394

نیویارک قونصل خانہ یا کونسل کھانا

نیویارک قونصل خانہ یا کونسل کھانا
خاتون افسر نے شہریار آفریدی کی امیگریشن بحث کوحکومت مخالف ٹی وی چینل کو لیک کیا گیا
قونصل خانے سے حکومت مخالف چینل کے رپورٹر سے ٹائم سکوائیر سیر کی نجی تصاویر بھی لیک کی گئیں
خواجہ آصف کی سفارش پر تعینات خاتون افسر سیالکوٹ سے تعلق رکھنے ولی کمیونٹی کو ترجیح دینے پرمشہور ہیں
پوری دنیا میںقائم ملکوںکے سفارت خانے اپنے ملک کے شہریوں کو نہ صرف سہولیات فراہم کرنے کے لئے قائم کئے جاتے ہیں بلکہ سفارت خانے کی بنیادی ذمہ داریوں میں ملک کے عزت و قار میں اضافہ اورملک کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کی روک تھام کی بھی ذمہ داری سونپی جاتی ہے لیکن امریکا میں موجود نیویارک کاپاکستانی سفارت خانہ اور اسکی اعلی عہدیدار جہاں پاکستان کے شہریوں کو اذیت دینے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیںوہاں ملک پاکستان کو بدنام کرنے پرتلے ہوے ہیں اسکی چند مثالیں ایسی ہیں جن سے پتہ چل جاتا ہے کہ خواجہ آصف کی سفارش کی بنا پرتعینات سفارت کار نے کیسے حکومتی جماعت کے ایک وزیر کو تو بدنا م کیا لیکن انہیں یہ بھی پتہ نہیں چلا کہ اس خبر سے خواجہ آصف اور اسکی جماعت تو خوش ہو گی لیکن ملک کی کتنی جگ ہنسائی ہو گی
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہر یار آفریدی نیویارک کی مقامی تنظیم اوورسیرز پاکستانیز گلوبل فاونڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں شرکت کے لئے 15ستمبر کو جیسے ہی نیویارک ائیر پورٹ پر پہنچے تو امیگریشن حکام نے ان سے پوچھا کہ وہ پہلی مرتبہ امریکا آئے ہیں ان کا آنے کا مقصد کیا ہے جو ہر اس مسافر سے پوچھا جاتا ہے جو کسی بھی ملک میں داخل ہو اس سوال پر شہریار آفریدی نے جواب دیا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیر داخلہ اور وزیر اینٹی نارکوٹس کنٹرول رہ چکے ہیں جس پر انہیں دوسرے کمرے میں لے جایا گیا جہاں پندرہ سے بیس منٹ تک شہر یار آفریدی نے انہیں بتایا کہ وہ انہوں نے ڈرگ کنٹرول کے حوالے سے اور بطور وزیر داخلہ کی حیثیت سے کیا کیا کارنامے سرانجام بھی دیئے ہیں اور ساتھ ہی گلہ بھی کیا کہ اگر امریکا کا کوئی وزیر پاکستانی ائیر پورٹ پر آئے تو ایسی تفتیش اور سوالات سے آپ لوگوں پر کیا گزرے گی ایسے میں قونصل خانے کے افسر بھی پہنچ گئے اور شہر یار آفریدی وہاں سے روانہ ہو گئے اس بات کا صرف اس افسر اور خاتون اعلی افسر کو ہی علم تھا اور خاتون افسر جو پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینئر سیاستدان اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کی سفارش پر نیویارک تعینات ہیں انہوں نے یہ موقع غنیمت جانا اور یہ خبر ایک حکومت مخالف اخبار اور چینل کے رپورٹر جو مسلم لیگی کارکن کے شہرت رکھتے ہیں اور جن کو ابھی بھی قونصل خانے میں اعلی ترین پروٹوکول ملتا ہے کہ دی اور پھر اس چینل نے یہ خبر بریک کی کی شہریار آفریدی کو تین گھنٹے تک امیگریشن حکام نے روکے رکھا اور بڑی مشکل سے سفارت خانے کے مداخلت سے انہیں امریکا داخل ہونے کی اجازت دی گئی حالانکہ یہ سارا واقعہ 15سے منٹ کا ہے جس میں زیادہ دیر وفاقی وزیر کی بلا وجہ تکرار سے ہوئی اور امیگریشن حکام غور سے شہر یار آفریدی کے گلے شکوے سنتے رہے لیکن رپورٹر کو یہ خبر دی گئی ہے کہ تین گھنٹے روکے رکھا گیا اور پھر فوٹو شاپ کے ساتھ شہر یار آفریدی کی ایک بیہودہ پینٹ اتارتے ہوئے تصویر بھی شیئر کی گئی
ایک اور واقعہ میں پاکستان سے گئی ایک خاتون صحافی جو دفتر خارجہ کی بیٹ رپورٹر بھی ہیں کو فون کر کے 24ستمبر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس میں بلایا گیا اورپریس کانفرنس شروع ہونے سے چند لمحے قبل خاتون صحافی کو قونصل خانے کی حدود سے نکل جانے کا کہا گیا جس پر خاتون صحافی جنہیں ایک روز قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کی رہائش گاہ سے بھی بلا کر گھر سے نکال دیا گیا تھا زاروقطار رونے لگے جس پر پریس کانفرنس شروع ہونے پر پاکستان سے گئے صحافیوں نے واک آوٹ کیا لیکن بعد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی معذرت اور اس واقعہ کی تحقیقات کے وعدے پر تمام صحافی پریس کانفرنس میں واپس ا گئے لیکن پاکستان سے گئی خاتون صحافی کی سسکیوں سے سارا ماحول رنجیدہ ضرور رہا
ایسے ہی معلوم ہوا ہے کہ قونصل خانہ جو اب سیالکوٹ کونسل کھانا کے نام سے مشہور ہے میں صرف سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کی خاطر تواضع کا مرکز بن کر رہ گیا ہے جبکہ مقامی پاکستانی کمیونٹی اس رویہ سے بہت نالاں ہے اور دہائیوں سے امریکا اور خاص طور پر نیویارک اور گردونواح میں مقیم پاکستانی قونصل خانے کے اس رویہ مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ کونسی تبدیلی سرکار ہے جہاں مخالف سیاسی جماعت کے سینئر سیاستدان کی سفارش پر گئی خاتون افسر نے احسانات کا بدلہ چکانے کے لئے شر یار آفریدی کو تو بدنام کیا لیکن انہیں یہ پتہ نہیں چلا کہ اس سے ملک پاکستان کی کتنی بدنامی ہوئی۔
ایسے میں صرف نیویارک نہیں دنیا میں جہاں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو ملک اور اس ملک کے شہریوں کو سہولیات نہیں دیتے ان پر کاروائی ہونی چاہئے اور قونصل خانوں کو درست معنوں میں پاکستانی کمیونٹی اور پاکستان کے تشخص کی بہتری کے لئے کام کرنے کی ہدایت جاری کی جانی چاہئے
کالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں