61

ڈیجیٹل کمپنیوں نے حکومت سے ڈیجیٹل میڈیا لاز پر نظرثانی کا مطالبہ کردیا

 ڈیجیٹل کمپنیوں نے حکومت سے ڈیجیٹل میڈیا لاز پر نظرثانی کا مطالبہ کردیا، نئے قوانین سے صارفین کے ذاتی تحفظ اور پرائیویسی کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، آن لائن ریگولیشن قوانین کو دوبارہ دیکھا جائے . تفصیلات کے مطابق انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں نے حکومت پاکستان کے ڈیجیٹل لاز پر نظرثانی کا مطالبہ کردیا ہے .

ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کی جانب سے حکومت کے آن لائن لاز کو ریگولیٹ کرنے کے اقدامات پر تحفظات کا اظہار سامنے آیا ہے. اس حوالے سے آے آئی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز اور انڈسٹری کے ساتھ مشاورت کیے بغیر وسیع پیمانے پر آن لائن قواعد کا ایک مجموعہ جاری کرنے پر ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کو گہری تشویش کا سامنا ہے. انھوں نے کہا کہ یہ قواعد اظہار رائے کی آزادی کو مجروح اور شہریوں کے ذاتی تحفظ اور پرائیویسی کو خطرے سے دوچار

کردینگے. ہم حکومت حکومت سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ان قوانین پر نظرثانی کرے جو ممکنہ طور پر پاکستان کے ڈیجیٹل اکانومی کے عزائم کو نقصان دہ ثابت پہنچا سکتے ہیں. واضع رہے حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل میڈیا لاز متعارف کروائے گئے تھے قانوی مسودے کے مطابق تمام عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی تین ماہ میں پاکستان میں رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے. ذرائع کا کہنا ہے کہ یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر، ٹک ٹاک، ڈیلی موشن سمیت تمام کمپنیاں تین ماہ میں رجسٹریشن کرانے کی پابند ہوں گی.مسودے میں تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے تین ماہ میں اسلام آباد میں دفتر قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے. وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام کا کہنا ہے کہ قوانین کو الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا حصہ بنادیا گیا،

جس پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے. حکام نے تصدیق کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے، انٹیلی جنس ادارے قابل اعتراض مواد پر کارروائی کرسکیں گے.ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام عالمی سوشل میڈیاپلیٹ فارمز اور کمپنیوں پر پاکستان میں رابطہ افسر تعینات کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے جبکہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور کمپنیوں کو ایک سال کے اندرپاکستان میں ڈیٹا سرور بنانا ہوں گے.قومی اداروں، ملکی سلامتی کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوسکے گی. ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نیشنل کوآرڈی نیشن اتھارٹی بنائی

جائے گی، جو ہراسگی، اداروں کو نشانہ بنانے، ممنوعہ مواد کی شکایت پر اکائونٹ بند کر سکے گی.اتھارٹی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ویڈیوز نہ ہٹانے پر ایکشن لے گی اور اگر کمپنیوں نے تعاون نہ کیا تو ان کی سروسز معطل کر دی جائیں گی، رولز کو فالو نہ کرنے کی صورت میں پچاس کروڑ تک جرمانہ ہوگا.ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے قواعد میں ترمیم کردی جسے پارلیمنٹسے منظور کرانے کی ضرورت نہیں.ذرائع کے مطابق وزارت آئی ٹی کے سینئر حکام نے قانونی مسودہ کی منظوری کی تصدیق کردی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply