138

سازشوں سے ہاری پاکستانی ٹیم کا ورلڈکپ سفر اختتام پذیر

سازشوں سے ہاری پاکستانی ٹیم کا ورلڈکپ سفر اختتام پذیر
بگ تھری کے ساتھ ساتھ ٹیم مینجمنٹ کی سستیکا بھی میگا ایونٹ سے شاہینوں کو باہر کرنے میں کردار رہا
قوم کو اپنے ہیروز کو بیک کرتے ہوئے چیمپئین ٹرافی سے واپسی کی طرح ہی استقبال کرنا چاہئے

اس وقت پاکستان میں موجود شائقین کرکٹ کے دلوں میں پاکستان کیلئے کافی غصہ موجود ہوگا لیکن وہ تمام شائقین کا غصہ بلکل بجا ہے کیونکہ ان کی کرکٹ کھیل سے وابستگی کی حد کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے مگر ان کے دلوں سے غصہ کافی حد تک کم ہو جائے گا جب وہ ان تمام حقیقت سے آشناہ ہوگے کہ پاکستان ٹیم کو باہر کرنے میں بگ تھری کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش اور افغانستان، آئی سی سی گویا کہ تمام ٹیمیں مخالف تھیں اور دیکھا گیا کیسے پاکستان کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے میں تمام تر عناصر پیش پیش رہے پاکستان ٹیم کو ایک طرف مقدروں کے ساتھ لڑنا تھا اسی وقت اس کا مقابلہ دوسری مخالف ٹیم کے ساتھ ہوتا تھا ۔
ورلڈ کپ مین گرین شرٹ کی پرفامنس اندازہ لگایا جائے تو پاکستان ٹیم کی کارگردکی سوائے پہلے میچ کے کافی حد تک بہتر رہی اگر ہم انڈیا کیخلاف اپنی کارگردگی کی بات کریں تو انڈیا سے تو ہم اس وقت بھی نہیں جیت پائے تھے جب گریٹ عمران خان تھا گریٹ وسیم اکرم کی ٹیم تھی اور وہ ٹیم آج بھی پاکستان کی تاریخ میں سب سے اچھی تصور کی جاتی ہے اس کے علاوہ پاکستان نے شاید ہی کو ئی خراب پرفامنس دی ہو یاد رہے پاکستان نے دو ایسی ٹیموں کو شکست دی جو بظاہر آسان حریف تھے مگر گراونڈ میں اتنے آسان حریف نہیں ثابت ہوتے اور یہ شکست ان کوبھی تھی جنھوں نے پاکستان کو باہر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا
اس ورلڈ کپ میں پاکستانی پلیئرز کی انفرادی کارکردگی کی بات کی جائے تو وہ بھی کافی حد تک مطمئن رہی سوائے دو سینئرز کے علاوہ، بالنگ بیٹنگ اور فیلڈنگ میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے کو آئی۔
اب بات کر لیتے ہیں پاکستان کے ہار کی، پاکستان یہ تمام شازشیں ناکام بنا سکتا تھا اگر ٹیم کے ساتھ مینجمنٹ ٹیم کو باور کرواتی کہ رن ریٹ کی بنا پر ہمیشہ آگے گئیہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رن ریٹ کی بنا پر باہر بھیہوجائے اور آج وہ ہو گیا بگ تھری کی سازش تو تمام لوگوں کے سامنے کہ کیسے بھارت میزبان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا کس طرح پاکستان کو اس ورلڈ کپ سے باہر کرنے میں بگ تھری اور دوسرے تمام عناصر سر گرم رہے۔
پاکستا ن اگرچہ سیمی فائیل میں جگہ نہ بنا سکا مگر اس نے انگلینڈ نیوزی لینڈ جنوبی افریقہ بنگلہ دیش جیسی اچھی ٹیموں کو شکست دی اور بھارت کی بی ٹیم یعنی افغانستان کو بھی ہار کا مزہ چکھایا ایک اچھی بات یہ کہ پاکستان نے ورلڈکپ میں ایک اچھی جیت کے ساتھ اپنا ورلڈکپ کا سفر اختتام کیا اور یہ کپتان اور مینجمنٹ کا بہترین فیصلہ تھا کہ پانچ سو سکور کرنے کی بجائے جیت پر فوکس کیا جائے اگر پاکستانی ٹیم اس ٹوٹل کی طرف جاتی تو شائد میچ بھی نا جیت پاتی عوام کو اپنے ہیرو کو بیک کرنا چاہیے اور انکا اسی طرح سے استقبال کرنا چاہئے جیسے چیمپیئن ٹرافی جیتنے کے بعد کیا گیاتھا اور زندہ قومیں اپنے ہیروز کی قدر کرتی ہیںیاد رہے کہ قومی ٹیم آج لندن سے دوبئی روانہ ہوگی جہاں سے کھلاڑی اپنے اپنے شہروں کو جائینگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں