0

آصف زرداری کی گرفتاری کیلئے چیئرمین نیب کو درخواست

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اپنی نجی کمپنی کو 15 کروڑ روپے کی منتقلی کے کیس میں گرفتار کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔

جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے والے ایک نیب افسر نے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ کو بتایا کہ نیب ٹیم نے آصف زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری کے لیے چیئرمین نیب سے منظوری مانگی تھی۔

مذکورہ بینچ آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی سماعت کررہا تھا جس میں عدالت نے مایوسی کا اظہار کیا کہ نیب درست انداز میں عدالت کی معاونت نہیں کررہا۔

اس کے ساتھ عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس سے رقم کی منتقلی سے ان افراد کے تعلق کے حوالے سے ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر پراسیکیوشن اور تفتیشی ٹیم کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرنے کا انتباہ بھی دیا۔

جب عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر کو وہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی، جس کی بنیاد پر سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ کو جعلی اکاؤنٹس سے منسلک کیا گیا تھا تو نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے دائر کردہ عبوری چالان میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ مذکورہ دونوں افراد اس جعلی اکاؤنٹ کے بینیفشری ہیں۔

جس پر آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپےکی منی لانڈرنگ کا دعویٰ کیا گیا اور پراسیکیوشن نے عدالت میں صرف 15 کروڑ روپے کے ثبوت فراہم کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ علاقے میں گنے کی پیداوار کرنے والے بڑے زمین دار ہیں جنہوں نے اپنی فصل اومنی گروہ کو فروخت کی اور رقم بینک کے ذریعے وصول کی۔

فاروق ایچ نائیک نے دعویٰ کیا کہ 15 کروڑ روپے کی رقم وہ ادائیگی تھی جو اومنی گروپ کی شوگر ملز کو گنے کی فصل فروخت کر کے حاصل ہوئی۔

اس پر عدالت نے جب استفسار کیا کہ ان اکاؤنٹس کو نیب نے کس طرح جعلی قرار دے دیا تو پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ یہ اکاؤنٹس مناسب طریقہ کار پر عملدرآمد کے بغیر کھولے گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں