167

کشمیر کے بعد ۔۔۔تحریک ۔۔۔انصاف کا قتل

کشمیر کے بعد ۔۔۔تحریک ۔۔۔انصاف کا قتل
امریکا میں کشمیر اور قطر کے بلینک چیک نے پاکستان میں انصاف کا کھنڈے استرے سے قتل کیا
کپتان نے امریکا میں انکار کیا ویسے ہی قطری شہزادے کو انکار کیامگر مالکوں نے دونوں مرتبہ ہاں کی
جمعہ کی مبارک ملاقات نے دو بڑوں کے درمیان صلح بھی کروا دی سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی بچ گئی
ابھی کشمیر کے سودے بازی کی افواہ ساز فیکٹریاں بند نہیں ہوئی تھیں کہ سابق وزیر اعظم بارے لوہار(لاہور) ہائی کورٹ کے فیصلہ پر پھر سے مختلف چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہے اور جس انداز میں اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ نے انْصاف کی فائیلوں کو پہئے لگائے سوشل میڈیا پر ایک طوفان بدتمیزی شرع ہو گیا ہے اور عدلیہ اور خاص طور پر اسلام اآباد اور لاہور ہائی کورٹ کے متلق ایسی ایسی پوسٹیں لکھی جا رہی ہیں کہ لوگ بھارتی سپریم کورٹ کے بابری مسجد کے متعلق فیصلے کو بھول گئے ہیں اور پھر سے بھٹو کے عدالتی قتل جیسے کیسوں کی مثالیں دی جانے لگی ہیں
افواہ ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جس کا مجھے زرا برابر یقین نہیں اور نا میں اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ جب قطری شہزادہ پاکستان آیا تھا تو اس نے بھی یہی بات کی تھی جو آج لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے لیکن ان لوگوں کے بقول کپتان نے صاف انکار کر دیا تھا اور یہی کہتے ہیں افواہ ساز کہ۔۔ جب شہزادہ آیا تھا تو کپتان اسے خود گاڑی چلا کر لے کر آیا تھا گارڈ آف آنر بھی ہوا ور جب جے ایف تھنڈر سلامی دے رہا تھا اس وقت قطری شہزادے نے کپتان کے کا ن میںیہ فرمائش کی لیکن کپتان نا مانے جس پر شہزادہ ناراض بھی ہوا جس کے بعد انہیں کسی وزیر نے نہیں بلکہ زلفی بخاری نے رخصت کیا جس کے بعد شیخ رشید کی وہ باتیں یاد کروائی جاتیں ہیں کہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ قطر والوں کی مہربانی ہے کہ انہوں نے وعدے کے مطابق اربوں ڈالر بجھواد یئے لیکن شیخ صاحب کہتے ہیں کہ مجھے کوئی یقین نہیں تھا کہ وہ پیسے جا کر دینگے
پھرافواہ ساز فیکٹریوں کے بقول انہوں نے اصل مالک کو بلایا ریڈ کارپٹ استقبال کیا اور پھر ایک بلینک چیک بھی رکھ دیا اور یہ بھی کہا کہ جو پہلے رقم دی ہے وہ بھی واپس نہ کریں لیکن ان کے بندے کو باہر جانے دیں جس پر کہتے ہیں کہ مالک مان گئے جس کے بعد جو باتیںغلام سرور خان نے کہیں تھیں وہ ڈرامہ کیا گیا لیکن اس سے پہلے کہتے ہیں کہ میاں جی نہیں مان رہے تھے اور چھوٹے بھائی کی بھی نہیں مانی جس کے بعد اصل مالک کی والدہ جاتی عمرہ گئیں اور انہیں منایا اور ساتھ ہی اس بات کی بھی گارنٹی لی گئی کہ وہ تین سال کے لئے بیرون ملک جائینگے انکی بیٹی اس دوران مزاہمتی سیاست کی بجائے مفاہمتی سیاست کرینگے الیکشن کے سال وہ واپس آئینگے اور پھر صرف ووٹ کی عزت کی باتی کرینگے کھل کر سیاست کی جاے گی آخری سال پھر منصفانہ الیکشن کی راہ ہموار ہو گی پھر جسے عوام چن لیں جس کے بعد میاں صاحب نے اپنی والدہ کے سامنے سر خم کیا اور پھرمیاں صاحب نے اپنی ولی عہدہ کو بھی منایا اور پھر وہی ہوا جو چوہدری غلام سرور نے کہا اور پھر رپورٹس کے پلیٹ لیس کے ساتھ ساتھ اعتماد کے پلیٹ لیس بڑھائے گئے اور پھر دنیا کی تیز ترین انصاف مشین نے اپنا کام کیا حکومت سے زندگی کی گارنٹیاں بھی مانگی گئیں ایسے میں کپتان کو جب پتہ چلا تو انہوں نے اپنی رپورٹس منگوائیں اپنی وزیر صحت اپنی خفیہ ایجنسیوں سے بھی جب انہیں یہ رپورٹ ملی کہ وہ اتنا نہیں جتنا کہا جا رہے ہیں بیمار ہیں لیکن وہ ہیں بیمار تو کپتان مانے ضرور لیکن وہ قطری معاہدے سے ناراض تھے یہی وجہ تھی کی دودھ میں مینگینیں ڈالنے کا کام شروع ہوا ادھر میاں صاحب بھی شولڈر والوں کی اشیر باد سے شیر ہو گئے انہیں پتہ تھا کہ جو ہمیں سزائیں دلوا سکتے ہیں وہ ضمانت بھی دلا سکتے ہیں اس لئے وہ اکٹر گئے اور پھر جب دال نہیں گل رہی تھی تو پھر سب افواہ ساز فیکٹریا ں کڑیو ں سے کڑیاں ملاتی ہیں کہ پھر جمعہ کے مبارک دن دو بڑوں کی دو ماہ بعد ملاقات ہوتی ہے گلے شکوے ہوتے ہیںاور کپتان اس بات پر راضی ہوئے کہ ابھی ایک بھٹو کا عدالتی قتل جان نہیں چھوڑ رہا اگر جیل یا پاکستان میں میاں صاھب کو کچھ ہو گیا تو پھر ہ پارٹی زندہ ہو جاے گی اور پھر کپتا ن مان ہی جاتے ہیں اور پھر وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے لیکن میری عقل نہیں مان رہی کیونکہ وہ مارتے بہت ہیں بلکہ مارتے کم گھسیٹے بہت زیادہ ہیں اس لئے میں ان افواہوں پر کان نہیں دھرتا اور یہ کہتا ہوں کہ کپتان کی نیک نیتی ہے کہ ایک ہی ہفتہ میں انہیں مولانا سے بھی اور اپنے روائتی سیاسی حریفوں سے بھی چھٹکارہ مل گیا ہے اور س لئے شہبا ز میں مرکز اور پرویز الہی کہ پنجاب میں بڑی پگ کی امیدیں دم توڑ گئیں ہیں
کہتے ہیں کسی گاوں میں ایک بندے کے پاس جلا ہوا چارہ تھا جو فروخت نہیں ہو رہا تھا جبکہ دوسرے گاوں میں ایک شخص کی بھینس تھی جو کافی دنوں سے بھوکی تھی پھر دونوں کا سودا ہو جاتا ہے اور دونوں ہی خوش ہو جاتے ہیں ایک کہتا ہے کہ میرا چارہ فروخت ہو گیا جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ میری بھینس کا پیٹ بھر گیا مجھے تو یہ صرف ایسا لگتا ہے ان افواہ ساز فیکٹریوں میں تو کوئی دم خم اور حقیقت نہیں
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply