39

بدقسمتی سے چین کی طرح کرپشن کیخلاف نہیں نمٹ سکتا، عمران خان

اسلام آباد(روزنامہ میٹرو واچ نیوز)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے چین کی طرح کرپشن کیخلاف نہیں نمٹ سکتا، بدقسمتی سے میرے پاس چینی ماڈل نہیں ہے،چین نے 450 حکومتی اہلکاروں کو جیل میں ڈالا، کاش میں کرپٹ لوگوں کے ساتھ وہ کرسکتا جس طرح چین نے کیا، ہرکسی کو چین سے سیکھنا چاہیے۔ امریکی تھنک ٹینکس کونسل فارفارن ریلیشنز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرکٹ سے میں سیکھا کہ کامیابی کیلئے کیسے جدوجہد کی جاتی ہے۔کھیل آپ زندگی کے اہم سبق سکھاتے ہیں۔میں نے کرکٹ میں سیکھا کہ مقصد کو حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کیسے کرنی ہے۔22 سال کی جدوجہد کے بعد اس مقام پر پہنچا ہوں۔انہوں نے کہا کہ 13ماہ پہلے حکومت ملی تومعاشی حالات بہت خراب تھے۔

ماضی کی حکومتوں نے مالی معاملات احسن طریقے سے نہیں چلائے۔سابق حکومتوں کی ناکامیوں کے باعث بدحال معیشت ورثے میں ملی، جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔مالی خسارہ زیادہ ہوتوملکی معیشت برے حال میں ہوتی ہے۔گھروں کو چلانے کیلئے بھی اخراجات کم اور آمدن بڑھا نا ہوتی ہے۔لیکن ماضی میں اخراجات کے مقابلے میں آمدن کو نہیں بڑھایا گیا۔گزشتہ زمانے میں 5فیصد معاشی ترقی کی شرح درآمدات کی وجہ سے تھی۔چین ، سعودی عرب اور یواے ای کی مدد سے معیشت کو سنبھالا، چین سے صنعتیں پاکستان آنے پر ہماری معیشت پاؤں پر کھڑی ہوئی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا نائن الیون کے بعد امریکا کی دہشتگردی کی جنگ کا حصہ بننا تاریخ کی سب سے بڑی غلطی تھی۔روس کیخلاف جنگ میں جہادیوں کو ہیروبنایا گیا، پاکستان نے روس کیخلاف امریکا کے ساتھ ملکر مزاحمت کی۔ لیکن امریکا نے افغانستان سے جانے کے بعد پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا۔پھر نائن الیون کے بعد امریکا اچانک ان جہادیوں کو دہشتگرد کہنا شروع کردیا۔نائن الیون کے بعد امریکا کو پھر پاکستان کی ضرورت پڑی اورہمیں کہا گیا کہ ان جہادیوں کے خلاف لڑیں۔دہشتگردی کی جنگ میں 70ہزار پاکستانیوں نے جانیں قربان کیں۔ جبکہ 200ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 27لاکھ افغان مہاجرین رہ رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میں واحد وہ شخص ہوں جس کا ہمیشہ مئوقف رہا کہ افغان مسئلے کا واحد حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔2008ء میں امریکا آیا تو یہاں بتایا کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں۔کیونکہ افغان آپس میں لڑتے ہیں لیکن بیرونی حملے کے خلاف ملکر لڑتے ہیں۔ماضی کے مقابلے میں طالبان زیادہ مضبوط ہیں ان کا مورال زیادہ بلند ہے۔افغان شہری 40سال سے مشکل صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔پاکستانی فوج اور طالبان کے درمیان تعلقات رہے ہیں،سب جانتے ہیں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے طالبان کو ٹریننگ دی۔میرا نہیں خیال کہ طالبان افغانستان پرکنٹرول حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب جب افغان امن مذاکرات کے معاہدے پر دستخط ہونے والے تھے تو امریکا نے مذاکرات معطل کردیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی تمام پالیسیوں میں فوج ساتھ ہے۔فوج نے سکیورٹی ایشوزکے باوجود حکومتی پالیسیوں کی حمایت کی۔ہمسایوں سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہوں، ہم نے کرتارپورکھولافوج کو اعتراض ہوتا تومزاحمت کرتی،اشرف سے بات اور مذاکرات کرتا ہوں، فوج نے کبھی نہیں مزاحمت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں