابات میں واضح کامیابی کے بعد اپنی نئی کابینہ تشکیل دے دی جس میں خارجہ امور کی وزیر سمیت بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر امیت شاہ کو وزیر داخلہ اور خاتون رکن کو وزیر خزانہ مقرر کردیا گیا ہے۔

نریندر مودی نے دوسری مدت کے لیے وزیر اعظم کا حلف 30 مئی کو پڑوسی ممالک بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور مالدیپ کے سربراہان مملکت کی موجودگی میں اٹھایا تھا جس کے بعد پرانی کابینہ اور انتظامیہ کے 3 درجن کے قریب وزرا اور معاونین کو تبدیل کرتے ہوئے نئے اراکین کو ذمہ داریاں دے دیں۔

بی جے پی کے صدر اور بھارتی وزیراعظم کے انتہائی قریبی ساتھی امیت شاہ کو وزارت داخلہ کا قلم دان سونپ دیا گیا جنہوں نے مودی کی دوسری مدت کے لیے کامیابی کے لیے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔

سخت گیر ہندو قوم پرست بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کو متنازع شخصیت تصور کیا جاتا ہے جن پر 2005 میں آبائی ریاست گجرات میں 3 افراد کا ماورا قانون قتل کا الزام ہے اور ان پر مغربی ریاست میں داخلے پر پابندی تھی تاہم انہیں 2014 میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا گیا تھا۔

بی جے پی کی قیادت نے خارجہ امور کی سابق وزیر سشما سوراج کو اس مرتبہ کابینہ میں شامل نہیں کیا اور ان کی جگہ سابق سفارت کار ایس جے شنکر کو خارجہ امور کا قلم دان تفویض کر دیا ہے۔

نئے وزیر خارجہ امور کو چینی امور کا ماہر تصور کیا جاتا ہے جو ماضی میں واشنگٹن میں بھارتی سفیر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ گزشتہ مدت میں وہ مودی کے سفارتی امور پر مشیر تھے اس سے قبل وہ ریٹائرمنٹ تک وزارت خارجہ کی انتظامیہ میں شامل تھے۔

سشما سوراج کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ انہیں خراب صحت کے باعث کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے، انہوں نے 2016 میں گردے کی پیوند کاری کروائی تھی۔

این ڈی ٹی وی میں شائع رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے رہنما راج ناتھ سنگھ کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے۔

بھارتی تاریخ میں وزارت خزانہ کا قلم دان پہلی مرتبہ خاتون سیاستدان نرملا سیتا رمن کو سونپا گیا جو گزشتہ کابینہ میں وزیر دفاع تھیں تاہم انہیں ملک میں معاشی اصلاحات اور ترقی کی سست ہوتی رفتار میں تبدیلیاں لاتے ہوئے بھارت کو ایشیا میں ایک بہتر معاشی طاقت بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

سابق وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو ان کی خراب صحت کے باعث کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

وزارت روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کا قلمدان کا قرعہ نتن گڈکاری کے نام نکلا۔

کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی کے مقابلے میں ناقابل یقین کامیابی حاصل کرنے والی سمرتی ایرانی کو وزیر وومن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ بنایا گیا ہے۔

روی شنکر پرداس کو وزارت قانون، وزارت اطلاعات اور وزارت الیکڑونکس اینڈ انفارمیشن کے قلمدان سونپے گئے۔

بی جے پی کے مسلمان رہنما مختار عباس نقوی کو وزیر اقلیتی امور مقرر کیا گیا۔

مودی کی نئی بھاری بھر کم کابینہ کے 24 وزرا اور 30 نائب وزرا نے 30 مئی کو ہی حلف اٹھایا تھا جن کے قلم دان کی تفصیلات اب جاری کردی گئی ہیںْ

خیال رہے کہ بھارت کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کو واضح برتری حاصل رہی۔

حیرت کی بات ہے کہ بی جے پی کا ایک بھی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا تاہم مجموعی طور پر 22 مسلمان امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا کی 542 نشستوں میں سے 303 پر کامیابی حاصل کی تھی اور یہ اس کی گزشتہ انتخابات سے بھی بڑی کامیابی تھی۔

بھارت میں حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت کو 272 نشستیں درکار ہوتی ہیں اور بی جے پی نے انفرادی طور پر مطلوبہ تعداد سے زیادہ حاصل کیں، یوں وہ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔

1984 کے بعد پہلا موقع تھا کہ بی جے پی نے ایوان زیریں کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی ہے۔

گزشتہ دنوں آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے رکن نرنجن ساہو نے بتایا تھا کہ ’ پلوٹوکریسی ( دولت کی طاقت ) کا رجحان ہے‘۔

نئی دہلی میں قائم سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز کے ایک اندازے کے مطابق 2014 کے انتخابات میں 5 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے جس کی وجہ سے مودی کی بی جے پی اقتدار میں آئی تھی جبکہ 2009 کے انتخابات میں 2 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں