41

چین کی ہمدردی کشمیر یا سی پیک کے لئے؟

چین کی ہمدردی کشمیر یا سی پیک کے لئے؟

سی پیک دینے والے ملک سے سمندر سے گہری ، ہمالیہ سے بلند شہد سے میٹھی دوستی پیک ہو گئی تھی
موودی کے پانچ اگست کے اقدام سے پاکستان کو پھر چین کی مدد کی ضرورت ہوئی پھر سی پیک بچ گیا
ستر سالہ آزادی میں پہلی مرتبہ اشتہار بازی ۔۔چین نے سی پیک بچانے کیلئے میڈیا پر خزانے کھول دیے
ایک عرصہ سے سن رہے تھے کہ پاکستان کی چین سے دوستی سمندر سے گہری ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی ہے لیکن جب ہمیں گرے لسٹ سے بلیک لسٹ سے بچنا ہوآئی ایم ایف اور دوسرے مالیاتی اداروں سے قرضوں کی قسطیں دینی ہوں تو ایسے میں چین منہ پھیر لے اور مزید شرائط سخت کرے اور پاکستان کو پل سراط سے گزارنے کی کوشش کرے تو تو سی پیک جو ابھی A کے بعد Bتک پہنچا تھا اور Cابھی آنا تھا وہ زیڈ تک پیک ہونا شروع ہو گیا اور یہی وجہ تھی کہ گزشتہ ایک سال سے سی پیک پر کام بند رہا اور چین جس نے سی پیک اپنے لالچ میں شروع کیا تھا اور اس لالچ میں ہم انگریزوں اور امریکی غلامی سے نکل کر چینی غلامی میں قدم رکھ رہے تھے جس نے منیم جی بن کر پہلے سری لنکا پر تقریبا قبضہ کر لیا ہے اور پاکستان کو ایک دوسرا ہانگ کانگ بنانے پلان تیار کیا اور جب پاکستان پر مشکل وقت آیا تو مزید قرضہ یا آئی ایم ایف کی قسطوں کی ادائیگی کا بوجھ آٹھانے سے انکار کیا اور جتنا دیا تھا اور یہ وعدہ لیا ہواتھا کہ پاکستان کو دیئے گئے قرضے اور انکی تفصیلات کسی سے شیئر نہیں ہونگی لیکن جب مشکل وقت میں پاکستان کی مدد سے انکار کیا تو ہمیں وہ معلومات مجبوری میں آئی ایم ایف تک ہمیں خود ہی دینی پڑیں جس کے بعد چین اور پاکستان کی دوستی ہمالیہ کی بلندی سے مارگلہ ہل تک ۔۔سمندری سے گہری دوستی نالہ لئی تک اور شہد سے میٹھی دوستی نمبو کی کھٹاس تک پہنچ گئی جس کے بعد پاکستان نے سی پیک پر کام روک دیا پھر سعودی اور یو اے ای سے تین تین ارب ڈالر اور ادھار کے تیل لے کرپاکستان نے چین کو بتایا کہ ہم آپ کے منہ موڑنے کے باوجود زندہ رہ سکتے ہیں
لیکن پھر پانچ اگست کو موودی نے جسے یقین تھا کہ اب پاکستان کے لیئے چین کھڑا نہیں ہو گا امریکا سے اس کی سیٹنگ تھی سعودیہ اور یو اے ای کو بھارت نے اعتماد میں لیا ہوا تھا اور موودی نے کشمیر پر تین سو ستر اور پینتیس اے کا پینترہ لیا اور اسی کوشش میں آزاد کشمیر کے کچھ علاقہ پر پر قبضہ کا بھی پلان کیا تو پھرلالچی چین نے پھر پاکستان کو کشمیری دانہ ڈالا اور اقوام متحدہ میں پھر پاکستان کی حمایت کر کے پاکستان کو اے بی کے بعد سی پیک تک لے آیا اور پھر پاکستان کو مجبور کر دیا اور کشمیر پر ہم پھر چین کے ہاتھوں بلیک میل ہوئے اور اتنے مجبور ہوئے کہ وضاحت کے لئے چین جائیں اور پھر کہیں کہ دروغہ جی۔۔۔ ہم سے غطی ہو گئی
چین بھی بہت سیانہ ہے اس نے مرے ہویئے حکومت کے ستائے ہوئے میڈیا کو دانہ ڈالہ اور پھر پہلے نامور صحافیوںاورٔحق سچ لکھنے والے لکھاریوں کو چینی دی تاکہ نمبو سے نکل کر مٹھاس پھر سے شہد کی طرح ہو جائے ، نالہ لئی پھر ہمالیہ بن جائے اور مارگلہ کی پہاڑیاں پھر سے ہمالیہ بن جائیں اگلے مرحلے میں پھر ماضی کی حکومتوں کا تجربہ آزمایہ اور بڑے سے لے کر ہر چھوٹے بڑے اخبار بلکہ یہاں تک کہ جس میگزین کا کسی کو نام بھی نہیںسناتھا اس نے بھی کئی کئی ہزار ڈالرز کی دیہاڑی لگائی ،سپلیمنٹ چھاپے فرنٹ پیچ پر کلر اشتہار دیئے گئے خصوصی ضمیمے چھاپے گئے اور چھپیں گے
ایک بات بہت اچھی ہوئی کہ ترسے حکومت سے ناراض صحافیوں اور اخبارات کی کچھ پیاس تو بجھی لیکن یہ پتہ چل گیا کہ یہ دوستی وہ نہیں جس کے لئے آسمان زمین کے قلابے ملائے جاتے تھے چین سی پیک کوئی مفت میں نہیں دے رہا تھا وہ اپنی سہولت سوچ رہا تھا جیسے کہتے ہیں ایک ایک گاوں میں کسی کے بھینس کسئی دنوں سے بھوکی پیاسی تھی جبکہ دوسرے گاوں میں ایک بندے نکے پاس چارہ تھا جو جلا ہوا تھا دونوں کا سودہ ہو گیا اور پھر دونوں ہی خوش تھے کہ ہماری بھینس کا پیٹ بھر گیا جبکہ دوسرا خوش تھا کہ ہمارا چارہ بک گیا
سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ چینی قوم بہت سیانی ہے اور وہ جانتی ہے کہ کوئی لنچ فری نہیں ہوتا اس لئے اس نے اپنی منڈیوں کو مضبوط کرنے کے لئے پاکستان کو دانہ دالا جس سے پاکستان کے ایران یو اے ای اوراور یوا اے ای کی وجہ سے سعودیہ سے تعلق خراب ہوئے اور جب ہم ْڈیفالٹ کرنے لگیئتھے تو چین نے اتنی مدد نہیں کی جس کی وجہ سے پاکستان کو یو اے ای اور سعودیہ اور پھر آئی ایم ایف جانا پڑا اور پھر اس لیڈر جس نے آئی ایم ایف اور خود کشی کی بات کی تھی نے چینی حکومت کی بے حسی پر ہی آئی ایم ایف جانے کا فیصلہ کیا تھا اور اب شاید یہ بات ہو اگلے ہفتہ کو چینی دورے کے دوران ہم سی پیک بنا دیتے ہیں لیکن جو ہم نے ادھار پیسے لئے ہیں اتنے تو دیں ورنہ تسی اپنے گھر خوش اسی اپنے گھر خوش۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں