7

مکی آرتھر کا ورلڈکپ میں ٹیم کی خراب کارکردگی کا اعتراف

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے اعتراف کیا ہے کہ قومی ٹیم کا ورلڈکپ میں اختتام ویسا نہیں ہوا جس کی خواہش تھی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ ایونٹ میں ٹیم کا اختتام بہت مایوس کن رہا جس میں بہت زیادہ نشیب و فراز تھے۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ایونٹ میں اپنے پہلے پانچ میچوں کو دیکھیں اور اس کے بعد آخری 4 میچوں کو دیکھیں تو اس میں ٹیم کی علیحدہ علیحدہ پرفارمنس دکھائی دیتی ہیں۔

مکی آرتھر نے اعتراف کیا کہ پاکستانی ٹیم کے لیے ورلڈکپ مہم کا اختتام ویسا نہیں ہوا جس کی خواہش تھی اور یہ بہت ہی مایوس کن ہے۔

خیال رہے کہ اپنے آخری گروپ میچ میں پاکستانی ٹیم کو ون ڈے کی تاریخ کے کئی عالمی ریکارڈز توڑتے ہوئے بنگلہ دیش کو شکست دینی تھی جو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی آخری امید تھی، تاہم امیدوں کے بر عکس ایسا نہیں ہوسکا۔

اپنے آخری گروپ میچ میں قومی ٹیم نے بنگلہ دیش کو 94 رنز کے مارجن سے شکست دے کر گروپ اسٹیج میں نیوزی لینڈ کی طرح 11 پوائنٹس تو حاصل کر لیے لیکن کیویز کے مقابلے میں رن ریٹ خراب ہونے کی وجہ سے قومی ٹیم سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں ناکام رہی۔

پاکستانی ٹیم ایونٹ میں اپنے ابتدائی 5 میچوں میں سے صرف ایک میچ میں کامیابی حاصل کر سکی جبکہ اسے 3 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا جبکہ اپنے بقیہ 4 میچوں میں قومی ٹیم نے مسلسل فتوحات سمیٹیں۔

بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں کھلاڑیوں کی بیٹنگ سے متعلق مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ حریف ٹیم کے خلاف بڑا اسکور کرنے کا عزم ہی لے کر ٹیم میدان میں اتری تھی تاہم وکٹ سست ہونے کی وجہ سے بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے۔

میچ کے دوران ہی پاکستانی اوپنر فخر زمان نے اس بات کا انکشاف کردیا تھا کہ قومی ٹیم بڑا اسکور نہیں کرسکتی جس کی وجہ سے سیمی فائنل میں پہنچنا ناممکن ہے۔

مکی آرتھر نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘یہ جھوٹ ہوگا اگر میں کہوں گا کہ اس معاملے می بات نہیں ہوئی، ہم نے ٹاس جیتا جو میچ میں ہمارے لیے اچھا آغاز تھا اور ہم نے 400 کا ہندسہ عبور کرنے کے لیے پلیٹ فارم تو تیار کر لیا تھا، لیکن جب فخر زمان آؤٹ ہوکر پویلین لوٹے تو انہوں نے بتایا کہ وکٹ سست ہے اور یہاں اسکور کرنا بہت مشکل ہورہا ہے۔’

مکی آرتھر نے اعتراف کیا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ایونٹ کے پہلے ہی میچ میں قومی ٹیم کی بڑے مارجن سے شکست نے ٹیم کو نقصان پہنچایا، اور جس طرح ٹیم کو شکست ہوئی ایسے میں دوبارہ اپنا رن ریٹ حاصل کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

اس کے باوجود قومی ٹیم کے کوچ نے سیمی فائنلسٹ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستانی جیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایونٹ کی 4 بہترین ٹیموں میں سے 2 کو شکست دی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بطور کرکٹ ٹیم ہم زیادہ دور نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں