33

نائن الیون کے بعد امریکا کی جنگ میں شامل ہوکر بہت بڑی غلطی کی، عمران خان

نیویارک : وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد امریکا کی جنگ میں شامل ہوکر بہت بڑی غلطی کی۔

وزیراعظم عمران خان نے امریکی کونسل فار فارن ریلیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2008 میں امریکا آیا تو ڈیموکریٹس کو بتایا تھا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار لوگوں نے جانیں قربان کیں، 200 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔

عمران خان نے کہا کہ سوویت فوج نے افغانستان میں جنگ کے دوران 10 لاکھ شہریوں کو ہلاک کیا، پاکستان میں 27 لاکھ افغان پناہ گزین رہ رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن برٹش حکام نے بنائی تھی، اب ہم پاک افغان سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں، سمجھتا ہوں کہ افغان معاملہ بہت مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ طالبان پورے افغانستان کو کنٹرول کرسکتے ہیں، افغان شہری 40 سال سے مشکل صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں طالبان زیادہ مضبوط ہیں ان کا مورال بلند ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں طالبان سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن افغان حکومت نے منع کر دیا، یقین ہے کہ یہ وہ طالبان نہیں جو 2001 میں تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں جنگ مخالف ہوں، جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی، ہم اپنے پڑوس میں مزید کسی تنازع کے متحمل نہیں ہوسکتے، طالبان سے بات چیت ترک کرنے سے پہلے پاکستان سے مشورہ کرلیا جاتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں صدر ٹرمپ کو طالبان سے مذاکرات بحال کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کروں گا، مذاکرات اورجنگ ایک ساتھ ہوں تومسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اصل بات مستقل مزاجی سے امن کی کوشش جاری رکھنا ہے، افغان امن معاہدہ طے پاجاتا تو ہم طالبان اورافغان حکومت کو ایک ساتھ بٹھاتے۔

گفتگو کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایبٹ آباد کمیشن کا کیا نتیجہ رہا یہ نہیں معلوم، پاکستان اپنے تمام پڑوسی ملکوں سے امن چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کیلئے مدعوکیا ہے، حکومت کی تمام پالیسیوں میں پاک فوج ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو ملاقات میں بتاؤں گا کہ جنگ افغان مسئلے کا حل نہیں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں