196

برطانوی عدالت کا محمد بن راشد کو 733 ملین ڈالر سابق اہلیہ کو دینے کا حکم

لندن: برطانوی عدالت نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کو اپنے 2 بچوں کی پرورش کے لیے سابق اہلیہ شہزادی حیا بنت حسین کو 733 ملین ڈالر کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لندن کی ہائی کورٹ نے دبئی کے حکمراں محمد بن راشد المکتوم پر ان کی سابق اہلیہ اور اردن کے بادشاہ کی سوتیلی بہن حیا بنت حسین کے  دو بچوں کی تحویل اور کفالت کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں محمد بن راشد المکتوم کو سابق اہلیہ حیا بنت حسین کے لیے 554 ملین پاؤنڈ یعنی 733 ملین ڈالر کا برطانوی ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 251 ملین پاؤنڈ کی رقم تین ماہ کے اندر اہلیہ کو ادا کریں۔

عدالت نے فیصلے میں 14 سالہ بیٹی جلیلہ اور 9 سالہ زید کی تعلیم کے لیے 3 ملین پاؤنڈ اور 9.6 ملین پاؤنڈ بقایا جات کی مد میں فراہم کرنے کا حکم بھی دیتے ہوئے بچوں کی دیکھ بھال اور بالغ ہونے پر ان کی حفاظت کے لیے سالانہ 11.2 ملین پاؤنڈ ادا کرنے کے لیے کہا۔

ان رقوم کی فراہمی سیکیورٹی باؤنڈز کے ذریعے کی جائے گی جو HSBC بینک کے پاس رکھے ہیں۔ برطانوی فیملی کورٹ میں بچوں کی کفالت کا یہ سب سے بڑی رقم ہے اس کے باوجود یہ رقم شہزادی حیا بنت حسین کے 1.4 ارب پاؤنڈز کے تقاضے کے نصف سے بھی کم ہے۔

2004ء میں دبئی کے حکمراں کے ساتھ شادی کرنے والی شہزادی حیا بنت حسین 2019ء میں اپنی جان کے خطرے کے پیش نظر پہلے جرمنی پھر وہاں سے لندن پہنچیں اور برطانوی شہریت بھی رکھنے کے باعث بچوں کی تحویل کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا۔

شہزادی کے یوں اچانک فرار ہونے پر 63 سالہ نائب وزیراعظم محمد بن راشد غم زدہ ہوگئے تھے اور ایک نظم بھی لکھی جس میں اپنی اہلیہ کو بے وفا قرار دیا تھا۔ محمد بن راشد کے دیگر بیگمات سے 23 بچے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں