65

جب بونوں سے قد بڑھ جائے تو ۔۔۔دھرناہی علاج ہے کیا

جب بونوں سے قد بڑھ جائے تو ۔۔۔دھرناہی علاج ہے کیا
اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد کپتان کا قد اتنا بڑھ گیا کہ سب اکٹھے ہو کر ٹشو پیپر بننے جا رہے ہیں
مولانا فضل الرحمان کونواز شریف ،ایم کیو ایم ،طاہر القادری ، خادم حسین کا انجام یاد رکھنا ہو گا
ٹشو پیپر ۔۔۔۔ٹشو پیپر ہی رہتاہے ڈی چوک ہو ، فیض آباد میں ہو یا وزیر اعظم ہاوس میں
سرکس میں ایک خوبصورت سٹنٹ کرنے والی لڑکی نے شیر کے منہ کے سامنے اپنا گال کیا تو شیر نے بوسہ لیا تو ہر طرف تالیوں کی گونج تھی جس پر ایک سادہ شہری کھڑا ہو گیا تو اس نے حیرت سے پوچھا کہ اس میں اتنی تالیوں کی کیا بات ہے یہ کام تو میں بھی کر سکتا ہوں سب نے پوچھا کونسا ااس نے کہا کہ جو کام شیر نے کیا سب کو معلوم ہے کے لڑکی نے ہم تکی تھی شیر کے منہ کے سامنے گال کرنے کی
وکی لیکس ،پانامہ لیکس کے بعد اب جو کچھ نواز شریف کے شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں لیکس آئی ہیں وہ دونوں بھائیوں کے درمیان تعلقات کی نہج کو سمجھنے کے لئے کافی ہیںکہ ایک بھائی جب دوسرے بھائی کو ہدایات کی بجائے خط لکھ دے تو اسے مثالی تعلقات ہی کہا جا سکتا ہے اور پھر اس خط میں اگر یہ لکھاجائے کہ مصلحتیں بالائے طاق رکھ کرووٹ کی عزت کی بات کی جارہی ہو تو سمجھ لینا چاہیئے کہ اس سے پہلے جب چھ ماہ نوازشریف یا مریم نواز خاموش رہیں تو پھر شہباز شریف جب ملاقات میں جاتے ہونگے تو انہیں کیا کہا جاتا ہو گا کہ خاموشی کے بدلے کیا ملا حمزہ شہباز، رانا ثنااللہ، شاہد خاقان ، سعد رفیق اور پھر مریم نواز کی گرفتاری اور پھر بھی شہباز کی مصلحت کی پرواز ہوگی تو ہی خط لکھنے کی نوبت آئی ہو گی نا
ویسے جب محمد خان جونیجو کی حکومت کا جنرل ضیانے تختہ الٹا تھا تو محمد خان جونیجو مرکزی صدر پاکستان مسلم لیگ تھے جبکہ نواز شریف صوبائی صدر پنجاب مسلم لیگ تھے اور جب جنرل ضیا نے اسمبلیاں توڑیں تو نواز شریف نے پھرقائم مقام وزیر اعلی کا حلاف اٹھا لیا تھا اس وقت نواز شریف نے مسلم لیگ میں چھرا گھومپ کر اپنی مسلم لیگ بنا لی اور پھر مسلم لیگ جونیجو بھی بنی اگر نواز شریف اسوقت ٹشو پیپر نہ بنتے اور ووٹ کی اور پارٹی کی عزت کی بات کرتے تو پھر 1999میں کبھی بھی مشرف کے انقلاب کے بعد چوہدری شجاعت ق لیگ نا بنا سکتے اور ممکن ہے نوا شریف جونیجو کے ساتھ کھڑے رہتے تو مشاہد حسین چوہدری شجاعت شیخ رشید بھی نواز شریف کے ساتھ کھڑے رہتے لیکن مقافات عمل ہوتا ہے نواز شریف نے جو جونیجو کے ساتھ کیا وہی چوہدری شجاعت نے نواز شریف کے ساتھ کیا اور پھر نواز شریف نے وہی کچھ 2013میں چوہدری شجاعت کے ساتھ کیا لیکن ابھی بھی کسی کو سمجھ نہیں ا رہی کہ کب تک تمام سیانے ٹشو پیپر بنتے رہینگے
کل تک وہ اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کرتے تھے پھر انہی پیسوں سے جن کی وجہ سے وہ جیل کا ٹ رہے ہیں انہیں پیسوں سے انہوں نے بلوچستان حکومت ہٹوائی پھر نئی بنوائی پھر سینٹ الیکشن جیت کر پھر بچا کر ٹشو پیپر بنے انہیں بھی سمجھ نہیں ا رہی کہ وہ کیا کریں کیونکہ انہیں بھی جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کے وٹ بینک پر ڈاکہ ڈال کر ایڈجسٹ کیا گیا
ماضی قریب میں دیکھا جائے تواب جو کچھ مولانا فضل الرحمان کر نے جا رہے ہیں وہی کل عمران خان ، طاہر القادری اور مولانا خادم حسین کر چکے ہیں لیکن سمجھنے کی بات ہے کہ کل تک جو نوا ز شریف کے خلاف ہو رہا تھا وہی نواز شریف کرنے جا رہے ہیں وہی کچھ پیپلز پارٹی کرنے جارہی ہے حالانکہ جو کچھ 2014میں ہونا چاہیئے تھا وہی کچھ اب نواز شریف مولانا اور پیپلز پارٹی نہیں کر رہیںاگر اسوقت عمران خان کے ساتھ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹیاستعفے دے دیتے تو آسانی سے حکومت گرائی اور نئے انتخابات ہو سکتے تھے وہی کچھ اگر اب مولانا نون لیگ اور پیپلز پارٹی کرے تو وہی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن س بکو پتہ ہے کہ جب بھی اسمبلیاں بنیں گی وہ اپنی مدت پوری کرینگی اسی لئے مسلم لیگ قاف کی حکومت جو ایک ووٹ سے تھیاس نے بھی پانچ سال پورے کئے پیپلز پارٹی نے اپنی سب سے بڑی مخالف جماعت ق لیگ جسے وہ قاتل لیگ کہتے تھے کو ساتھ ملا کر اپنی مدت پوری کی اور پھر ایمپائیر کی انلگی کی بات سننے والوں نے بھی دیکھا کہ اسمبلی پوری ہوئی چائے جمالی کی جگہ شوکت عزیز ائے یوسف رضا گیلانی کی جگہ راجہ پرویز اشرف ائے یا پھر نواز شریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی آئے ماضی کے تجربے کی روشنی میں حکومت تحریک انصاف کی رہے گی چائے سیتا وائت کیس یا ہیلی کاپٹر کیس میں عمران خان ناہل ہوں اور شاہ محمود قریشی ا لیکن الیکشن 2023میں ہی ہوتے نطر آ رہے ہیں کیونکہ یہ ہمارا بین القوامی معاہدہ ہے کہ الیکشن ہر پانچ سال بعد ہونگے
اصل میں ہوتا یہ ہے کہ جب اقتدار کے بونوں سے کسی کا قد بڑا ہونے لگے چاہے جونیجو کی اوجڑی کیمپ پر رپورٹ ہو یا نواز شریف کی مودی سے بغیر ان کے مشوروں سے امن کی بات تو انہیں کندھے سے پہنچنے سے پہلے ہی انکا سر قلم کر دیا جا تا ہے چائے وہ نواز شریف کی پارٹی میں چوہدری شجاعت ہوں یا نواز لیگ میں چوہدری نثار، تحریک انصاف میں جاوید ہاشمی ہوں یا پیپلز پارٹی میں شاہ محمود قریشی ہر بڑے ہونے کے خواہش مند کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے
اب اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کے بعد اس کا قد ان تمام سیاسی لیڈروں سے بڑا ہو گیا تھا جس کے بعد سب لیڈر بونے لگنے تھے جس کے بعد سب سیاسی بونوں نے عمران خان کو ایک اور بھٹو بننے سے روکنے کے لئے سر جوڑ لئے اور عمران خان کا قد چھوٹا کرنے کے لئے یہ نہیں دیکھا کہ اس سے مسئلہ کشمیر پر فرق پڑ سکتا ہے عمران خان کو اندرونی طور پر الجھا دیا تاکہ جب دھرنا ختم ہو رہا ہو تو وہ ان ممنون ہو جنہوں نے انہیں حکومت بیساکھیوں والی حکومت دی گری ہوئی اقتصادی صورتحاال دیاور پھر کہٰں گے دیکھا نا ہم نے پھر آپ کو بچا لیا ہے لیکن اب مولانا کو ایم کیو ایم ،زرداری ،طاہر القادری یا مولانا خادم حسین جیسے کرداروں کی طرف بھی ایک نظر دیکھ لینا چاہیئے اور نواز شریف زرداری کو بھی سوچ لینا چایئے کہ کل کوئی ان کے خلاف استعمال آج وہ اس کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں اس لئے سب سیاسی لیڈرز کو سچنا چایئے کہ انہوں نے دال بوٹوں میں کھانی ہے یا جوتوں میں ۔۔۔اگر پانچ سال سب مل کر جوتوں میں دال کھا لیں سب سر جوڑ لیں کہ اب کے باری وہ ٹشو پیپر نہیں بنیں گے تو ووٹ کی عزت بھی ہو گی اور ملک میں جمہوریت بھی مظبوط
کیونکہ حکومت مل رہی ہو تو جو کام شیر نے کیا وہ سب کر لیتے ہیں دھرنے بھی کرتے ہیں ساتھ بھی مل جاتے ہیں لیکن ایسے موقع پر کوئی شیر کے منہ کے سامنے منہ کرنے کی جرات بھی کرے تاکہ جمہوریت مضبوط ہو اگر ابی اپوزیشن نہیں تو کپتان کو بات کرنی چاہیے کیونکہ بینا لقوامی صلح سے اندرونی صلح زیادہ معنے اور قد رکھتی ہے اگر مزید قد بڑھا کرنا ہے تو شیخ رشید کی بات مان کر سب سے این آر او کر لینا چاہیے تاکہ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں