0

اختر مینگل نے بنی گالہ جاکر عمران خان سے ملاقات سے انکار کردیا

اسلام آباد: تحریک انصاف نے وفاق میں حکومت سازی کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سے مددمانگ لی جب کہ اختر مینگل نے بنی گالہ جاکر عمران خان سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔

اسلام آباد میں تحریک انصاف کے وفد نے اختر مینگل سے ملاقات کی جس میں انہیں عمران خان سے ملاقات کی دعوت دی گئی۔

پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اخترمینگل نے کہا کہ اتحاد میں شمولیت کی دعوت پر تحریک انصاف کے وفد کا مشکور ہوں، پی ٹی آئی سے مثبت جواب ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تحریک انصاف کے سامنے بلوچستان کے مسائل رکھے، لاپتا افراد کی بازیابی اور سی پیک پر عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا ہے لہٰذا ہمیں مثبت جواب ملا تو ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

اختر مینگل کا کہنا تھاکہ ہم اس ملک کےحکمرانوں کے جلے ہوئے ہیں اس لیے احتیاط کریں گے، ہمارے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، لاپتا افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان کی وزارت اعلیٰ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ کسی کو وزیراعلیٰ نامزد کردیا جائے اور ہم آنکھیں بند کرکے حمایت کریں، جے یو آئی اتحادی ہے، حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ مل کر کرینگے۔

تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے مطالبات عمران خان کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ عمران خان پہلے لیڈر ہوں گے جو بلوچستان کے مسائل حل کرینگے۔

یار محمد رند نے کہاکہ اختر مینگل کے مطالبات عمران خان کے سامنے رکھیں گے، یقین ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد اختر مینگل کی جماعت اور ہم ساتھ چلیں گے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہےکہ اختر مینگل نے عمران خان سے بنی گالہ جاکر ملاقات سے انکار کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اختر مینگل نے کہا ہےکہ جسے ضرورت ہے وہ بلوچستان ہاؤس آکر انہیں ملے۔

ذرائع کا بتانا ہےکہ اختر مینگل کو گزشتہ روز جہانگیر ترین نے فون کرکے ملاقات کی دعوت دی تھی اور عمران خان کا آئندہ ایک دو روز میں اختر مینگل سے بلوچستان ہاؤس میں ملاقات کا امکان ہے۔

حکومت سازی کیلئے نمبر گیم

واضح رہے کہ تحریک انصاف کو وفاق میں حکومت بنانے کے لیے 137 نشستیں درکار ہیں جس کے لیے نمبر گیم جاری ہے۔

تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں 116 نشستیں ہیں جب کہ اس کی اتحادی جماعت (ق) لیگ کی اس وقت 4 نشستیں ہیں، اسی طرح پرویز الٰہی کے اسپیکر پنجاب اسمبلی بننے کی صورت میں (ق) لیگ کو قومی اسمبلی کی دو نشستیں چھوڑنا پڑیں گی جب کہ تحریک انصاف کے چیئرمین بھی قومی اسمبلی کی 4 نشستیں چھوڑیں گے جس کے باعث پی ٹی آئی کو نمبر گیم پورا کرنے کے لیے آزاد امیدواروں سمیت دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں