74

امام کعبہ شیخ سدیس کے عہدے کی مدت میں توسیع

امورِ مسجد حرام ومسجد نبوی کے صدر عام کے طور پر عزت مآب شیخ سدیس کے عہدے کی مدت میں توسیع کا شاہی فرمان خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود – حفظہ اللہ – نے امورِ مسجد حرام ومسجد نبوی کے صدر عام کے طور پر عزت مآب شیخ سدیس کے عہدے کی مدت میں توسیع کا شاہی فرمان جاری کیا۔ اپنی جانب سے امور ِمسجد حرام ومسجد نبوی کے صدر عام عزت مآب شیخ پروفیسرڈاکٹرعبدالرحمن بن عبد العزیز السدیس نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز – حفظہم اللہ – کی

سربراہی میں چلنے والی نیک قیادت کا اس گرانقد اعتماد پر شکر یہ ادا کیا کہ اس قیادت نے معزز شاہی فرمان صادر کرکے وزیر کے مرتبے پر بحیثیت صدر عام امور مسجد حرام ومسجد نبوی, ان کے عہدےکی مدت میں مزید چار سالوں کی توسیع کی ہے،اس موقع پر عالی جناب نے اس بات کی وضاحت کی کہ رئاسہ کو سربراہانِ مملکت کی جانب سے کافی اہتمام وتوجہ حاصل ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس اہتمام وتوجہ سے اس ادارہ کو نیک قیادت- اللہ اس کی تائید فرمائے-کی درست ہدایات اور عمدہ نگرانی کے تحت اپنی ذمہ داریاں آسانی وسہولت کے ساتھ ادا کرنے میں مدد ملی ہے۔ یہ قیادت لگاتار پوری رہنمائی اور نگرانی کرتی رہتی ہے جس سے ہم میں اور رئاسہ عامہ کے اسٹاف میں بہتر کارکردگی اور مزید محنت وکوشش کرنے اورقیادت کی تمناؤں کے مطابق حرمین شریفین اور ان کے زائرین کی خدمت کرنے کی روح پنپتی ہے، خاص طور پر وہ تمام خدمات ولوازمات مہیا کراتی ہے, جن سے رئاسہ او راس کے ملازمین کو اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ پیش کی جانے والی کاوشوں اور کارکردگیوں کی بہتر مثال وہ تاریخی توسیعی کارنامے، انتظامی، علمی، تعلیمی اور امنی امور کی تشکیل وتنظیم،بھیڑوں کو منظم کرنے اور ٹکنالوجی کا بہتر استعمال کرنے جیسے امور ہیں۔ یہ ممتا ز خدمات کئی سرکاری , نجی اور رفاہی ادارے پیش کررہے ہیں،یہ عظیم اہتمام اور عظیم پراجیکٹس وہ مہم ہیں,جس کی شروعات اس پیارے ملک کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود-طیب اللہ ثراہ- نے کی تھی اور ان کے بعد ان کے فرماں بردار فرزندوں اور اس ملک کے باد شاہوں – رحمہم اللہ –نے مکمل کیا اور اس کا سلسلہ اس تابناک عہد , خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اوران کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز – حفظہم اللہ – کے عہد تک جاری ہے۔عالی جناب نے اپنا بیان اس دعا والتجا کے ساتھ ختم کیا کہ باری تعالی انہیں ہر اس چیز میں مدد وتوفیق سے نوازے جو ہمارے دین اور پیارے ملک کے مفاد میں ہو اور جس سے نیک قیادت کی تعلیمات پر عمل در آمد اور اس کی امیدوں کی تکمیل ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply