48

شریفوں کے دور میں زمینیں اور پلاٹ کیسے راتوں رات اپنی جگہ سے کھسک جاتے تھے

لاہور (ویب ڈیسک) لطف کی بات یہ ہے کہ بات بے بات بگڑ جانے والے عوام دوست‘ہر مہینے نئے مارچ والے قوم پرست ‘ ہر روز نیا احتجاج اور ہر موضوع پر جدید دھرنے سجانے والے حریت پسند پاکستان کے اثاثے لُٹ جانے پر خاموش ہیں۔ سچ بات یہ ہے کہ خاموش تماشائی ۔

نامور کالم نگار بابر اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ایسے تماشائی جو پُرکھوں کی لٹتی کمائی کو شیرِمادر سمجھتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کراچی کیلئے نیا پلان بنانے کا عندیہ دیا۔ سول انجینئرز ‘ ٹریفک ماہرین اور ٹائون پلانرز سے مدد لے کرشہرِپاکستان کو دنیا کے جدید شہروں کے برابر لانے کاحکم بھی۔ یہ سارے جوڈیشل اقدامات اور عدالتی احکامات ہیں۔ ایک ڈیوٹی اس سے سِوا بھی مگر لازماً ادا کرنا ہو گی‘ ملک کے شہریوں کو ۔جو اس لُٹی جاگیر کے اصل وارث ہیں‘ بلکہ پاکستانی سماج کو بھی۔ موم بتی گروپ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غیر ملکی این جی اوز کے فنڈز ایجنڈے کے علاوہ بھی کچھ سر گرمی کر دکھائیں۔ چند ماہ پہلے پنجاب کے ضلع ساہیوال میں36سال تک صوبہ داری کرنے والی شریف فیملی کے قبضے سے 37سال بعد 36کنال سرکاری زمین واگزار کروائی گئی۔ یہ لاوارث پاکستانی زمین اتفاقیہ طور پر دوڑتی ہوئی اتفاق شوگر ملز میں گھس گئی تھی۔ اسی طرح اسلام آباد میں گزشتہ ایک سال کے عرصے میں 83ہزارکنال قیمتی ترین سرکاری زمین قبضہ مافیا سے چھڑوائی گئی‘ مگر حرام ہے سرکار کی تنخواہ پہ پلنے والے شرمیلے‘ لچکیلے اور ڈھیلے بلکہ معذور و مجبور اداروں نے نیشنل لینڈ بینک لوٹنے والے کسی ڈاکو کو ہتھکڑی لگائی۔2018-19ء چھوڑ کر پچھلے دس سال سردیوں میں گیس کی شدید لوڈ شیڈنگ ہوئی‘جس پہ احتجاج متشدد مظاہرہ بن جاتا۔مار دھاڑ ‘ جلائو گھیرائو ‘آتش زنی سے بھرپور گیس کمپنیوں کے دفاتر اور تنصیبات پر باقاعدہ Mob attacksہوئے۔ اب کے سال پونم میں چولہے جلے ‘ فیکٹریاں اور سی این جی سٹیشن بھی چلے‘ مگر کمال ہے آزاد میڈیاکو یہ خبر ملی ہی نہیں ۔ بجلی کی لوڈ مینجمنٹ میں بھی ٹرننگ پوائنٹ آیا‘ لائین لاسزاور بڑی بجلی چوری پہ کنٹرول کر کے‘

اسے بھی کسی نے قابلِ اشاعت خبرنہیں جانا۔ بالکل ویسے ہی جیسے سنٹرل لندن میں شہباز شریف کے علاج ِ غمِ دوراں والی تازہ ویڈیو یار لوگ پی گئے۔ کراچی کی بظاہر معتبر ہستیاں تجاوزات کے حق میں سرگرم ہیں۔ شاعر نے انہیں یوں تاڑا۔؎زاہد کی سُرخ آنکھوں سے معلوم ہو گیا،،،رندوں سے جو بچی تھی وہ حضرت نے نوش کی۔(ش س م)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply