451

پاکستان کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے 5500 اضافی دستوں کی تعیناتی پر تشویش کا اظہ

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ قابض بھارتی افواج کشمیریوں پر ناقابل تصور جبر و استبداد اور مظالم ڈھا رہی ہیں جس میں پیلیٹ گنز کا استعمال، ’جعلی مقابلوں‘ میں ماورائے عدالتیں شہادتیں، جبری گمشدگیاں، عدل وانصاف کے منافی قید و بند کی صعوبتیں اور حراست کے دوران قتل کی بہیمانہ وارداتیں شامل ہیں۔

ترجمان کے مطابق بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ارتکاب پر مبنی دستاویزی شواہد پر مشتمل جامع ڈوزئیر پاکستان پہلے ہی عالمی برادری کے سامنے پیش کرچکا ہے جس میں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانیت کے خلاف ہونے والی وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کو قلم بند کیاگیا ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ فوج زدہ علاقے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ان اضافی دستوں کی تعیناتی سے کشمیری عوام پر جبر و استبداد اور مظالم میں مزید اضافہ ہوگا جہاں پہلے سے ہی 9 لاکھ سے زائد قابض فوج موجود ہے، کمیونٹی سینٹرز میں قابض بھارتی افواج کو رہائش دینا، شہروں میں اضافی مورچے بنانااور یومیہ بنیادوں پر کشمیری مردو زن کے ساتھ جارحیت ، بدسلوکی اورجامہ تلاشی بھی انتہائی قابل مذمت ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر بھارت پر زور دیتا ہے کہ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں اپنی ریاستی دہشت گردی اور ظلم روکے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فی الفور بند کرے، غیرانسانی فوجی محاصرہ ختم کرے اور غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج استصواب رائے کا حق استعمال کرنے دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں