0

امریکہ نے پاکستانی فوج کی تربیت کیلئے پیسے مانگ لئے

امریکہ نے پاکستان کے لیے فوجی تعلیم و تربیت کی سہولیات بحال کرنے کے لیے کانگریس سے فنڈز طلب کرلیے۔اس ضمن میں جاری ہونے والے دستاویز کے مطابق مالی سال 2021 کے لیے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (آئی ایم ای ٹی) پروگرام کے لیے 10 کروڑ 49 لاکھ ڈالر کی درخواست کی۔
درخواست میں کانگریس کو بتایا گیا کہ امریکی قومی سلامتی کے اہداف اور خطے کے استحکام کے لیے آئی ایم ای ٹی فوجی اتحاد عالمی اتحادیوں کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت کارگر ثابت ہوا ہے۔واضح رہے کہ اس 10 کروڑ 49 لاکھ ڈالر میں سے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ایک کروڑ 27 لاکھ ڈالر جنوبی اور وسطی ایشیا کے فوجی افسران کی تربیت کے لیے مانگے جس میں سے 35 لاکھ ڈالر پاکستان کے لیے اس سہولت کی بحالی پر خرچ کیے جائیں گے۔
بجٹ تجویز میں کہا گیا کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں آئی ایم ای ٹی پروگرام خطے کے اتحادیوں کی دفاعی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت ، پروفیشنل فوجی تعلیم پر زور، قانون کی حکمرانی کا احترام، انسانی حقوق اور فوج کے سویلین کنٹرول پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انڈو-پیسفک حکمت عملی میں معاونت کرے گا۔بجٹ نوٹ کے مطابق اس سہولت میں امریکا کے ساتھ کام کرنے کے لیے شراکت داروں کی خدمات کی قابلیت کو بہتر بنانے کے لیے انگریزی زبان کی تربیت بھی شامل ہیں۔
حالانکہ اس درخواست میں جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کا پورا خطہ شامل ہے لیکن پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال کو ترجیحی وصول گنندگان قرار دیا گیا۔ یاد رہے کہ امریکی حکومت نے گزشتہ برس دسمبر میں پاکستان کے لیے فوجی تعلیم اور تربیت کی سہولیات بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ  مشترکہ ترجیحات پر باہمی تعاون کو بہتر بنانے کے لیے کیا جارہا ہے۔
آئی ایم ای ٹی پروگرام کا انتظام امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کرتا ہے جس کے تحت پاکستان اور دیگر ممالک اپنی افسران کو امریکی اداروں میں بھجواتے ہیں۔سرکاری مراسلے میں کہا گیا کہ جنوری 2018 میں معطل کیے گئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجاز سیکیورٹی امدادی پروگرام کے لیے محدود استثنیٰ کا اعلان کیا گیا جو امریکی قومی سلامتی کے وسیع مفادات کی حمایت کرتا ہے او اس سے پاکستان کے لیے کچھ پروگرام دوبارہ شروع کیے جانے کے مواقع پیدا ہوگئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں