196

فوج نے آزادی مارچ کے غبارے سے ہوا نکال دی

فوج نے آزادی مارچ کے غبارے سے ہوا نکال دی
کشمیر کا مسئلہ پانچ دسمبر کو شروع ہوا جس کے بعد 27ستمبرتک مسئلہ پاکستان میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا
کشمیر پر بڑھتی کشیدگی سے توجہ ہٹانے کے لئے فوری ایک قربانی کے بکرے کی ضرورت تھی جو مولانا نے پوری کی؟
کسی کوبھی صورت ملکی استحکام خراب کرنے کی کی اجازت نہیںدینگے، فوج نے مارچ کے غبارے سے ہوا نکال دی
ڈاکٹر طاہر القادری ، خادم حسین رضوی کے بعد مولانا فضل الرھمان بھی کسی کے ہاتھو ں ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہو گئے؟
جب سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لاک ڈاون ، دھرنہ اور پھر آزادی مارچ کا اعلان کر رکھا تھا مختلف قسم کی چہ میگویاں ہو رہی تھیں کہ مولانا کے پیچھے کون ہے ہر کوئی ایک دوسرے کے ساتھ یہی کھسر پھسر کرتا تھا کہ کوئی تو ہے جو مولانا کے پیچھے ہے کچھ افواہیں تھیں کہ جنرل باجوہ کو دوبارہ آرمی چیف نامزد کئے جانے پر جن کی حق تلفی ہوئی ہے شاید وہ مولانا کے پیچھے ہیں ، کچھ کہہ رہے تھے کہ 27ستمبر کی رات کو وزیر اعظم پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد اپنے سیاسی قد کے اعتبار میں اتنا اونچا چلے گئے تھے اور مسئلہ کشمیر اتنی بلندی پر چلا گیا تھا کہ اس کے بعد تو پھر بھارت سے جنگ ہی لڑنی پڑنی تھی کیونکہ آج جب دو دن قبل بھارت نے جموں و کشمیر اور لدخ کو ہڑپ کیا تو یہ تاریخی طو رپر اتنا بڑا واقعہ تھا کہ اگر اس وقت آزادی مارچ نہ ہوتا تو عمران خان کا قد جو تقریر کے بعد بہت اونچا چلا گیا تھا اور قوم کی توقعات کشمیر کے حوالے سے اتنی بڑھ گئیں تھیں کہ بھارت سے جنگ کے علاوہ اب کوئی چارہ نہیں بچنا تھا کیونکہ ترکی چین اور ملایشیا کے علاوہ تو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہی نہیں ہوا تھا ایسے میں یہ افواہیں تھیں کہ مولانا نے حکومت کو کسی کے کہنے پر ریکسیو کیا ہے اور جیسے ہی 31اکتوبر کا وہ سیاہ دن گزرا مولانا نے حکومت اور ساتھ ہی فوج کے ساتھ طبلہ جنگ بجا دیاکیونکہ اداروں سے مراد صرف فوج، الیکشن کمیشن اورسپریم کورٹ یہی وجہ ہے کہ جب مولانا نے کہا اگر ادارے بھی عمران خان کے پیچھے ہیں تو وہ دو دن میں فیصلہ کر لیں ورنہ ہم ان اداروں کے بارے میں بھی اپنی رائے بدلیں گے جس پر فوری طور پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مولانا بتایں کہ وہ کس ادارے کی بات کر رہے ہیں اگر انکا اشارہ فوج ہے تو فوج نے الیکشن پراسس میں آئین اور قانون کے مطابق حصہ لیا ، انہوں نے دو ٹوک اور اہم بیان دیا کہ فوج کی سپورٹ ہمیشہ سے منتخب حکومت کے ساتھ ہوتی ہے کسی ایک جماعت کے ساتھ نہیں،اور یہ بھی کہا کہ کسی کو بھی کسی بھی صورت ملکی استحکام خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاے گی اور یہ بھی کہا کہ سڑکوں پر آکر الزام تراشی نہیں ہونی چاہئے، انتشار ملک کے مفاد میں نہیں اور اشارہ بھی دے دیا اور کہا کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیاں جو کمیٹیاں بنی ہیں ان میں بہتر کوارڈینیشن ہے اور مولانا اپنے تحفظات متعلقہ اداروں تک لے کر جائیں۔ جب سے افواہ ساز فیکٹریوں نے شوشے چھوڑنا شروع کیا تھا اس کے بعد پہلی مرتبہ فو ج کا دو ٹوک اور واضع موقف سامنے آیا ہے جس کے بعد مولانا کے مارچ میں بھری ہوا نکل گئی ہے حالانکہ کہ شیخ رشید نے چند دن پہلے ہی بتایا تھا کہ مولانا کے غبارے میں ضرورت سے زیادہ ہوا بھر دی گئی ہے اور پھر وہی ہوا کہ مولانا اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو واضع پیغام مل گیا ہے اور ممکن ہے رہبر کمیٹی میں شامل سیانے اس کا باعزت حل نکالیں گے اور مولانا کو عمران خان کے دھرنے کی طرح کا ایک ایسا محفوظ راستہ دیا جائیگا کہ سانپ بھی مر جائیگا اور لاٹھی بھی بچ جاے گی، ممکن ہے آج ہنگامی طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ ہی اس مسئلہ کو حل کر دے، اب پھر محسوس ہو رہا ہے کہ سنی مکتبہ فکر کے دو بڑوں ڈاکٹر طاہر القادری اور مولانا خادم حسین رضوی کے بعد دیوبندی مکتبہ فکر سے مولانا فضل الرحمان سے بھی ہاتھ ہو گیا ہے اور وہ بھی ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہو گئے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ افغان وار ہو یا طالبان کی حکومت اور جنگ ، طاہر القادری ہوں خادم رضوی یا مولانا ہر جگہ مدرسے استعمال ہوئے ہیں تو ایک طرح سے سب نے مل کر اسلام کی نشاتہ ثانیہ کے عظیم قلعہ کو سب نے نقصان ہی پہنچایا ہے اللہ کرے کہ اب وہابی اور اہل تشیع مکتبہ فکر بچ گیا وہ کسی کے ہاتھ میں استعمال نہ ہوں ورنہ مدرسوں کے ساتھ ساتھ مذہب بھی بدنام ہو گیا
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں