0

اس خاتون ڈاکٹر نے دنیا کو کرونا وائرس سے نجات دلانے کے لیے کیا ناممکن اور مشکل کام کر دکھایا ؟ جان کر عش عش کر اٹھیں گے

ایڈنبرا(ویب ڈیسک) خوفناک کورونا وائرس جب سے پھیلا ہے، دنیا بھر کے سائنسدان اس کا علاج ڈھونڈنے کی سعی کر رہے ہیں۔ ان میں سکاٹ لینڈ کی 42سالہ کیٹ بروڈرک نامی خاتون سائنسدان بھی شامل ہے جس کا کہنا ہے کہ جب سے کورونا وائرس آیا ہے وہ دن میں صرف 2گھنٹے سورہی ہے

اور باقی وقت تجربات میں گزار رہی ہے تاکہ کورونا وائرس کی کوئی ویکسین بنا سکے۔ میل آن لائن کے مطابق کیٹ بروڈرک امریکی شہر سین ڈیاگو میں واقع فارماسیوٹیکل کمپنی Inovio کے ساتھ منسلک ہے اور اب تک کئی طرح انفیکشنز کی ویکسینز بنا چکی ہے۔ اس شعبے میں اس کا 20سال کا تجربہ ہے۔ کیٹ نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ماضی میں پھیلنے والے’زِکا‘ اور مرس(Mers)جیسے وائرسز کی بھی کامیاب ویکسینز تیار کی تھیں۔ کیٹ کا کہنا ہے کہ ”میں نے اپنی ساری زندگی اسی طرح کی وباﺅں کے خلاف کام کرتے گزاری ہے اور کورونا وائرس کو روکنے کے لیے بھی میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہوں۔ میں کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کے لیے پوری تن دہی سے کام کر رہی ہوں اور رات کو صرف 2گھنٹے کی نیند لیتی ہوں تاکہ جلد از جلد اس جان لیوا وائرس کی ویکسین تیار کر سکوں۔“دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چین میں پھیلے پراسرار کورونا وائرس کے پیشِ نظر گوگل کے بعد ایپل نے بھی اپنے تمام دفاتر عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبول

ٹیکنالوجی کمپنی ایپل چین کے مین لینڈ میں اپنے تمام تر کارپوریٹ آفس، سٹورز، اور کانٹیکٹ سینٹرز کو 9 فروری سے بند کردے گی جب کہ آن لائن اسٹورز کھلے رہیں گے۔ مگر اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ فاکس کون کے زیر انتظام چلنے والی ایپل کی چینی فیکٹریاں بھی بند ہوں گی یا نہیں۔ اس سے قبل چین میں کورونا وائرس کے پیشِ نظر معروف سرچ انجن کمپنی گوگل نے بیجنگ میں موجود اپنا دفتر عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں