98

اداروں سے جواب لے کر۔۔۔مولانا جا رہاہے

اداروں سے جواب لے کر۔۔۔مولانا جا رہاہے
200ارکان پارلیمنٹ والی جماعت کے سربراہ کوابھی اینٹ سے اینٹ بجانے کا کہنے پر معافی نہیں ملی
آرٹیئکل سکس کی بات کرنے والے اقتدار سے نکل کر جیلوں میں مولانا نے اداروں سے ٹکر لے کر پاوں پرکلہاڑی مار ی
جن کے ساتھ چوہدری نثار تھا اور ایمپائیر کی انگلی بھی تھی وہ استعفی لے نہیں سکے اور مولانا چلے استعفی لینے
ہم وعدوں کے پابند ہیں ہماری لوکل قیادت نے معاہدہ کیا تھا ہم پاسداری کرتے ہوئے واپس جا رہے ہیں
مولانا شبیر حسین حافظ آبادی اپنی تقریر میں کہا کرتے تھے کہ ابلیس جنت کے اندر تھا جب اسے کہا گیا کہ اللہ کے محبوب کو سجدہ کریں تو اس نے جواب دیا کہ میں نور ہوں اور وہ بشر ہیں میں بشر کو سجدہ نہیں کرونگا کہتے ہیں کہ اللہ نے بشر کی رٹ لگانے پر جو جنت کے اندر تھا اسے باہر نکال دیا اور وہ در بدر اللہ کے بندوں کو اب بھٹکاتا پھر رہا ہے اور یہ جو جنت سے ابھی باہر ہیں جنہوں نے جنت کا مزہ چکھا ہی نہیں اور اللہ کے محبوب کو نور کی بجائے بشر بشر کی رٹ لگائے ہوئے ہیں اللہ کیا انہیں کہے گا کہ آجو آپ لوگ جنت میں پہلے آ جاو
ایک شخص ملک کا صدر تھا اس نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی اور پھر کئی ماہ ملک سے باہر رہا اور پھر اس نے بلوچستان میں حکومت گر کر بنا کر ،پھر سینٹ میں چیئرمین بنا کر پھر اسے عدم اعتماد میں بچا کر دیا اسے معافی مل نہیں ابھی تک ، دوسرا ملک کا منتخب وزیر اعظم تھا جس نے آرٹیکل سکس کی باتیں کہ پھر اسکے بندوں نے مرد کا بچہ اور لوہے کہ چنے کی بات ، دلیل اور غلیل کی باتیں کیں ، ڈان لیکس ہوئیں انہیں نہ صرف اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا اور وہ اب نہ صرف اقتدار سے الگ ہوے بلکہ لوہے کے چنے سمیت اکثریت لیڈر شپ جیل اور ہسپتالوں کی سیریں کر رہی ہے
ایسے میں کہتے ہیں ایک چوہے نے شراب پی لی تھی تو وہ بار بار اپنی دم پرکھڑا ہونے کی کوشش کر رہا تھا ایسے ہی جب جن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کی تعداد دو دو سو کے قریب ہیں وہ معافیاں اور این آر او کی باتیں کر رہی ہیں ایسے میں پندرہ سے بیس جماعتوں والی جماعت نہ صرف ملک کے منتخب وزیر اعظم سے استعفی لینے کی بات کر رہی ہے جو اپنے ساتھ طالبان اور انکے جھنڈے صوفی محمد کی شریعت محمدیکے کارکن اور لبیک لبیک الجہاد الجہاد ، سبیل اے نا سبیل اے نا الجہاد الجہاد کے نعرے لگانے والے کارکن لائے تھے بلکہ اداروں کو نصیحتیں کر رہی ہے کہ وہ اگر عمران خان سے پیچھے ہیں تو وہ دو دن میں پیچھے ہٹ جائیں ورنہ ہم ان اداروں کو متعلق اپنی رائے بدلیں گے اور پھر وزیر اعظم کو ان کے گھر سے گرفتار کرنے کی باتیں کر رہے ہیں
اس پگلے مولانا کو کوئی سمجھاے او چلیا جن کے ساتھ چوہدری نثار جیسا وزیر داخلہ تھا جن کے ساتھ ایمپائیر کی انگلی تھی ان سے تو عمران خان اور طاہر القادری مل کراستعفی نہ لے سکے اور آپ چلیں ہیں استعفی لینے صدقے جائیں اور واری جائیں ان فرمائشوں پر لیکن بہت اچھا ہوا جیسے اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کو اور آرٹیکل سکس کی باتیں کرنے والو ں کو جلد ہوش آگیا مولانا کو بہت جلد ہوش آگیا اور انکی آنکھیں کھل گئیں اور وہ آج اپنے اجتماع میں اعلان کریں گے اور احادیث کا حوالہ دینگے کہ اسلام میں وعدوں کی پاسداری کا کہا گیا بے شک میں نے وعدہ نہیں کیا تھا لیکن ہماری ضلعی جماعت نے انتظامیہ کے ساتھ وعدہ کیا تھا اس لئے ہم اسے وعدہ کی پاسداری کرتے ہوئے واپس جا رہے ہیں اور ہم ہرگز استعفی اور نئے انتخابات سے نہیں پیچھے ہٹے ہم اس تحریک کو گلی گلی کوچہ کوچہ لے کر جائینگے پہلے مرحلے میں ہم بیس نومبر کو شٹر ڈاون کرینگے پہیہ جام کرینگے اس سلیکٹیڈ حکومت کو نہیں چھوڑیں گے انہوں نے مینڈیٹ چوری کیا ہے ، ہم نے سندھ سے اپنے سفر کا آغاز کیا ایک پتہ نہیں توڑ ا اب ہم واپس جا رہے ہیں تمام کارکن اسی نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور اسی جذبہ سے واپس جائیں اور یہ کہہ کہ مولانا اپنا لاکھوں کا چارج مجمع جنہوں نے رائے ونڈ کا تبلیغی اجتماع چھوڑ کر اس آزادی مارچ کو ترجییح دی تھی وہ مولانا کو دل ہی دل میں بہت ساری ڈیروں دعائیں دیتے رخصت ہوجائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں