51

کون کون سا کھلاڑی پی ایس ایل کھیلنے کیلئے پاکستان آرہاہے؟فہرست سامنے آگئی

جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر ڈیل سٹین ان اٹھائیس غیر ملکی کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنھوں نے آئندہ سال ہونے والی پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے کے لیے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

یہ کھلاڑی پی ایس ایل کی پلاٹینم کیٹگری میں شامل ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بار پی ایس ایل کے تمام میچز پاکستان میں کرانے کا اعلان کر رکھا ہے اور ان کھلاڑیوں کی جانب سے پی ایس ایل کھیلنے پر آمادگی کا مطلب یہ ہے کہ یہ پاکستان آنے کے لیے تیار ہیں۔

یاد رہے کہ پی ایس ایل میں کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کی آخری تاریخ اکیس نومبر ہے، جس کی وجہ سے اگلے چند دنوں میں مزید غیر ملکی کھلاڑیوں کی جانب سے پی ایس ایل میں شرکت پر رضامندی متوقع ہے۔

ڈیل سٹین نے پہلی بار پاکستان سپر لیگ میں اپنا نام رجسٹرکروایا ہے۔

ڈیل سٹین کا کہنا ہے کہ انھیں پی ایس ایل کے ڈرافٹ ُپول کا حصہ بن کر خوشی محسوس ہو رہی ہے اور انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ پاکستانی شائقین کرکٹ کے لیے کتنے ُپرجوش رہتے ہیں۔

ڈیل سٹین ٹیسٹ میچوں میں جنوبی افریقہ کی طرف سے سب سے زیادہ 439 وکٹیں حاصل کرنے والے بولر ہیں۔ ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 196 اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 61 ہے۔

وہ سنہ 2007 میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کے ساتھ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

ڈیل سٹین کے علاوہ جن 28 کھلاڑیوں کے نام اب تک پلاٹینم کیٹگری میں شامل ہوئے ہیں ان میں معین علی، جیسن روئے اور عادل رشید بھی شامل ہیں۔ یہ تینوں کھلاڑی اس سال ورلڈ کپ جیتنے والی انگلینڈ کی ٹیم میں شامل تھے۔

معین علی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں نے اس لیگ کے معیار کی بہت تعریف کی ہے۔

ویسٹ انڈیز کے کیرون پولارڈ بھی پلاٹینم کیٹگری میں شامل ہیں تاہم وہ ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرنے کی وجہ سے پوری لیگ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

افغانستان کے تین کرکٹرز راشد خان، محمد نبی اور مجیب الرحمن نے بھی پی ایس ایل میں شرکت پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے قواعد وضوابط کے مطابق ہر ٹیم میں کم ازکم سولہ اور زیادہ سے زیادہ اٹھارہ کھلاڑی شامل ہونے ضروری ہیں۔ ہر ٹیم میں پانچ یا چھ غیر ملکی کرکٹرز کی شمولیت بھی لازمی ہے۔

ہر ٹیم پلاٹینم، ڈائمنڈ اور گولڈ کیٹگری میں تین تین کھلاڑی رکھ سکتی ہے جبکہ سلور کیٹگری میں پانچ اور ایمرجنگ کیٹگری میں دو کرکٹرز ہوتے ہیں۔

میدان میں اترنے والی پلیئنگ الیون میں تین غیر ملکی کرکٹرز کا ہونا ضروری ہے۔

اس مرتبہ ہر فرنچائز کو گزشتہ سکواڈ میں سے آٹھ کھلاڑی برقرار رکھنے کی اجازت ہو گی جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد دس تھی۔

پاکستان سپر لیگ کے لیے فرنچائزز حتمی کھلاڑیوں کا انتخاب دسمبر کے پہلے ہفتے میں کریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply