345

ایں کر، بی پر، ٹی کر۔۔۔میڈیا کی بربادی کے ذمہ دار ؟

ایں کر، بی پر، ٹی کر۔۔۔میڈیا کی بربادی کے ذمہ دار ?
اینکر ، بیپر اور ٹکر مافیا نے تحقیقاتی صحافت کا بیڑہ غرق بھی کیا اور اخلاقیات کا بھی?
بزنس ، تعلیمی، پراپرٹی،دونمبر مافیا نے اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے لئے میڈیا کا سہارہ لیا
اب چین، ترکی اور عرب ممالک جیسا میڈیا لایاجا رہا ہے جہاں پریس ریلیز ہی چھپے گی آئندہ
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم نے صحافت کا آغاز کیا تو جب ہم خبر لے کر جاتے تھے تو سب سے پہلے اسے رجسٹر میں درج کیا جاتا تھا اور ہمارے چیف رپورٹرخبر کو دیکھا کرتے تھے اور اس کی چھوٹی موٹی غلطی پر نوک پلک پہلے تو عزت سے کیا کرتے تھے اور اگر غلطی بڑی ہوتی تو ڈانٹ ڈپٹ بھی ہو جا یا کرتی تھی اس کے بعد آفس بوائے رجسٹر میں رکھ کر خبر ڈیسک پر لے جایا کرتا تھا اور ڈیسک پر موجود سب ایڈیٹر صاحب اسے دیکھ کر رپورٹرکی کلاس لیا کرتے تھے پھر وہ خبر چیف نیوز ایڈیٹر کے ہاں پیش ہوا کرتی تھی پھر جا کر فیصلہ ہوتا تھا کہ اس خبر نے فرنٹ پر چھپنا ہے بیک پر یا اندر والے صفحوں پر۔۔ وہ خبر سنگل کالم ہو گی یا دو کالم یا کورل لگے گا یا لیڈ لگے گی اس کا فیصلہ سی این ای کیا کرتے تھے ، متنازعہ خبر ہونے موقف بھی دیکھا جاتا تھا اور احتیاط بھی مدنظر ہوا کرتی تھی۔ اس دور میں سال میں ایک یا دو نوجوان کسی ایک دفتر میں رپورٹنگ میں نئے آتے تھے اور پھر کئی کئی ماہ تک بلکہ سالوں وہ رپورٹر جب پریس کانفرنس میں جایا کرتے سینئرز کا احترام مد نظر ہوتا تھا اور کسی جونیئر کی جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتایا کسی سینئر سے پہلے سوال کرتا یہ سلسلہ ہم نے دو ہزار دو تک دیکھا لیکن جب کارگل جنگ میں پاکستان نے زمینی فتح تو حاصل کر لی لیکن میڈیا پر ہم جنگ ہار گئے کیونکہ پاکستان کے پاس صرف پاکستان ٹیلی ویژ ن تھا لیکن بھارت کے پاس پرائیویٹ چینلز کی بھرمارتھی اور بھارتی چینلز نے پاکستان کے خلاف اتنا پراپیگنڈا کیا کہ وہ دنیا کو باور کروانے میں کامیاب ہوگیا ہے کہ پاکستان نے بھارتی سرزمین پر قبضہ کیا ہے اور پھر وہ چوٹیاں اور زمین جو پاکستان کے قبضہ میں تھی جب وہاں سے واپس آئے تو بھارتی سورماوں نے پھر قتل و غارت گری کی انتہا کر دی
ایسے میں فوجی انقلاب کی صورت میں جب جنرل مشرف اقتدار میں آ.ئے تو انہوں نے سب سے پہلے فیصلہ کیا کہ پاکستان میں بھی ٹی وی چینلز کی بھرمار ہونی چاہئے اور پھر پی ٹی وی کے تیسرے فلو ر کے ایک کونے والے کمرے میں ہماری آنکھوں کے سامنے پیمرا کی بنیاد رکھی گئی اور میاںجاوید کو پیمرا کا پہلا چیئرمین بنایا گیا اور موجودی چیئرمین پیمرا سلیم بیگ کو پیمرا کا پہلا پی آر او مقرر کیا گیا ، پھر مفت میں جلدی بازی میں کوڑیو ں کے بھاو ٹی وی لائسنس بانٹے گئے اور پھر ان ٹی وی چینلز کو سٹاف کی ضرورت پڑی تو پاکستا ن میں تو کوئی ادارہ نہیں تھا جہاں سے نیا سٹاف بھرتی کیا جاتا پھر انہی اخبارات سے موجودہ سٹاف ٹی وی چینلز میں شفٹ ہو ا اور کچھ نئے لوگ بھی بھرتی ہوئے پھر کیمرہ مین بھی نہیں تھے اور شادیوں کی فلمیں بنانے والو ں کو کیمرہ مین بھرتی کیا گیا ایسے میں اخبارات میں بھی سٹاف کی کمی ہو گئی اور پھر اس وقت جو بھی سی وی لے کر گیا اسے نوکری دے دی گئی
یہاں سے میڈیا کی بربادی کے سفر کا آغاز ہوا جو خبر تین چار ہاتھوں سے ہو کر ڈیسک پر پہنچتی تھی جس پر کئی کئی دن تک محنت اور تحقیقات ہوتی تھیں ان نئے بھرتی رپورٹر ز کے ہاتھ میں موبایل دے دیا گیا اور انہیں بیپر میں پورا اختیار تھا کو جو ان کے منہ میں آئے وہ کہہ دیں پھر ایک
دوسرے سے برتری لینے کی آڑمیں کسی خبر کی پوچھ گچھ نہیں ایسے میں میڈیا اتنا بے لگام ہو گیا کہ اس کو بہتر کرنے کی طرف کسی نے دھیان ہی نہیں دیا پھر میڈیا کی طاقت کو دیکھتے ہوئے تمام کاروباری لوگوں ، پراپرٹی مافیا، سکول کالج چلانے والوں ، سی این جی کا کاروبار کرنے والوں، گھی بنانے والوں یہاں تک کے جو تاجر کسی جرنلسٹ سے ملنے کو ترستے تھے انہوں نے ان کو اپنے پاس اچھا رپورٹر رکھ لیا
کاروباری لوگوں نے فنانس کی بیٹ کرنے والوں کو بھاری معاوضے پر، کرپٹ مافیا نے کرائم کی بیٹ کرنے والے ٹاپ کلاس رپورٹر کو چیف بنا لیا سکول کالج والوں نے تعلیمی بیٹ کرنے والو ں کو جن سے وہ خبریں لگواتے تھے کو ملازم رکھ لیا۔ تھوڑے سے سینئر صحافیوں کے علاوہ بدتمیزی کرنے والوں کو اچھے چہرے والوں اور والیو ں کو شوبز کے لوگوں کو اینکر پرسن یعنی ایں کر بنا دیا گیا کچھ نے تو کچھی ساری زندگی ایک لائن کی خبر بھی نہیں بنائی تھی پھر شام کو سات سے دس ایسا تماشہ لگایا جاتا کہ ہر پارٹی سے ایک ایک اتھرے سیاستدان بلا کر انہیں لڑا کر ریٹنگ بڑھائی گئی ۔
یعنی کسی نے سوچا ہی نہیں نہ پریس کلبوں نے نا حکومت نے کہ ان نئے آنے والوں کی کپیسٹی بلڈنگ (استعدار کار ) کیسے بہتر کرنی ہے پھر میڈیا کو خرید کر ینکرز(ایں کر)یعنی اس طرح کر کی بدولت میڈیا تقسیم ہو گیا اور سب کو پتہ بھی تھا کہ کس اینکر کی ڈور کہاں سے ہل رہی ہے اسی میڈیا نے پہلے اکبر بگٹی کو حکومتی رٹ کے نام پر مروایا پھر لال مسجد کا واقعہ کروایا جب تک اکبر بگٹی پر حملہ نہیں ہوا اس وقت تک اسے باغی بنا کر پیش کیا گیا ور پھر جب وہ مارے گئے تو انہیں شہید قرار دے کے بلوچستان کا بیٹرہ غرق کیا گیا پھر اسی طرح سب نے دیکھا کی لال مسجد واقعہ میں پہلے لال مسجد والوں کی طرف سے سی ڈی سنٹر جلائے جانے، اسلحہ ، ماسک ، اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں ، چینی مساج سنٹر ز اور حکومتی رٹ کے نام پر اکسایا گیا اور پھر جب آپریشن ہوا تو پھر جنہیں چند روز قبل دہشت گرد کہا جاتا تھا انہیں معصوم بنا کر پیش کیا گیا اور ملک بھر میں خود کش دھماکو ں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ۔ اس میڈیا نے اصلاح یا حب الوطنی کی بجائے چھوٹے چھوٹے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، خود کش دھماکوں کی لائیو کوریج کی گئی ۔ یہاں تک کہ اگر دہشت گردوں نے کسی جگہ پر قبضہ کیا اور پولیس مقابلہ شروع ہوا تو اسے بھی براہ راست پیش کیا گیا یہاں تک کہ اسلام آباد میں سکندر جیسے واقعہ کو براہ راست دکھا کر جگ ہنسائی کی گئی۔
لیکن پھر انہوں نے سوچا کہ اس میڈیا کو چینی ، ترکی ، یا عرب ماڈل پر کیو ں نہ چلایا جائے ان ممالک نے بھی آزاد میڈیا کے بغیر ترقی کی ہے اور پھر اس آزاد میڈیا کو جس نے اپنا احتساب نہیں کیا اپنے اندر بہتری نہیں لائی اس پر قدغنیں لگنی شروع ہوئیں تو اب کارکن بے روز گار ہونے شروع ہو گئے پھر بھی کسی نے ابھی تک سر نہیں جوڑا ایک دوسرے پر مشکل وقت اور اپنی اپنی جان بچانے کے سب درپے ہیں انہیں یہ نہیں پتہ کہ ان کی باری بھی آنے والی ہے۔ ایسے میں جو اشتہارات کی مد میں سیاسی رشوت پچھلی تین حکومتیں دیتی تھی وہ بھی غلط تھا اور جو موجود حکومت نے یک لخت میڈیا بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ بھی غلط ہے ۔ اب سٹیک ہولڈر ز کے چاہئے کہ اپنی باری کے انتظار سے پہلے اور لیٹنے سے پہلے سب سر جوڑ لیں اپنا اپنا احتساب کریں اور ملک کی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا کوڈ آف کندیکٹ بنایا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ جائے ورنہ پھر سعودیہ کی طرح ایک سرکاری خطبہ آیا کرے گیا اور چائنہ ڈیلی کی طرح کا انجمن ستایش باہمی کا ایک پرچہ سب کو تھما دیا جائے گا اور پھر جو ملک کی اور موجودہ حکومت کی جنتی تعریف کرے گا اسے ہی بزنس ملے گا اور اپنا کاروبارجاری رکھ
سکے گا۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں