50

مکی آرتھر بابراعظم کی راہ میں روڑے اٹکانے لگے، بڑا مطالبہ کردیا

اسلام آباد( روزنامہ میٹرو واچ)مکی آرتھر نے بابر اعظم کو قومی ٹیم کا نائب کپتان بنانے کی مخالفت کردی، قومی ٹیم کے سابق کوچ کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کا مستقبل تابناک تاہم ابھی انہیں قیادت نہیں دینی چاہیے، عہدے کی بہترین چوائس شاداب خان ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد میدان میں ڈکٹیٹر ہیں اور باہر جا کر بڑے بھائی بن جاتے ہیں۔بابر اعظم کا مستقبل تابناک تاہم ابھی انہیں قیادت نہیں دینی چاہیے جبکہ عہدے کی بہترین چوائس شاداب خان ہیں انہیں تیار کیا جانا چاہیے۔ سرفراز کے وزن میں کمی بیشی ہوتی رہتی لیکن فٹنس کیلئے ہمیشہ فکرمند رہتے ہیں، پاکستانی کھانوں میں نان، روٹی اور تیل والی ڈشز ضرور ہوتی ہیں۔

کرکٹرز اپنا ہاتھ نہیں روک پاتے، صبح اور دوپہر کا کھانا اگر پی سی بی مینجمنٹ کی نگرانی میں ہو تب بھی رات کو کنٹرول کرنا آسان نہیں ہوتا۔مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ پاکستانی بڑے مہمان نواز اور کرکٹرز کو بھی بڑا پیار کرتے ہیں، مرغن کھانوں سے تواضع کی جاتی ہے،کئی بار میں کھلاڑیوں کو کہتا کہ کھانے کے مزے اڑاﺅلیکن ٹریننگ کا ایک اضافی سیشن کرنا ہوگا،ان میں 25فیصد کہتے کہ مشقت کرلیں گے۔

یونس خان اور مصباح الحق کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خوراک اور فٹنس سمیت مختلف معاملات میں دونوں سابق پلیئر دیگر کھلاڑیوں کیلئے ایک مثال تھے۔مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر شعیب ملک بھی فٹنس کا بڑا خیال رکھتے ہیں، ورلڈکپ سکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ غلط نہیں تھا، جونیئرز کی حوصلہ افزائی میں ان کا اہم کردار تھا، بدقسمتی سے وہ پرفارم نہیں کرپائے۔ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کا بطور بیٹسمین تابناک مستقبل ہے، ان کو ابھی پوری توجہ بیٹنگ پر مرکوز رکھنا چاہیے، نائب کپتان کی حد تک ٹھیک ہے ابھی قیادت کا بوجھ نہ ڈالا جائے تو بہتر ہوگا۔ میں پہلے بھی کہہ چکا کہ شاداب خان میں قائدانہ صلاحیتیں موجود اور کرکٹ کی اچھی سمجھ بوجھ ہے، سرفراز احمد کے بعد ان کو قیادت کیلئے تیار کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں