226

سینٹ عدم اعتماد۔۔باغی کون۔۔ڈھونڈے کون

سینٹ عدم اعتماد۔۔باغی کون۔۔ڈھونڈے کون
اینٹ سے اینٹ ۔۔۔روک سکو تو روک لو۔۔۔ووٹ کو عزت دو


پیپلز پارٹی رحمان ملک، سلیم مانڈیوالہ،روبینہ خالد، سسی پلیجو، سکندر مینگریو، شیریں رحمان، اسلام الدین شیخ پر مشتمل
نوازلیگ کلثوم پروین،مشاہد سید، جنرل قیوم، ترمزی، کامران مائیکل، دلاور خان،جاوید عباسی کو کمیٹیوں میں نامزدکرے
جبکہ اسفند یار ولی کو ستارہ ایاز مولانا فضل الرحمان کو طلحہ محمود جبکہ میر حاصل بزنجوکوڈاکٹر اشوک کمار پر مشتمل کمیٹی بنانی چاہیے
جب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق کارکن چیئرمین سینٹ بنے اس وقت سے وہ پاکستا ن کے آئین سے غداری ، جمہوریت کے راستے میں روڑے اٹکانے ، اپوزیشن کو ایوان میں بولنے نا دینے اور حکومتی سنیٹرز جبکہ وزیر وں پر ایوان میں پابندی نہ لگانے ، طاقت کے بل بوتے پر حکومتی بل منظور کرنے ،اپوزیشن کی ترامیم شامل نہ کرنے ، سنیٹرز اورخاص کر اپوزیشن کے سنیٹرز کو اپنے کمرے کی زینت نہ بننے دینے، اپوزیشن کی سفارش پر سینٹ میں بھرتیاں نا کرنے جیسے آئین کش اقدامات کر رہے تھے اس وقت سے پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں اس طاق میں تھیں کہ کسی نا کسی طریقے سے وہ مزید غلطی کریں تاکہ ان کو عہدے سے ہٹا دیا جائے


یہ تو پاکستانی بھولی بھالی عوام کی خام خیالی تھی جو سمجھ رہی تھی کہ شایددو پارٹیوں نے اپنے اسیروں کو این آر او دلانے اور ایک ادارے کو نیچا دکھانے کی کوشش تھی ایسا ہرگز نہیں تھا، یہ تو چیئرمین کے خلاف چارج شیٹ اتنی لمبی تھی اور یہ جمہوریت کی بالادستی کے لئے ایک ایسی مووتھی جس کے بعد ملک میں مہنگائی ،ڈالر کی قیمت کم ہونے، ملک میں انصاف کے بول بالا کی طرف ایک قدم تھالیکن شاید سب پر بھاری سیاستدان اور پنجاب کے بعد پاکستان کے خادم نے جب ملک میں متنازعہ ترین الیکشن ہوئے اس وقت جب یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ ان ڈھونگ اور سلیکٹڈ اسمبلی میں نہیں جانا تو پھر مولانا اور نواز لیگ کے اہم لیڈرز نے ان دونوں رہنماوں سے بغاوت کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا کہ نہیں جمہوریت کی خاطرحلف اٹھانا چاہیے اور پھر جب وزیر اعظم کا الیکشن ہوا تو ان دونوں نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کر کے کوئی حکومت کو محفوظ راستہ نہیں دیا تھا وہ اصل میں جمہوریت کی خدمت تھی ، پھر جب ملک میں صدر کا الیکشن ہوا تھا تو دونوں نے مل کر جمہوریت کی خدمت کی تھی اور مشترکہ کی بجائے اپنے اپنے امیدوارکو کوئی جمہوریت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے نہیں کھڑے کئے تھے ملک میں جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے کی طرف ایک قدم تھا اور پھر جب ایک پارٹی کے سربراہ کو جیل یاترہ کروائی گئی تو دوسرے نے منی لانڈرنگ اور جعلی اکاونٹس پر نہیں جمہوریت کی خاطر لال مسجد کے سامنے، اپنے شاہی محل میں نہیں ایک بوسیدہ کمرے میں جانے کے لیے قربانی دی تھی اور اس وقت سے وہ ساری راتیں ادھر ہی گزار رہے ہیں اور ان کے شوق اور استعمال کی ساری ادویات ادھر ہی مہیا کی جا رہی ہیں وہ رات کو ایک قدم بھی باہر نہیں نکالتے نہ ہی ملک ریاض یا اداروں کے اہم لوگ ادھر انہیں مل سکتے ہیں اب سینٹ الیکشن میں ملک ریاض سمیت سے لے کر اب پارہ میں ریڑھی لگانے والے تک کو تیس جولائی کی رات ملنے کی اجازت نہیں تھی چاہے سیف سٹی کے کیمروں سے چیک کر لیا جائے


جب عدم اعتماد کی تحریک میں چودہ ووٹ کم ہوئے تو یہی وجہ ہے تمام اپوزیشن جماعتوں نے مل کر ان سنیٹرز کی فہرست تیار کرنے کا فیصلہ کیا
ہے جنہوں نے اپنی اپنی جماعتوں سے غداری کی تھی اور پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ ڈالے تھے اس لئے عوام کے پرزور اصرار پر سب پر بھاری کے قریب ترین سنیٹرز رحمان ملک، روبینہ خالد،سلیم مانڈیوالہ، شیریں رحمان، سسی پلیجو، ڈاکٹر سکندر مینگریو، اسلام الدین شیخ جیسے پارٹی کے وفاداروں پر مشتمل ایک انکوائیری کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا گیا اوراس میں بلاول کیمپ کے تمام مشکوک لوگ جن میں رضاربانی، فرحت اللہ بابر ، مصطفی نواز کھوکھر جیسے شرپسندوں کو شامل نا کیئے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے


عوام نے نواز لیگ سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پارٹی کی دیرینہ کارکن اور پارٹی کے لئے بے بہا قربانیاں دینی والی شخصیت سنیٹر کلثوم پروین، جمہوریت کی خاطر ق لیگ تک کو چھوڑنے والے مشاہد حسین سید اورجس صوبے میں سب سے کم ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے وہاں سے میرٹ پر منتخب ہونے والے دلاور خاں کو جبکہ نیب کے سامنے نا جھکنے والے کامران مایکل کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا جائے جبکہ جن دو جرنیلوں جنہوں نے جمہوریت کی خاطر وقت کے ڈکٹیٹرز سے ٹکر لی تھی انہیں بھی پارٹی میں شامل کیا جائے المصطفی ٹاورز سمیت سی ڈی اے سے لیز کینسل کی دھمکیوں کو خاطر میں نا لانے والے جاوید عباسی کو بھی شامل کیا جائے اس کمیٹی میں جبکہ ڈنڈے ماریں اور جیلوں کی صعوبتیں برداشت کرنے والے امریکی سنیٹر شاہین ڈار اور رانا مقبول بھی کمیٹی کے رکن ہونے چاہیں اسی طرح مصدق ملک جیسے کارکنوں بھی اس کمیٹی میں شامل ہونے چاہیں، جبکہ اسنفند یار ولی کو ہر دلعزیز کارکن ستارہ ایاز، مولانا فضل الرحمان پر جان نچھاور کرنے والے پارٹی کارکن طلحہ محمود او میر حاصل بزنجو ر نیشنل پارٹی میں ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے ڈاکٹر اشوک کمار کو اپنی اپنی پارٹی میں انکوائیری کمیٹی میں شامل کریں پھر دیکھیں وہ کس طرح پرویز رشید، مشاہد اللہ خان، صابر شاہ ،میاں رضا ربانی، فاروق نائیک ،مصطفی نوازکھوکھر ، ڈاکٹر کرمانی ، سلیم ضیا، مولانا عطا الرحمان سمیت تمام ارکان سے کیسی تفتیش کرتے ہیں اور کیسے کیسے مشکل سوال کرتے ہیں اور کیسے اگلواتے ہیں کہ کس کس نے کیا کیا۔۔ کیا ۔۔اور جلد اپنی اپنی پارٹی کو باغیوں کے نام دیتے ہیں کیونکہ اب تو وقت آیا ہے اینٹ سے اینٹ کون بجاتا اور روک سکو تو روک لو اور ووٹ کو عزت کیسے دلائی جاتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply