57

شریف خاندان کرپشن کیساتھ قبضہ مافیا بھی نکلا، قبضے سے کیا چیز برآمد کروالی؟ حیران کن خبر آگئی

اسلام آباد(روزنامہ میٹرو واچ) نوازشریف خاندان کی ملکیت اتفاق شوگر ملز کے قبضے سے 36 کنال سرکاری اراضی واگزار کرا لی گئی ہے۔ محکمہ اینٹی کرپشن ساہیوال نے کہا ہے کہ اتفاق شوگرملز 1982 سے سرکاری رقبے پر قابض تھی جس کی مالیت 3کروڑ 25 لاکھ روپے بنتی ہے، اسے واگزار کروا لیا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق مل مالکان نے سرکاری رقبے پر اسٹورز اور لبارٹری قائم کر رکھی تھی۔

ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ساہیوال شفقت اللہ مشتاق نے بتایا ہے کہ مل انتظامیہ سے 1982 سے اب تک کے تمام بقایاجات وصول کیے جائیں گے۔ سرکاری اراضی واگزار کرانے کے بعد محکمہ ریونیو کے حوالے کر دی گئی ہے۔ خیال رہے کہ نواز شریف اس سے پہلے ہی منی لانڈرنگ اور کرپشن کیس میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور ان کی صحبزادی مریم نواز شریف بھی جیل میں قید ہیں، اور اب نواز شریف خاندان کے قبضے میں سرکاری زمین ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے جسے واگزار کروا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب ن لیگ دورِ حکومت کا نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے۔ آڈیٹر جنرل نے نواز شریف کے دور حکومت میں جاری کئے گئے یورو بانڈز کو خلاف ضابطہ قرار دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آڈیٹر جنرل کی آڈٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابقہ حکومت میں کابینہ سے یورو بانڈز جاری کرنے کی منظوری نہیں لی گئی تھی اور شرح منافع بھی زیادہ مقرر کی گئی تھی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ نے کابینہ کی منظوری کے بغیر صرف وزیراعظم نواز شریف کی منظوری سے بانڈز جار ی کیے تھے جو کہ خلافِ ضابطہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ارب ڈالرز کے دس سالہ بانڈز 8.25 اور پانچ سالہ بانڈز 7.25 فی صد ریٹ پر جاری کئے گئے تھے ان بانڈز کے لیے مقرر کی گئی شرح منافع دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ آڈٹ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بانڈز کی شرح بلند رکھنے سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا لہٰذا قومی خزانے کو نقصان پہچانے کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور انہیں سزا دی جانی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں