87

بس آپ ڈٹ جائو ۔۔۔۔ہنوز 28نومبر دور است

بس آپ ڈٹ جائو ۔۔۔۔ہنوز 28نومبر دور است
مایوس کن تقریر کے بعد جب ورکرز کی اکثریت بھی چلی گئی مولانا کا ڈٹ جانا معنی خیز ہے
2007میں چیف کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا گیا تھا جواب میں اسوقت کے چیف کو وردی اتارنی پڑی
چوہدری شجاعت بگتی ،لال مسجد یا ماڈل ٹاون جائیں بعد میں لاشیں ہی گرتی ہیں اسکی بار اللہ خیر کرے
کہا جاتا ہے کہ ایک2007میں جب امریکا نے سمجھ لیا کہ سابق صدر مشرف ان کے ساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے توانہوں نے وردی اتروانے اور راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا لیکن امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں اس سلسلہ میں بات کس سے کروںتو سب کو علم ہے کہ اس وقت کونسی ایسی شخصیت جو ملک کی اہم ترین پوسٹ پر تھیں کا امریکا کا دورہ بہت طویل ہو گیا تھا محض اتفاق ہے یا حقیقت کہ اس وقت کے چیف جومشرف کو وردی میں بطور صدر دوبارہ منتخب کرنے کی اجازت دینے والے تھے کہ انہیں رپورٹ دی گئی کہ ممکنہ طور پر آپ کے خلاف فیصلہ آنے والا ہے لہذہ انہیں ہٹا کر نیا چیف اور ملک میں ایمرجنسی لگا دی جائے اس دوران سمیرا ملک کیس میں مشرف کو سمیرا ملک نے ایسی رپورٹ دی کہ وہ سیخ پا ہوئے اور پھر انہیں طلب کیا گیا اور کہا گیا کہ آپ فوری طور پر استعفی دیں اور چیف سے کہا کہ آپ اس وقت تک جا نہیں سکتے جب تک آپ استعفی نہیں دینگے اور اس دوران اگلے حلف کی تیاریاں شروع کر دیں اور پھر ملک میں ایمرجنسی لگا دی گئی
لیکن کہا جاتا ہے کہ جب مشرف استعفیٰ کا حکم دے کر گئے اور وہ شخصیت جو امریکا کا طویل دورہ کر کے آئے تھے سے کہا کہ اس سے استعفیٰ لو اور اسوقت تک جانے نہیں دینا جب تک یہ استعفیٰ نہیں دیتے لیکن کہنے والے کہتے ہیں جیسے ہی مشرف کمرے سے گئے تو کسی نے انہیں تھپکی دی کہ آ پ ڈٹ جائیں اور پھر دیکھا کہ جو کچھ ایسے ہی ہوا کرتا تھا اورجو قریبی ہم پیالہ اور پتہ نہیں کیا کیا ہم راز تھے وہ ڈٹ گئے اور انہوں نے بھی کہا کہ میں نہیں اب یہ ہی استعفیٰ دے گا اور پھر سب نے دیکھا کہ کس طر ح عدلیہ بحالی تحریک چلی اور کیسے نواز شریف کے راستے کی ساری رکاوٹیں عمران اور قادری کے دھرنے کی طرح ہٹتی گئیں اور پھر کیسے عدلیہ بحال ہوئی اور پھر کیسے وردی اتاری گئی اور کون کس کی جگہ پر تعینات ہوا پھر کیسے محترمہ کا قتل ہوا الیکشن ہوئے اور پھر کیسے محاسبہ ہوا اور کیسے استعفیٰ دیا گیا اور اس کے پیچھے کون تھا کون کس کس جگہ تعینات ہوا یہ تو پرانی بات لگتی ہے
لیکن لگتا ہے کہ کچھ ایسا ہی ڈرامہ شاید دوبارہ دہرانے کی کوشش کی جارہی ہے جب پھر امریکا افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے پھر ایسے ہی حالات نظر آ رہے ہیں جب امریکا پھر سمجھ رہا ہے کہ شاید اس کے ساتھ ہاتھ تو نہیں ہو رہا کیونکہ جس طرح مولانا کو آسانی سے اسلام آباد کی مصروف ترین شاہرہ پر بٹھا دیا گیا پھر کیسے مولانا نے بڑھکیں لگائیں اور پھر کیسے ادارے جواب آیا اور مولانا نے کیسے اپنا موقت بدلا اور ڈی چوک جانے میں کون کون سے نقائص نکالے گئے لیکن مولانا کہ ایک دن بعد پھر ڈٹ جانا ایک ایسے وقت میں جن ان کے کارکنوں کی بڑی تعداد مایوس ہو کر واپس چلی گئی تھی یوٹرن لیا اور مطالبات میں بھی سنگینی آئی اور پھر زبان میں بھی تلخی جس کے بعد لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے اور پھر اہم ترین ادارے کا موقف کے بعد انکی بیٹھک بھی بہت معنی خیز ہے اور اسکے بعد پریس ریلیز جاری ہونے کے بعد ڈٹ جانا بہت سے سوال چھوڑ گیا ہے
ایسے میں چوہدری شجاعت حسین کا مولانا کے پاس آنا بھی کافی مشکوک لگ رہا ہے کہ کہ اسوقت سے قبل چوہدری شجاعت جب بگٹی کے پاس گئے وہ مارے گئے جب لال مسجد میںگئے وہ مارے گئے یہاں تک کہ جب وہ ماڈل ٹاون گئے تو انکی بھی چودہ لاشیں گر گئیں اب پھر مولانا کے گھر چوہدری شجاعت گئے اللہ خیر کرے
امید ہے کہ اس دھرنے کا کوئی سیاسی حل نکلے ورنہ جب بھی نوستارے اکٹھے ہوئے ہیں ملک میں جمہوریت کو بہت نقصا ن دہ ہے ایسے میں جیسے مشرف کو ایمرجنسی لگانے کی ترغیب دی گئی تھی کہیں ایسی رپورٹ دوبارہ نہ دے دی جائے اللہ کرے اس ملک میں جمہوریت کا پودہ پھلے پھولے اور مذاکرات بات چیت سے حل ہوں
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں