61

جس دن میں پیدا ہوا اس دن ’’ڈر‘‘ کی چھٹی تھی

لاہور (ویب ڈیسک) ہم عورتوں کو مرد بتائے گا کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ؟ یہ سوال عورتوں کی آزادی کی علمبردار عورتیں اٹھاتی ہیں۔اے عورت تم نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا تمہیں یہ سب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی بتایا ہے اور اگر باپ

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے کالم میں لکھتی ہیں۔۔۔۔۔ اور شوہر نے بتایا تو کیا جرم کر دیا ؟پاکستانی ڈرامے ‘‘میرے پاس تم ہو ‘‘ کو چند عورتوں نے متنازعہ بنانے کی کوشش کی اس کا سبب نا شکر گزار عورت کی سر زنش ہے۔ رائٹر نے اس ڈرامے میں عورت ہی نہیں مرد کی تربیت کرنے کی کوشش بھی کی۔پاکستان میں دنیا بدل رہی ہے۔زمانہ بدل رہاہے۔مطالعہ کا دور ختم ہو رہا ہے۔اب سوشل میڈیا اور ڈراموں کا دور ہے۔ تبلیغ کے انداز بھی بدل رہے ہیں۔ بات سمجھانے پیغام پہنچانے کے لئے وسائل بھی وہی استعمال کرنے پڑتے ہیں جن کا رواج ہو۔ پاکستانی ڈرامے اپنی ایک شناخت رکھتے تھے مگر ٹی وی چینلز کی بھرمار میں ڈراموں کا معیار گرنے لگا۔ اس ماحول میں خلیل الرحمان قمر جیسے لکھاری نے ڈرامے کو ایک نئی سمت دی۔ پاکستان سے زیادہ پردیس میں ڈرامے دیکھے جاتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم

پاکستانی اپنا دل ڈراموں سے بہلاتے ہیں۔ حقائق پر مبنی ڈرامے مقبول ہوتے ہیں مگر جو مقبولیت حال ہی میں ‘‘میرے پاس تم ہو ‘‘ کو ملی اس نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ ڈرامہ رائٹر ڈائریکٹر شاعر خلیل الرحمان قمر سے ان کی رہائشگاہ پر تفصیلی اور تسلی بخش ملاقات ہوئی۔ ان کا ریکارڈ توڑ ڈرامہ دو ٹکے کی لڑکی کی لائن کے سبب متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی اور کچھ ٹی وی اینکرز نے ریٹنگ کے لالچ میں تنازعہ کو فساد کی صورت دینے کی کوشش بھی کی لیکن ایسی تمام آوازیں ڈرامہ کی مقبولیت میں دب کر رہ گئیں۔ خلیل نے درست کہا کہ یہ موم بتی والی چند عورتیں پاکستانی عورت کی نمائندہ ہر گز نہیں بلکہ وہ انہیں عورت ماننے کے لئے ہی تیار نہیں۔

دوران گفتگو خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ میں متعصب شخص نہیں کہ ڈرامہ لکھتے وقت مرد عورت میں تفریق رکھتا۔ میں ہی تو عورت کی عزت و احترام جانتا اور مانتا ہوں مگر ڈرامہ لکھتے وقت مجھے علم نہیں تھا کہ میں کس قسم کی عورتوں کو چھیڑ بیٹھا ہوں۔ مجھے اس ذمہ داری کا احساس اس دن ہوا جس دن مجھے اس ملک کے سب سے بڑے رائٹر ناصر ادیب صاحب کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ اب پیچھے نہ ہٹنا ، یہ وہ کام ہے جو ہم بھی نہیں کر پائے ، یار تو چھپڑ میں پتھر پھینک چکا ہے ، چھپڑ میں پتھر پھینکو تو صرف لہریں نہیں اٹھتیں بدبو بھی اٹھتی ہے۔خلیل نے کہا میں ایک گناہگار آدمی ہوں جیسا بھی ہوں لیکن بے حیائی کے ایجنڈے پر کسی کو کام نہیں

کرنے دوں گا۔مجھے خدا کی ذات کے سواکسی سے ڈر نہیں لگتا۔ اس دن ڈر کی چھٹی تھی شاید جس دن مجھے پیدا کیا گیا۔علامہ اقبال اور مرزا غالب اور میرے حوالے سے بھی میرے جملے کو منفی رنگ پہنایا گیا ، اس ملک میں جاہلوں کا ٹولہ حسد کی بنا پر لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات سمجھنے والی ہے کہ تخلیقی لوگ کبھی ایک دوسرے سے چھوٹے بڑے نہیں ہوتے۔ وہ یکتا ہے جو اورپر بیٹھا ہوا ہے ، وہ دینے والا ہے تو جو اپنے نور کی بوندیں عطا کرتا ہے جب کسی کو نوازتا ہے تو ساتھ اسے یکتائی عطا کرتا ہے۔ علامہ اقبال اپنے کام میں یکتا تھے غالب اپنے کام میں یکتا تھے ساغرصدیقی اپنے کام میں یکتا تھے فیض احمد فیض اپنے کام میں یکتا تھے۔ میں اپنے کام میں یکتا ہوں۔ آپ مجھے برا کہہ لیجئے لیکن یکتاء پر اعتراض یا حسد نہ کیجئے۔ ‘‘میرے پاس تم ہو ‘‘ڈرامہ کے بعد میری تربیت ہوئی ہے وہ اس طرح کہ میں جب اپنے ملک کے مسائل کے بارے میں سوچا کرتا تھا تو میرا بھی یہی خیال تھا کہ اس ملک میں سلیبس ایک ہونا چاہئے ورنہ ھمارے فطری اتحاد پر کاری ضربیں لگتی رہیں گی۔

لیکن میں نے جو منظر دیکھا کہ یہاں تو کچھ لوگ اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ اس آدمی کو اللہ نے کچھ دیا ہوا ہے تو یہ کہاں پہنچیں گے ایک سلیبس کے اوپر ؟ یہ گلوبل ویلج جو بن گیا ہے اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ باہر کا ویلج اور کلچر ہمارے ویلج اور کلچر پر حاوی ہو جائے۔وہ چند پینتیس چھتیس عورتیں جو دماغی طور پر ہلی ہوئی ہیں ان کے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے ان سے کیا بحث کی جائے۔میرے ڈرامے کا مقصد مرد کی اصلاح تھا کہ اگر عورت ساتھ نہیں رہنا چاہتی ، بے وفائی کی مرتکب ہے تو اس کو مارنے پیٹنے یا تیزاب پھینکنے جیسے مکروہ فعل کی بجائے اسے آزاد

کر دیا جائے۔۔۔ خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ یہ تنازعہ اب جہاد کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ وہ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ معاشرے کی کمزوریوں کو ہائی لائٹ کرتے رہیں گے۔ عورت کی آواز تو میں ہوں کہ عورت بے وفا بھی ہو تو مرد کو اس کے ساتھ ظلم زیادتی کی اجازت ہر گز نہیں۔ تمام ڈرامے مردوں کے خلاف بنائے جاتے ہیں۔ پہلی مرتبہ عورت کی غلطی کی نشان دہی کی گئی تو عورت کو ورغلانے والی تڑپ اٹھیں ؟خلیل صاحب اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ خدا نے لکھنے کی صلاحیت سے نوازا ہے تو شہرت اور قبولیت بھی عطا کر دی۔ معاشرے کی اصلاح اور رہنمائی جس طور بھی ہو سکے قابل ستائش ہے۔ ڈیجیٹل دور کی نسل کو سمجھانے بچانے کے لئے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرنا نا گزیر ہو چکا ہے۔

در حقیقت دو ٹکے کی لڑکی اور گھٹیا مرد کو بے نقاب کر کے خلیل الرحمان قمر نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا۔ عورت کو اکسانے والیوں نے اپنے گھر وں میں مرد دیکھا ہی نہیں ، دیکھا ہوتاتوگھر وں کوتوڑنے کا پیشہ اختیار کرنیْکی ضرورت پیش نہ آتی۔ بیچاریاں نہ مرد بن سکیں نہ ہی عورت کہلا پائیں۔ لفظوں سے عورت کی وکالت آسان ہے جبکہ عورت ہی عورت کی دشمن ساس بہو سوتن کبھی محبوبہ تب عورت کی حمایت کیوں مر جاتی ہے ؟ عورت نے بیٹی کی تربیت کی ہوتی تو آج مرد کو دو ٹکے کی لڑکی کے منہ پر طمانچہ رسید نہ کرنا پڑتا۔عورت مرد کی برابری پر اکسانے والیاں گورڈن کا بوجھ بھی ہلکا کریں۔ گورکن پوچھ رہا تھا مردے اٹھانے دفنانے میں شانہ نشانہ ذمہ

داری کب اٹھائی جائے گی ؟ جسمانی محنت مشقت کی بھاری ذمہ داریاں اور بوجھ مرد اٹھائے اور یہ تیس پینتیس موم بتی والی آزادی نسواں والی کے مغربی فنڈز پر بینرز اٹھائے پھرتی ہیں۔چار کتابوں کا حوالہ دے کر انفرادیت چاہتی ہیں لیکن کتاب ایک ہی سب پر بھاری ثابت ہوئی جس میں رب نے مرد کو عورت پر ایک درجہ فوقیت دے کر فتنہ کا منہ بند کر دیا۔ پاکستانی معاشرہ مغرب کے اصول بھی نہ اپنا سکا اور مشرقی اقدار بھی کھو رہا ہے۔ مکمل عورت وہی ہے جو اپنے شوہر کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا قرار ہے باقیوں کے لئے ایک ڈرامہ کافی نہیں بلکہ اب یہ ایک جہاد کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply